آئی ایم ایف کی مخالفت کے باوجود پاکستان کا فیول سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ

وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے معاشرے کے مستحق طبقات کو ایندھن پر ہدفی ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم پر زور دیا ہے تاکہ عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف یقینی بنایا جا سکے۔

چھ مارچ، 2026 کو کراچی میں لوگ پیٹرول سٹیشن پر ایندھن لینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں (روئٹرز)

پاکستان کی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سفارش کے برخلاف جمعے کو ایندھن پر سبسڈی کی سکیم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے رواں ہفتے ایندھن کی زیادہ لاگت اور وسیع پیمانے پر مستفید ہونے والوں کو شامل کرنے کے طریقۂ کار کے باعث اسے مرحلہ وار ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔

وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج سکیم کی موجودہ صورت حال، مستحقین کے تعین کے طریقۂ کار اور اس پر عمل درآمد کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔

یہ اجلاس آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سٹاف سطح کے معاہدے پر پہنچنے کے دو روز بعد ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت ملنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے، جس کے تحت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری، مالیاتی استحکام اور حکومتی سبسڈی کو معقول بنانے کے اقدامات سمیت وسیع پیمانے پر معاشی اصلاحات کرنا ضروری ہے۔

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ’نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق معاشرے کے مستحق طبقات کو ایندھن پر ہدفی ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم پر زور دیا تاکہ عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف یقینی بنایا جا سکے۔‘

’انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مؤثر بین الصوبائی اور بین الوزارتی رابطہ کاری، سکیم پر بلاتعطل عمل درآمد، وسائل کی مؤثر تقسیم اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ایک جامع مہم کو یقینی بنایا جائے۔‘

وزیراعظم کی فیول ریلیف سکیم گذشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کم آمدنی والے موٹر سواروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔

سکیم کے تحت موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کو ہفتہ وار 500 روپے (1.80 ڈالر) مالیت کا پٹرول ٹوکن دیا جاتا ہے جبکہ 800 سی سی تک انجن کی گنجائش والی گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 روز میں زیادہ سے زیادہ 10 لیٹر پٹرول پر فی لیٹر 100 روپے (0.36 ڈالر) کی رعایت ملتی ہے۔

حکومت نے اس پروگرام کے لیے 75 ارب روپے (271 ملین ڈالر) کی منظوری دی تھی اور حکام کا کہنا ہے کہ 90 لاکھ سے زیادہ افراد اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

آئی ایم ایف نے بدھ کو پاکستان کے ساتھ سٹاف سطح کے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا تھا کہ ایندھن پر ریلیف کی سکیم کو زیادہ لاگت اور وسیع پیمانے پر مستفید ہونے والوں کو شامل کرنے کے باعث فوری طور پر مرحلہ وار ختم کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا ’اگر مستقبل میں تیل کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھتی ہیں تو ایندھن پر کسی بھی قسم کی معاونت محدود مدت کے لیے ہونی چاہیے، اس کا ہدف واضح ہونا چاہیے، مستحقین کا تعین پہلے سے موجود سماجی معاونت کے پروگراموں کے ذریعے کیا جانا چاہیے اور اس کے اخراجات مالی سال 2027 کے بجٹ میں مختص رقم کے اندر پورے کیے جانے چاہییں۔‘

وزارت خارجہ کے بیان میں سبسڈی مرحلہ وار ختم کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کی سفارش کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ آیا حکومت نے سکیم ختم کرنے کے لیے کوئی تاریخ مقرر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اس پروگرام پر ماہانہ 25 سے 30 ارب روپے خرچ ہوں گے۔

جمعے کے اجلاس میں سکیم کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے ذرائع ابلاغ سے رابطے کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اس موقعے پر اسحاق ڈار نے سکیم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان رابطہ کاری پر زور دیا۔

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے کیونکہ جنگ نے توانائی کی منڈیوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

اس صورت حال سے پاکستان پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے، جو پٹرولیم مصنوعات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت