آج 25 دسمبر قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت ہے۔ زیادہ تر ہم انہیں ایک اعلی سیاسی رہنما کی صورت میں یاد کرتے ہیں لیکن وہ 39 سال تک پارلیمنٹیرین بھی رہے۔ آج کل کے پارلیمنٹیرین تو کارکردگی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتے رہتے ہیں لیکن قائد اعظم کیسے پارلیمنٹیرین تھے؟
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام میں تدریس سے جڑے ڈاکٹر دلاور حسین کہتے ہیں کہ پاکستان کے بنانے میں محمد علی جناح نے جو فورم منتخب کیا وہ لیجسولیٹو اسمبلی ہی تھی۔ ’انہوں نے پارلیمنٹری پالٹیکس وہیں سے شروع کی اور وہیں سے انہوں نے مسلم اور رائٹس کی بات کی اور بعد میں پھر انہوں نے پارٹی پالٹیکس بھی کی۔‘
ڈاکٹر دلاور برطانیہ کی ہل یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں اور قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے سینیٹ آف پاکستان پر کتاب بھی تحریر کر رکھی ہے۔ ان کی مہارت پارلیمان، گورننس اور پالیسی اشوز ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ قائد اعظم پہلی مرتبہ امپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن 1910 میں بنے تھے۔ ’پاکستان کے بنانے میں ان کے پارلیمنٹیرین کیرئر کا بہت اہم کردار رہا ہے۔‘
محمد علی جناح جوانی میں یعنی 30 کے پیٹے میں امپیریل لیجیسلیٹو کونسل کے رکن بنے تھے۔
ڈاکٹر دلاور حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک معتدل ملک بنانے کے سلسلے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کو قانون ساز اسمبلی سے قائداعظم کا خطاب اور ان کے 14 نکات پالیسی سازوں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
اس تقریر میں انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کو ناصرف اجاگر کیا بلکہ واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں تمام لوگوں کو بلاتفریق رنگ، نسل، مذہب کے مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اقرباپروری سے بھی منع کیا۔
جناح کی طنزیہ اور نڈر تنقید نے انہیں پارلیمنٹیرین کے ماڈل کیسے ممتاز کیا جبکہ شائستگی اور روایات کی پاسداری کی؟
1947 کے بعد آئین ساز اسمبلی میں جناح کا کردار کیا تھا، اور ان کی پارلیمنٹری تجربہ نے پاکستان کی ابتدائی جمہوری بنیادیں کیسے متاثر کیں؟
ان سوالات کے جواب کے لیے دیکھیں انڈی پوڈکاسٹ۔