کوہ نور واپس لانے میں عمر گزری، چوٹیں لگیں، پھر بھی عدالت میں پیش

عدالت نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان نوادرات واپس کرنے کے قانون اور کنونشن کی تفصیلات کیں جس پر حکومت پاکستان کے وکیل نے مہلت مانگ لی ہے۔

درخواست گزار بیرسٹر جعفری کہتے ہیں ’1962 میں کوہ نور کے حوالے سے ملکہ برطانیہ سے بھی ملا تو انہوں نے کہا وہ کوہ نور ہیرا واپس کرنے پر غور کریں گی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی/ فائل)

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد وحید کی عدالت میں کوہِ نور ہیرا پاکستان واپس لانے کے حوالے سے گذشتہ کچھ ہفتوں سے سماعت جاری ہے۔

جمعہ کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان نوادرات واپس کرنے کے قانون اور کنونشن (معاہدہ) کی تفصیلات طلب کر لیں۔ حکومت پاکستان کے وکیل  نے پاکستان اور  برطانیہ کے درمیان معاہدے کے بارے میں تفصیلات لینے کے لیے مہلت طلب کی۔ وفاقی وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس طرح کا کوئی معاہدہ ہے۔

کوہ نور ہیرا پاکستان واپس لانے کے حوالے سے بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن جمع کروا رکھی ہے جس پر عدالت عالیہ وقتاًفوقتاً سماعت جاری رکھے ہوئے ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے بتایا کہ وہ زمانہ طالب علمی سے کوہ نور ہیرا پاکستان واپس لانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کے اس مطالبے کو نہ کبھی حکومت نے سنجیدگی کی نظر سے دیکھا نہ ہی صحافیوں نے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور گذشتہ پانچ روز میں دو بار گر چکے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کافی چوٹیں بھی آئیں لیکن اس کے باوجود وہ آج عدالت پہنچے۔

انہوں نے بتایا کہ عدالت نے جمعہ کو ہونے والی سماعت میں جہاں دونوں ممالک کے درمیان نوادرات کی واپسی کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی تفصیلات طلب کیں وہیں انہوں نے وفاقی وکیل سے یہ معلومات لانے کے لیے بھی کہا کہ کیا ایسٹ انڈیا کمپنی سے نوادرات کے حوالے سے کوئی معاہدہ کیا جاسکتا تھا؟ اس وقت کے لاہور کے حکمران نے یہ معاہدہ رضا کارانہ طور پر کیا یا انہیں مجبور کیا گیا تھا؟

بیرسٹر جعفری کا کہنا ہے کہ ’ایسٹ انڈیا کمپنی کوئی ٹریٹی نہیں کر سکتی تھی اور یہی میری استدعا ہے۔ اگر ٹریٹی ہوئی بھی تھی تو بھی وہ قابل قبول نہیں ہے۔‘

بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے بتایا کہ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ برطانیہ نے یورپی ممالک سے لی گئی ان کی ثقافتی اشیا واپس کر دی تھیں جبکہ حکومت پاکستان ہیرے کی واپسی کے لیے برطانیہ سے گفت و  شنید نہیں کر رہی۔

انہوں نے عدالت میں یہ بھی بتایا کہ  کہ برطانیہ یہ ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ سے چھین کر اپنے پاس لے گیا جب 1953ء میں ملکہ الزبتھ ثانی نے برطانیہ کا تخت سنبھالا تو یہ ہیرا اُن کے تاج کا حصہ تھا۔ ملکہ ا لزبتھ کوہِ نور نامی اس ہیرے پر کوئی حق نہیں رکھتیں۔ کوہ نور ہیرے کا وزن 105 قیراط ہے اور اس کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کوہِ نور پنجاب صوبے کا ثقافتی ورثہ ہے اور اس کے شہری اس کے اصل مالک ہیں۔ کوہ نور ہیرا صدیوں پہلے گولکنڈہ کی کانوں سے نکالا گیا تھا، ایک وقت تھا کہ اسے دنیا کا سب سے بڑا ہیرا تصور کیا جاتا تھا۔ مختلف شاہی خاندانوں سے ہوتا ہوا یہ ہیرا پنجاب کے سکھ حکمرانوں کے پاس پہنچا۔ 1849ء میں سکھ سلطنت کو برطانوی افواج کے ہاتھوں شکست اٹھانا پڑی تو پھر یہ ہیرا بھی برطانیہ کے پاس چلا گیا۔ آج بھی کوہِ نور تخت برطانیہ کے قبضے میں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت بھی برطانیہ سے کوہِ نور سمیت وہ تمام نوادرات واپس مانگ رہا ہے جو نو آبادیاتی دور میں لوٹے گئے تھے اس لیے عدالت کوہ نور ہیرا واپس لانے کا حکم دے اور حکومت کو یہ ہدایت جاری کرے کہ وہ یہ ہیرا برطانوی حکومت سے واپس لے۔

بیرسٹر جعفری نے 2016 میں بھی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ کوہ نور ہیرے کا اصل مالک پاکستان ہے۔ اس درخواست پر متعدد بار سماعتیں ہوئیں لیکن اس وقت جسٹس خالد خان ریٹائر ہو گئے جس کے بعد یہ کیس التوا کا شکار ہوتا رہا اور اب جسٹس شاہد وحید نے اس کیس کی دوبارہ سماعت کا آغاز یکم جولائی 2021 سے کیا۔

اپریل 2019 میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ کی تھی کہ کوہ نور ہیرا لاہورعجائب گھر واپس آنا چاہیے کیونکہ اس کا تعلق یہیں سے ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے بتایا: ’1957 میں جب میں لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کررہا تھا تب میں نے کوہ نور واپس لانے کی جدوجہد شروع کی۔ اس وقت بھی کسی اخبار نے یہ خبر نہیں چھاپی صرف فرانس کی خبر رساں ایجنسی نے کوریج دی۔ اس وقت میرے کالج کے پرنسپل بھی میرے خلاف ہو گئے۔ 1962 میں کوہ نور کے حوالے سے ملکہ برطانیہ سے بھی ملا اور اب بھی میری ان سے خط و خطابت ہے۔ جب میں ان سے ملا تو انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ کوہ نور ہیرا واپس کرنے پر غور کریں گی۔‘

کوہ نور ہیرے کی واپسی کے حوالے سے عدالتی کارروائی کو ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان