کوہ نور: ’منحوس‘ ہیرے کی دلچسپ کہانی جسے انڈیا واپس چاہتا ہے

ملکہ الزبتھ کے انتقال کے بعد انڈیا میں ایک بار پھر تاجِ برطانیہ میں جڑے کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

ملکہ الزبتھ دوم کا تابوت جس کے اوپر امپیریل سٹیٹ کراؤن رکھا ہے، سوموار کو لندن میں ویسٹ منسٹر ایبے کے اندر سٹیٹ فیونرل سروس کے لیے لے جایا جا رہا ہے (اے ایف پی)

ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد انڈیا میں ایک بار پھر تاجِ برطانیہ میں جڑے کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

یہ مطالبہ فی الحال سوشل میڈیا تک محدود ہے اور انڈیا کی ہندو قوم پرست حکومت کی طرف سے اس مطالبے کی توثیق کے امکانات بہت کم ہیں کیوں کہ وہ اس سے اپنی دست برداری کا پہلے ہی اعلان کر چکی ہے۔

چوں کہ ملکہ الزبتھ دوم کے بڑے بیٹے شاہ چارلس سوم اب برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں اور اپنی بادشاہت کا حلف  اٹھا چکے ہیں لہٰذا 105.6 قیراط کے کوہ نور ہیرے سے مزین اس تاج پر اب ان کی ملکہ کامیلا کا حق بنتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے کئی انڈین مورخین اور ماہرین سے پوچھا کہ کیا کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ مناسب اور قابل عمل ہے ،تو ان میں سے اکثر کا کہنا تھا کہ بے شک کوہ نور انڈیا نہیں بلکہ متحدہ ہندوستان کی ملکیت تھا لیکن اس کی واپسی ناممکن ہے۔  

 کوہ نور ہیرے کی تاریخ

اکثر انڈین مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ کوہ نور نامی یہ نادر ہیرا قطب شاہی دور میں گولکنڈہ کی کولور کان سے دریافت ہوا تھا۔ کولور آج جنوبی انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کا حصہ ہے۔

دکن کی تاریخ کے مورخ علامہ اعجاز فرخ نے امریکہ کے شہر شکاگو سے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ کولور کان سے دریافت ہونے والا کوہ نور ہیرا سب سے پہلے گولکنڈہ کے میر محمد سعید المعروف میر جملہ (دوم) کے ہاتھ آیا، جو عبداللہ قطب شاہ کی طرف سے سلطنت کا وزیر اعظم بنائے جانے سے قبل ہیروں اور جواہرات کے تاجر تھے۔

’وہ دنیا کے اس سب سے قیمتی ہیرے کو چمڑے کے ایک بستے میں رکھتے تھے اور خود سے الگ نہیں کرتے تھے۔ اس کا وزن تقریباً 756 قیراط تھا۔ ایک دن میر جملہ کا بیٹا نشے کی حالت میں بادشاہ کے تخت پر جا بیٹھا جس کی پاداش میں انہیں (میر جملہ) کو اپنے عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

’میر جملہ نے اپنی مدد کے لیے مغل حکمراں شاہجہاں سے ملنا مناسب سمجھا، جب وہ شاہجہاں کے دربار میں پہنچے تو انہیں کوہ نور ہیرا بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس طرح یہ ہیرا مغلوں کے پاس پہنچا۔

’شاہجہاں نے جب میر جملہ کی آمد کا مقصد دریافت کیا تو انہوں  نے اپنی روداد بیان کی جس پر شاہجہاں نے انہیں یقین دلایا کہ آپ کو اپنا عہدہ واپس دلایا جائے گا۔ بعد میں اورنگ زیب نے میر جملہ کو بنگال کا صوبے دار مقرر کیا۔‘

علامہ اعجاز فرخ کہتے ہیں کہ کوہ نور ہیرے کی مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا سے نادر شاہ کے ہاتھ لگنے کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

’یہ کہانی یوں ہے کہ جب نادر شاہ نے دہلی پر حملہ کیا تو 1739 میں ان کے مخبروں نے انہیں خبر دی کہ محمد شاہ رنگیلا کی پگڑی میں ایک نایاب ہیرا پوشیدہ ہے۔ تب اس ہیرے کا نام کوہ نور نہیں تھا۔

’نادر شاہ نے پگڑی بدلنے کی رسم کے بہانے جب محمد شاہ رنگیلا سے پگڑی حاصل کی تو اس میں چمکتے دمکتے ہیرے کو دیکھ کر اس کا نام کوہ نور یعنی روشنی کا پہاڑ رکھا۔ اس دن سے یہ ہیرا کوہ نور کہلاتا ہے۔ نادر شاہ ہندوستان سے بقیہ مالِ غنیمت کے علاوہ کوہ نور ہیرا بھی اپنے ساتھ لے گئے۔‘

تاریخ کی بعض کتابوں میں کوہ نور کی دریافت کے متعلق لکھا ہے کہ یہ ہیرا 13 ویں صدی میں دکن سے دریافت ہوا تھا جسے پہلے خلجی خاندان کے دوسرے بادشاہ  علاؤ الدین خلجی کے جنرل ملک کافور نے حاصل کیا ۔

برسوں تک خلجی خاندان کی ملکیت میں رہنے کے بعد یہ 16 ویں صدی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا۔ یہ 1526 میں پانی پت کی لڑائی کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے پاس پہنچا اور نادر شاہ کے حملے تک مغلوں کی ملکیت رہا۔

یہ ایک ’منحوس ‘ ہیرا ہے

علامہ اعجاز فرخ کہتے ہیں کہ کوہ نور ہیرا ایک ایسا پتھر ہے کہ جس کے پاس بھی رہا وہ برباد ہوا۔

’یہ ایک منحوس ہیرا ہے۔ چناں چہ جب نادر شاہ اپنے ساتھ لے گئے تو کچھ ہی سالوں بعد ان کا قتل ہو گیا۔ وہاں سے افغانستان کے راجہ احمد شاہ ابدالی کے قبضے میں آیا۔ بعد ازاں یہ ہیرا مختلف معرکوں میں راجاؤں کے ہاتھ لگتا گیا اور بالآخر دوبارہ ہندوستان پہنچا۔

’پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ مختلف تہواروں کے موقعوں پر اسے اپنے بازو پر باندھتے تھے۔ ان کی موت کے بعد انگریز جب سکھوں پر غالب آئے تو گلاب سنگھ نے کوہ نور ہیرا دلیپ سنگھ سے لے کر سر ہنری لارنس کو دیا جسے تین جولائی، 1850 کو لارڈ  ڈلہوزی نے ملکہ وکٹوریہ کی خدمت میں پیش کیا،  تب سے آج تک یہ قیمتی ہیرا برطانیہ کے قبضے میں ہے۔

’اگرچہ 756 قیراط کے اس ہیرے کی گاہے گاہے تراش کے بعد اب یہ صرف 105.6 قیراط کا رہ گیا ہے۔ تاہم ہاؤس آف ونڈسر میں تاج برطانیہ میں مزین یہ ہیرا اب بھی دنیا کا بیش قیمتی ہیرا کہلاتا ہے۔‘

 گولکنڈہ کی زمین ہیرے اگلتی تھی

علامہ اعجاز فرخ اپنی کتاب ’حیدرآباد شہر نگاراں‘  میں لکھتے ہیں کہ گولکنڈہ کی ریاست میں زمین ہیرے اگلتی تھی اور قلعہ گولکنڈہ سے چارمینار کے درمیان واقع ’کاروان‘ نامی علاقہ ہیروں کی ایک بڑی اور مشہور منڈی تھی۔

’سلطان محمد قطب شاہ کے دور میں ریاست گولکنڈہ کو صنعتی تجارت کے ساتھ ہیروں کی کان کنی میں بھی نمایاں حیثیت حاصل تھی۔ اس لیے انہوں نے 1623 میں ہیروں کی کان کنی کو راست شاہی نگرانی میں رکھا تھا۔‘

علامہ اعجاز نے تین مرتبہ گولکنڈہ کا سفر کرنے والے فرانسیسی سیاح اور تاجر ٹیورنیر کے حوالے سے لکھا کہ اس خطے (گولکنڈہ میں) میں ہیروں کے کانوں کی تعداد تقریباً 23 تھی۔

’ان کانوں سے نکلنے والے ہیروں کو گنتی میں شمار نہیں کیا جاتا تھا بلکہ تھیلوں کے اعتبار سے گنتی کی جاتی تھی۔ کم و بیش چھ ہزار مزدور کان کنی کا کام کرتے تھے۔ مرد کھدائی کرتے جب کہ عورتیں اور بچے مٹی ڈھونے کا کام کرتے تھے۔ اکثر وہاں سے 40 قیراط سے زیادہ کے ہیرے برآمد ہوتے تھے۔‘

عبدالمجید صدیقی اپنی کتاب ’تاریخِ گولکنڈہ‘ میں لکھتے ہیں کہ قطب شاہی سلطنت کو معدنیات سے غیر معمولی آمدنی ہوتی تھی۔

’گولکنڈہ اپنے ہیرے کی کانوں کی وجہ سے نہ صرف پوری دنیا میں مشہور تھا بلکہ کافی مالدار بھی تھا۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سلطنت کے حدود میں ہیروں کی کانیں کب دریافت ہوئیں۔‘

انہوں نے 1622 میں گولکنڈہ میں ہیروں کی کانوں کو دیکھنے والے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم اور تاجر ولیم میتھولڈ کے حوالے سے لکھا :  ’ایک روز اتفاق سے ایک چرواہے کا پاؤں ایک پتھر سے ٹکرایا ،اس نے پتھر اٹھایا تو معلوم ہوا کہ بہت چمکدار ہے، وہ اصل میں ہیرا تھا مگر اس نے معمولی داموں میں اس کو فروخت کر دیا۔‘

عبدالمجید صدیقی لکھتے ہیں کہ سلطان محمد قطب شاہ کے عہد میں غالباً یہ قیمتی معدنیات دریافت ہوئی تھیں اور عبداللہ قطب شاہ کے عہد میں اس دریافت میں ترقی ہو ئی اور ایک کان سے دوسری کان کا پتہ چلتا گیا۔

 گولکنڈہ کے دوسرے نایاب ہیرے

علامہ اعجاز فرخ گولکنڈہ کے دوسرے نایاب ہیروں کے متعلق لکھتے ہیں کہ کوہ نور کے علاوہ کم و بیش 30 سے زائد نامور ہیرے گولکنڈہ سے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے۔

انہوں نے معروف مصنف عمر خالدی کا حوالہ دیا جنہوں نے ان نایاب ہیروں کی شکل، رنگ، وزن اور مالکوں کی فہرست مرتب کی ۔

وہ لکھتے ہیں:  ’ہوپ ڈائمنڈ بنفشئی رنگ منعکس کرنے والا ہیرا ہے۔ یہ 17 ویں صدی میں کولور سے نکلا تھا جس کو ہنری فلپ ہوپ نے 1830 میں خریدا ۔ اس ہیرے کو فلپ نے بیضوی شکل میں ترشوایا۔ یہ تقریباً 45.5 قیراط کا ہے جو  نیچرل ہنری میوزیم واشنگٹن میں محفوظ ہے۔

’گولکنڈہ کا دوسرا نایاب ہیرا پٹ ریجنٹ ڈائمنڈ ہے جو فرانسیسی تاج میں لگا ہوا ہے۔ دراصل یہ پہلے تھامس پٹ کی ملکیت تھا اس لیے اس کا نام انہی سے موسوم ہے۔ یہ ہیرا 410 قیراط کا تھا۔ لیکن اب یہ تراش خراش کے بعد محض 140 قیراط کا   بچا ہے۔

’گولکنڈہ سے برآمد کردہ ایک اور ہیرا، جس کا نام آئیڈل آئی ڈائمنڈ ہے، کی الگ داستان ہے۔ یہ ہیرا مدراس (چنئی) کے موضع سری رنگم کے کسی مندر کی مورتی میں جڑا تھا جس کو کسی فرانسیسی نے چرا لیا ۔ اس کے بعد تقریباً تین صدی تک یہ غائب رہا۔

’1906 میں عثمانیہ سلطنت ترکی کے سلطان عبدالحمید نے اسے بازیاب کیا۔ بعد ازاں مختلف ہاتھوں سے گزرتا ہوا یہ ہیرا آج پیرس کے لوور میوزیم میں موجود ہے۔ یہ ہیرا کافی چمکدار اور نیلگوں ہے۔ اس کا وزن 70.20 قیراط ہے۔

’گولکنڈے سے دریافت ایک ہیرا جو  دریائے نور کے نام سے جانا جاتا ہے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا ہیرا تصور کیا جاتا ہے۔مغل بادشاہ شاہجہاں کے تاج کی زینت بننے والا 182 قیراط کا وزنی یہ ہیرا ہلکے گلابی رنگ کی شعاعیں منعکس کرتا ہے۔ اس ہیرے کو بھی نادر شاہ اپنے ساتھ ایران لے گئے تھے۔

’دریائے نور ہیرے کی سطح پر سلطان صاحب قران فتح علی شاہ قاچار 1250ھ کندہ ہے۔ یہ ایران کے تاج کا حصہ ہے اور اب ایران کے قومی جواہرات کے میوزیم میں محفوظ ہے۔

’اسی طرح شاہ ڈائمنڈ بھی گولکنڈہ سے برآمد کردہ ہیرا ہے، جس پر برہان نظام شاہ 1000ھ کندہ ہے۔ یہ ہیرا کریملن میوزیم ماسکو میں محفوظ ہے۔

’نورالعین نامی ایک اور نایاب ہیرا بھی ایران کے جواہرات میوزیم میں ہے، جو کہ محض 10 قیراط کا ہے لیکن اپنی گلابی رنگت کی وجہ سے دنیا کے نایاب ہیروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس ہیرے کو ابو الحسن قطب شاہ نے مغل بادشاہ اورنگزیب کو بطور تحفہ پیش کیا ۔ بعد میں نادر شاہ اسے بھی اپنے ساتھ ایران لے گئے۔

’یہ ہیرا گولکنڈہ کے ہی نایاب زمرد کے درمیان جڑا گیا تھا اور رضا شاہ پہلوی نے ملکہ فرح دیبا پہلوی کو 1958 میں شادی کے موقعے پر بطور تحفہ پیش کیا ۔‘

واپسی ناممکن

ڈاکٹر سچیتا مہاجن دہلی کی معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے مرکز برائے تاریخی مطالعات میں جدید تاریخ کی پروفیسر ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات چیت کے دوران سوالیہ انداز میں کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انگریز جو چیز 173 سال پہلے اپنے قبضے میں لے گئے ہیں وہ اسے ٹوئٹر پر چلنے والے ایک ٹرینڈ پر واپس کریں گے۔

’اگر انہیں کوہ نور واپس کرنا ہوتا تو کب کا کر دیتے، لیکن یہ بھی مناسب نہیں  کہ آپ صرف کوہ نور واپس مانگیں۔ واپس مانگنا ہے کہ دیگر انمول چیزیں جیسے نودارات، مخطوطات اور پینٹنگز کا بھی مطالبہ کریں۔

’پھر انگریزوں کے دور میں ہندوستانیوں کا جو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا تھا اس پر بھی بات ہونی چاہیے۔ معافی نامے کے علاوہ معاوضہ بھی طلب کریں۔ صرف کوہ نور لے کر کیا کریں گے؟‘

مورخ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر سید علی ندیم رضوی کہتے ہیں کہ ماضی میں جوا ہوا  اس کو ریورس نہیں کیا جا سکتا ۔

انہوں نے کہا: ’ہماری انمول چیزیں کئی ممالک کے عجائب گھروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے اور جو چیزیں ہمارے پاس بچ گئی ہیں ان کو محفوظ کر کے ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

’ہمارے عجائب گھروں، لائبریریوں اور آرکائیوز میں بیش قیمتی اور انمول چیزیں تباہ ہو رہی ہیں۔ کم از کم جو چیزیں یہاں سے گئیں، چاہیں وہ فرانس، برلن، ڈوئچ یا برٹش لائبریری یا عجائب گھروں میں موجود ہیں، وہ تو محفوظ ہیں۔ ان پر تحقیق ہو رہی ہے اور مجھے پختہ یقین ہے کہ تا قیامت محفوظ رہیں گی۔

’ہمیں بے شک کوہ نور واپس مانگنے کا حق تھا، اگر ہم ایسی چیزوں کو محفوظ رکھنے کے قابل ہوتے۔ مجھے بحیثیت مورخ امید ہے کہ اگر برٹش لائبریری جاؤں گا تو خالی ہاتھ نہیں آؤں گا لیکن یہاں جو چیزیں رہ گئی ہیں ان تک رسائی اور ان پر تحقیق آسان ہے۔‘

علامہ اعجاز فرخ کا کہنا ہے کہ دنیا کا دستور رہا ہے کہ جب ایک فاتح کوئی ایک چیز اپنے مفتوح علاقے سے حاصل کرتا ہے تو وہ اسے کبھی واپس نہیں لوٹاتا لہٰذا کوہ نور کی واپسی کی امید رکھنا صحیح نہیں ۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کی پروفیسر شیرین موسوی کا بھی یہی خیال ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہ ہیرا انگریزوں کو جنگی مالِ غنیمت کے ذریعے حاصل ہوا ۔ جس علاقے کو ایک طاقت جنگ کے ذریعے فتح کرتی ہے وہاں کے سابق حکمرانوں کا مال و اسباب اس کے لیے مالِ غنیمت ہو جاتا ہے۔ انگریز تو یہاں سے بہت کچھ لوٹ کر لے گئے ہیں اور کیا آج تک کسی نے لوٹا ہوا مال واپس کیا ہے؟‘

تاہم اسی یونیورسٹی کے سینیئر ریسرچ اسسٹنٹ محمد ظفر منہاج کا ماننا ہے کہ کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ بالکل درست اور برحق ہے۔

’اگر کوہ نور ہیرا کسی کمزور ملک کے پاس ہوتا تو اب تک وہ واپس آچکا ہوتا۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک کی حکومت بھی اپنی طاقت کو دیکھتے ہوئے اس کی واپسی کا مطالبہ کرے گی جس پر اس کا پورا حق ہے۔‘

تاہم ان کا ٹوئٹر ٹرینڈ پر کہنا تھا: ’عوام میں محض معاشیات سے جڑی چیزوں میں دلچسپی ہے۔ کوہ نور کے قیمتی ہونے کا احساس تو ہر کسی کو ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے بھی انمول چیزیں ہمارے ملک کی برطانیہ میں پڑی ہیں۔‘

حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے مورخ شاہد زبیری بھی کوہ نور کی واپسی کے مطالبے کو صحیح مانتے ہیں۔

انہوں نے کہا: ’کوہ نور ہیرا گولکنڈہ کان سے نکلا تھا اور یہ ہندوستان کی ملکیت تھا اس لیے اس کا مطالبہ بالکل صحیح ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہ ہمارے ملک کا انمول اثاثہ تھا جسے انگریزوں نے غیر قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔‘

محمد ظفر منہاج اور شاہد زبیری کی طرح پروفیسر فرحت حسن بھی انڈیا کی عوام کے اس مطالبے کے حق میں ہیں کہ حکومت برطانیہ اب کوہ نور واپس کرے۔ وہ دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر ہیں۔

ان کا خیال ہے: ’کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ میرے حساب سے مناسب اور درست ہے، کیوں کہ جو چیزیں بھی انگریز ہندوستان سے لے کر گئے ہیں وہ ایک طرح کی لوٹ تھی۔‘

پروفیسر ندیم رضوی کہتے ہیں کہ موجودہ ٹرنڈنگ سے لگتا ہے کہ عوام کو یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ اس ہیرے کے واپس آنے سے ساری بے روزگاری اور مہنگائی ختم ہو جائے گی۔

’بظاہر یہی وجہ ہے کہ عوام اپنی تمام تر تکالیف کو نظر انداز کر کے اسی میں لگا ہوئی ہے اور حکومت سے مہنگائی اور بے روزگاری پر سوال نہیں کیے جا رہے ۔‘

 کوہ نور صرف ہیرا نہیں

پروفیسر فرحت حسن کہتے ہیں کہ کوہ نور کی قیمت یہ نہیں کہ وہ ایک انمول ہیرا ہے بلکہ وہ ہندوستان کی خودمختاری کی ایک علامت تھی۔

’اس کی بہت سارے ہندوستانیوں کے لیے علامتی اہمیت بھی ہے۔ معاشی پہلو سے دیکھیں تو برطانیہ کو اس کی واپسی میں کوئی فائدہ ہے نہ نقصان۔ مذاکرات کی طاقت تو انڈیا کے پاس نہیں  کہ وہ اس کو اس (مذاکرات) کے ذریعے واپس حاصل کریں۔‘

پروفیسر ندیم رضوی کہتے ہیں کہ کوہ نور کی ایک تاریخی اہمیت یہ ہے کہ ایک رولنگ کلاس سے دوسرے رولنگ کلاس کو منتقل ہوتا گیا۔

’یعنی ایک لٹیرے سے دوسرے لٹیرے تک جو بھی طاقت رکھتا تھا وہ اسے حاصل کرتا تھا۔ انگریزوں نے صرف کوہ نور نہیں بلکہ یہاں کی دولت کے ایک بڑے حصے کو اپنے ملک (برطانیہ) پہنچا دیا اور اس سے اپنے صنعتی انقلاب کو چلایا۔

’مغلوں کے زمانے میں جو ہندوستان سونے کی چڑیا کہلاتی تھی اسی جگہ پر انگریزوں کے زمانے میں لوگ بھوکمری سے مرنے لگے۔

’مغل بھی کوہ نور کو کہیں سے دریافت کر کے نہیں لائے تھے بلکہ اس کا تعلق گولکنڈہ سے تھا۔ ایسی لوٹ مار کی حرکتیں ماضی میں ہوئی ہیں۔ جس کے پاس طاقت تھی اس نے انجام دیں۔‘

پریتی سنگھ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ تاریخ میں مغلوں کی تاریخ پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انگریز اتنے چالاک ہیں کہ وہ کوہ نور ہیرے کے نام پر ایشیائی ممالک کو آپس میں لڑا سکتے ہیں۔

’اگر کوہ نور واپس ملتا ہے تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان اس کی ملکیت کو لے کر تنازع ہو سکتا ہے اور برطانیہ یہی چاہے گا۔ کوہ نور ہیرا کہیں بھی رہے لیکن ہم سب کے لیے برا یہ ہو گا اگر ایشیائی ممالک آپس میں لڑیں گے۔‘

پریتی سنگھ کہتی ہیں کہ کوہ نور کی واپسی کے مطالبے کا ٹوئٹر ٹرینڈ محض ایک ہفتے تک زندہ رہے گا اور پھر کوئی نیا مسئلہ ہو گا اور وہ ٹرینڈ کرے گا۔

’انڈیا میں ہر ہفتے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور وہ ٹرینڈ کرنے لگتے ہیں لیکن آج تک کسی حق بجانب مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالا گیا ہے۔‘

واپسی کا مطالبہ کب کب سامنے آیا؟

کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ محض انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان، افغانستان اور ایران بھی وقتاً فوقتاً کرتے رہے ہیں۔

پروفیسر فرحت حسن کے مطابق پاکستان کی کوہ نور پر حق داری کا دعویٰ بے جا ہے کیوں کہ مغلیہ سلطنت کا مرکز آگرہ یا دلی تھا اور چوں کہ یہ دونوں علاقے اس وقت انڈیا کے پاس ہے لہٰذا حق دار بھی یہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’پاکستان اور بنگلہ دیش انڈیا سے کٹ کر نکلے ہیں اور انہیں 1947 سے پہلے خودمختار حیثیت  حاصل نہیں تھی لہٰذا قانونی طور پر اس کا دعوے دار انڈیا ہی ہے۔‘

اس کی واپسی کے مطالبے کے حق میں اس سے پہلے بھی آوازیں اٹھی ہیں لیکن یہ ایسا بھی مطالبہ نہیں تھا کہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات پر کوئی بڑا اثر پڑے۔‘

انڈیا میں ماضی میں بھی مختلف موقعوں پر کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ ہوتا رہا ہے۔ مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن گاندھی سمیت انڈیا کی کئی اہم شخصیات برطانیہ سے مطالبہ کر چکی ہیں کہ ہمیں کوہ نور ہیرا واپس کیا جائے۔

1997 میں جب ملکہ الزبتھ دوم انڈیا کے دورے پر آئیں تو اس دوران بھی کوہ نور کی واپسی کا مطالبہ دہرایا گیا تھا۔ علاوہ ازیں کچھ انڈین نژاد برطانوی اراکین پارلیمان بھی کوہ نور کی انڈیا کو واپسی کے حق میں بول چکے ہیں۔

2015 میں لاہور کے ایک وکیل بیرسٹر اقبال جعفری نے برطانیہ سے کوہ نور کی واپسی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست  داخل کی اور 2019 میں پاکستان کے اُس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے اپنے ٹویٹ میں برطانیہ سے کوہ نور لاہور میوزیم کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم برطانیہ مسلسل کوہ نور واپس کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ سابق برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے جب 2013 میں انڈیا کا دورہ کیا تو انہوں نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ کوہ نور ہیرا واپس نہیں کیا جائے گا۔

انڈین حکومت کا موقف

اپریل 2016 میں حکومت ہند نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کوہ نور ہیرا واپس لانے کے لیے پوری کوشش کی جائے گی۔ تاہم اسی سال سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران سولیسیٹر جنرل رنجیت کمار نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ کوہ نور ہیرا برطانیہ کی ملکیت ہے اور اس کی واپسی ناممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسے رنجیت سنگھ نے سکھ دور میں ہونے والی جنگوں میں مدد کے عوض برطانیہ کو اپنی مرضی سے دیا تھا لہٰذا برطانیہ اسے چرا کر نہیں لے گیا ۔

سولیسیٹر جنرل رنجیت کمار کے ریمارکس سے قبل مودی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ انڈیا کو کوہ نور پر اپنے دعوے سے دست بردار ہو جانا چاہیے کیوں کہ حقیقت یہی ہے کہ 1850 میں یہ ہیرا برطانوی حکومت کو تحفے میں دیا گیا تھا۔

انڈین سپریم کورٹ میں یہ درخواست نفیس احمد صدیقی نامی ایک شہری نے دائر کی تھی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ