چترال: چلم جوشٹ تہوار اس سال سیاحوں کے بغیر منایا گیا 

سال ہم چلم جوشٹ بڑے جوش و خروش سے مناتے تھے اور ہم بھی مردوں کے شانہ نشانہ ہوتے تھے، لیکن اس سال کرونا کی وبا نے کہیں کا نہیں چھوڑا: کیلاشی خاتون

یہ تہوار کیلاشی باشندوں کی جانب سے موسمِ گرما کی آمد کا جشن ہے (فتح اللہ) 

چترال سے تعلق رکھنے والے کیلاش قبیلے کا مذہبی تہوار چلم جوشٹ یا جوشی فیسٹیول ہر سال 14 مئی سے 17 مئی تک منایا جاتا ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی شرکت کرتے تھے، لیکن اس سال کرونا کی وبا کی وجہ یہ تہوار محدود پیمانے پر منایا گیا۔ 

کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنما چیف قاضی شیرزادہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ ہمارا مذہبی تہوار ہے جو 14 اور 15 مئی رمبور، 15 اور 16 مئی کو بمبوریت اور 17 مئی کو ایک دن بریر میں منایا جاتا ہے۔ 13 مئی کی رات سے جشن شروع ہوتا ہے۔ 16 مئی کی صبح چار بجے ہم اپنی عبادت گاہ میں جاتے ہیں اور صدقہ بھی دیتے ہیں۔ ہم  دعا کرتے ہیں کہ سال خیریت اور خوشی سے گزرے، جو مال مویشی ہم گرمی کے موسم میں پہاڑوں میں چھوڑ آتے ہیں ان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہر سال اس تہوار میں ہم بہت لطف اندوز ہوتے تھے لیکن پچھلے سال کی طرح اس سال بھی کرونا کی وجہ ہم خوف زدہ ہیں۔ حکومت کی طرف سے بتائے گئے ایس او پیز کو فالو کرنا ہے، اس لیے ہم نے یہ تہوار انتہائی سادگی سے منایا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیاحوں نے بھی تہوار میں شرکت نہیں کی۔ 

چیف قاضی نے کہا کہ ’اس جشن کے آغاز میں ہم اپنے گھروں سے تھوڑا اناج لے کر جاتے ہیں۔ اس کو چکی میں پیس کر آٹا بنا کر اُس آٹے کو ملوش (عبادت گاہ) لے کر جاتے ہیں۔ ملوش میں ہم ایک نابالغ لڑکے سے  چیڑ کی لکڑی جلوا کر آگ لگاتے ہیں۔ پھر تھوڑا دودھ اور آٹا اس میں ڈالتے ہیں اور ملوش میں بکرا ذبخ کرتے ہیں۔ اس کے بعد آٹے کی روٹی بناتے ہیں اور دودھ اور گوشت کے ساتھ کھاتے ہیں، اور دعا بھی کرتے ہیں۔‘ 

قاضی نے مزید کہا کہ ’اس تہوار میں ہم ڈھول بجاتے ہیں اور گیت گاتے ہیں، ناچتے ہیں۔ مل کر ان گھروں میں جاتے ہیں جن کے گھروں میں فوتگیاں ہوئی ہیں ان کے ہاں تعزیت کرتے ہیں، ان کو نئے کپڑے وغیرہ پہنا کر اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ اور ان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر خوشی مناتے ہیں۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیلاش میں شادی بیاہ کی رسوم

ہم نے چیف قاضی سے پوچھا کہ کیا کیلاش میں شادیاں کسی خاص تہوار پر ہوتی ہیں اور کیلاشی دستور کے مطابق کیا خاتون اپنی مرضی سے کسی مرد سے شادی کر سکتی ہے؟ 

اس سوال کے جواب میں قاضی شیرزادہ کہتے ہیں کہ ’اگلے وقتوں میں بچوں کی پیدائش کے ساتھ ان کی نسبت طے ہو جاتی تھی۔ لیکن اس سے مسائل پیدا ہو گئے، یعنی جب بچے بڑے ہو جاتے تھے تو بعض اوقات کسی اور کو پسند کرنے لگتے تھے۔ اس وجہ سے مشکلات پیدا ہونے لگیں۔ عام طور پر ہمارے ہاں بھی شادی میں پہلے منگنی ہوتی ہے پھر شادی۔ لیکن ہمارے بارے میں غلط تاثر یہ ہے کہ چلم جوشٹ میں لڑکے اور لڑکیاں بھاگ کر شادی کرتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ وہ کسی بھی وقت گھر سے بھاگ کر محبت کی شادی کرتے ہیں ان پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ وہ کسی تہوار یا جشن کے پابند نہیں۔ اس سے پہلے دو شادیاں رمبورمیں اور ایک بریر میں ہوئی ہیں، جنہوں نے بھاگ کر شادیاں کی ہیں۔ جب لڑکی اور لڑکا گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں۔ علاقے کے بڑے دونوں سے پوچھتے ہیں کیا انہوں نے شادی اپنی رضامندی سے کی ہیں؟ اگر ایسا ہے پھر لڑکی والوں سے بات کی جاتی ہے۔

’لڑکی والوں کا راضی ہونا ضروری ہے۔ اگر لڑکی والے راضی نہیں ہیں تو پھر شادی نہیں ہو سکتی۔ لڑکی کے باپ کو راضی کرنا پڑتا ہے، ان کے مطالبات ماننا پڑتے ہیں۔ اس سلسلے میں لڑکی کا باپ کسی بھی قسم کا جائز مطالبہ کرسکتا ہے۔ کم سے کم 20 بکریاں لڑکے کی طرف سے لڑکی والوں کو دینی ہوں گی۔ اس سے زیادہ جتنا اس کے بس میں ہو دے سکتا ہے۔ 

’شادی کے تین ماہ بعد لڑکے والے لڑکی کو لے کر اس کے گھر آتے ہیں۔ پھر جتنا لڑکی والوں کے بس میں ہوتا ہے وہ جہیز دیتے ہیں۔ لیکن لڑکی اپنے باپ کے گھر میں شوہر کے ساتھ ہم بستری نہیں کر سکتی۔ اس کو ہمارے مطابق برا سمجھا جاتا ہے۔ جو نا قابل قبول ہے۔ اگر ایسا کچھ ثابت ہو جائے تو لڑکی کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔‘

قاضی شیرزادہ  مزید کہتے ہیں، میں نے خود لڑکی بھگا کر شادی کی ہے۔ میری بیوی کا سابقہ شوہر عمر میں اس سے بہت بڑا تھا، اس لیے اس نے گھر سے بھاگ کر میرے ساتھ شادی کی۔ لیکن اس میں سابق شوہر کو منانا بہت مشکل تھا۔ وہ مجھے دھمکیاں دیتا تھا، کہتا تھا، ’میں بوڑھا ہو گیا ہوں، اب یہ بیوی بھی نہ رہی تو مجھ سے کوئی شادی نہیں کرے گا۔ وہ ہم دونوں کو مارنے پر تل گیا تھا، بہت مشکل سے اس آدمی کو منایا۔‘

قاضی شیرزادہ نے کہا کہ اس قسم کے مسائل بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کیے جاتے ہیں، لڑائی جھگڑے کی نوبت بہت کم آتی ہے اور ایسے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘ 

حکومتی اقدامات کے حوالے سے قاضی نے کہا کہ ’ڈپٹی کمشنر چترال نے ہمیں ہدایات دی ہیں کہ آپ سادگی سے تہوار منائیں اور زیادہ ملنا جلنا بند کریں کیوں کہ احتیاط آپ کے اپنے لیے فائدہ مند ہے۔ مسلمانوں کے عبادت گاہیں بند ہیں اس لیے آپ لوگ بھی احتیاط کریں۔‘

کیلاش خاتون شائرہ کیلاش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس سال چلم جوشٹ میں کوئی خاص گہما گہمی دکھائی نہیں دیتی، ہمیں حکومت اور قبیلے کے رہنماؤں کی جانب سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کا کہا گیا ہے اور سیاحوں کے آمد پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ سماجی دوری اختیار کرنا ہم سب کے مفاد میں ہے۔‘ 

اس کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ہر سال چلم جوشٹ بڑے جوش و خروش سے مناتے تھے اور ہم بھی مردوں کے شانہ نشانہ ہوتے تھے، لیکن اس سال کرونا کی وبا نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔‘

ٹور گائیڈ صاحب عرفان چترال میں سیاحت کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس سال چلم جوشٹ میں اچھی خاصی کمائی کی امید تھی کیونکہ عید اور چلم جوشٹ ایک ساتھ آئے تھے اس لیے بڑے پیمانے پر سیاحوں کے آمد متوقع تھی، لیکن بدقسمتی سے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیاح نہ آ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان