پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کے بجٹ کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
موٹر سائیکل پر دفتر، دکان یا مزدوری کے لیے جانے والا شخص ہو یا رکشہ چلانے والا، پیٹرول مہنگا ہونے کا مطلب روزانہ کے اخراجات میں اضافہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف سکیم شروع تو کی ہے اور وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس مد میں 75 ارب روپے منظور کیے ہیں، جس کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والوں کو 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے ریلیف دیا جا رہا ہے لیکن ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔
ابتدائی طریقہ کار میں پانچ لیٹر پیٹرول کا ٹوکن تھا لیکن عوامی شکایات کے بعد حکومت نے تبدیلی کی اور اب موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارف کو ہر ہفتے 500 روپے کا ایک ٹوکن مل سکتا ہے۔
یعنی چار ہفتوں میں زیادہ سے زیادہ 2,000 روپے ماہانہ کا ریلیف۔ پانچ لیٹر پیٹرول خریدنے کی شرط بھی ختم کی گئی ہے یوں کم مقدار میں پیٹرول خریدنے والا شخص بھی ریلیف استعمال کر سکتا ہے۔
800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے طریقہ کار مختلف ہے۔ انہیں ہر دس دن میں دس لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جا رہی ہے جو ماہانہ 3000 روپے ریلیف بنتا ہے۔
سکیم غیر تجارتی صارفین کے لیے ہے اور اصولی طور پر ایک صارف یا مالک کو ایک گاڑی تک محدود کیا گیا ہے۔
ریلیف پیکج کی مالیت 75 ارب روپے ہے۔ 75 ارب روپے کے بجٹ سے تقریباً ایک کروڑ 18لاکھ افراد مستفید ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ان میں موٹر سائیکلوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ رکھی گئی ہے جبکہ ملک میں تقریباً تین کروڑ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں ہیں۔
سوال یہ ہے حکومت نے ایک کروڑ مستحق موٹر سائیکل صارفین کا تخمینہ کس معیار اور ڈیٹا کی بنیاد پر لگایا؟ اور بقیہ تقریباً دو کروڑ رجسٹرڈ موٹرسائیکل والوں کو ریلیف کیوں نہیں دیا گیا؟
اس کے علاوہ رجسٹریشن اور حقیقی فائدہ بھی ایک ہی چیز نہیں۔ 19 ستمبر کو 17.5 لاکھ سے زیادہ رجسٹریشن، تقریباً 15 لاکھ ٹوکن جاری ہونے اور چھ لاکھ 80 ہزار ٹوکن استعمال ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظام میں رجسٹریشن سے لے کر ٹوکن کے حقیقی استعمال تک ایک خلا موجود ہے۔ سرکار کو اس خلا کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔
سرکار نظام میں بہتری لانے کا دعوی کر رہی ہے۔ رجسٹریشن کے ایس ایم ایس چارجز ختم کر دیے گئے ہیں، 2006 کے بعد رجسٹر ہونے والی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو شامل کیا گیا ہے اور موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ صارفین کے لیے ملکیت کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے، بشرطیکہ متعلقہ گاڑی اور دستاویزات موجود ہوں۔
اس کے علاوہ سرکار نے ان علاقوں کے لیے بھی متبادل طریقہ کار بنانے کی ہدایت کی ہے جہاں پیٹرول پمپس پر انٹرنیٹ دستیاب نہیں لیکن ابھی اس نظام میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔
ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا 2,000 یا 3,000 روپے ماہانہ ریلیف عام آدمی کی مشکلات ختم کر سکتا ہے؟ اس کا جواب یقیناً نہیں ہے۔
یہ رقم پیٹرول کے خرچ میں کمی ضرور کرتی ہے لیکن مہنگائی کے مجموعی بوجھ کو ختم نہیں کرتی۔
ایک موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ 2,000 روپے کی بچت ہو سکتی ہے مگر اسے بجلی کے بل، آٹا، دودھ، سبزی، بچوں کی تعلیم، کرایہ اور دیگر ضروری اخراجات بھی برداشت کرنا ہوتے ہیں۔
اس لیے فیول ریلیف سکیم کو مہنگائی کے علاج کی بجائے ایک مخصوص اور محدود ریلیف سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔ اس کا فائدہ اس شخص کو براہِ راست ملتا ہے جو پیٹرول خرید رہا ہے۔
لیکن پیٹرول مہنگا ہونے سے جو آٹا، دال، چینی، سبزی، گوشت، دوائی بجلی کے بلوں اور سکول کی فیسوں میں اضافہ ہو چکا ہے اس پر سبسڈی کون دے گا؟ صرف پیٹرول ڈلوانے پر ریلیف دے کر سرکار کا کامیابی کا دعوی کرنا مناسب نہیں۔
وہ مزدور جو صبح سویرے موٹر سائیکل پر روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، اسے صرف پیٹرول پر رعایت نہیں بلکہ مجموعی مہنگائی سے نجات چاہیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ کتنے لوگ رجسٹر ہوئے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ کتنے مستحق افراد نے حقیقتاً رعایت حاصل کی، کتنے ٹوکن استعمال ہوئے، کتنی رقم حقیقی صارفین تک پہنچی اور فی مستحق فرد حکومت پر انتظامی لاگت کتنی آئی۔
اسی طرح یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ پیٹرول پمپس پر صارفین سے اضافی رقم تو نہیں لی جا رہی۔
ایک اور اہم پہلو شفافیت کا ہے۔ گو سرکار نے فیول پاس سسٹم کے ذریعے سکیم کو ڈیجیٹل بناتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل مالیت صارف کو منتقل کی جائے اور کوئی سروس چارج یا کٹوتی نہ کی جائے۔
لیکن حکم دے دینا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں فرق ہوتا ہے۔
سکیم کچھ عوام کو فوری ریلیف فراہم کر سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا حکومت طویل مدت تک اتنے بڑے مالی بوجھ کو برداشت کر سکے گی۔
یہ عارضی حل ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، ایندھن کی بچت اور سولر جیسی مقامی توانائی پیداوار میں اضافہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
صرف سرکاری دعوؤں اور اعدادوشمار کی بنیاد پر پروگرام کی کاکردگی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
ماضی میں نیشنل ڈرینج پروگرام کو سرکار نے کامیاب قرار دیا لیکن ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے اسے ناکام منصوبہ قرار سمجھا۔ اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
اس لیے جب تک فیول ریلیف پیکج کا آزادانہ آڈٹ نہ کیا جائے اور تھرڈ پارٹی رپورٹ جاری نہ ہو صرف حکومتی دعوں پر مثبت رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔