لاہور: این سی اے طالب علم کا رکشوں کے لیے ’ایئر کولر‘ تیار

این سی اے ڈگری شو میں طلبہ نے اپنے تخلیقی آئیڈیاز پیش کیے جن میں ایک طالب علم کا تیار کردہ رکشے کا ’ایئر کولر‘ سسٹم بھی شامل تھا۔

لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) کے طالب علم فائق عباس نے ایک ایسا جدید کولنگ سسٹم تیار کیا ہے جسے رکشوں میں نصب کرکے سواریوں کو ایئر کولر جیسی ٹھنڈی ہوا فراہم کی جا سکتی ہے۔

این سی اے کے سالانہ بیچلرز ڈگری شو 2025 میں طلبہ نے متعدد تخلیقی اور منفرد پروجیکٹس پیش کیے، جنہیں دیکھنے کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور متعدد تعلیمی اداروں کے طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

این سی اے لاہور ملک کا قدیم اور اہم آرٹ ادارہ ہے جہاں مختلف فنون کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ 

پروڈکٹ ڈیزائن کے طلبہ ہر سال نت نئے آئیڈیاز پر مبنی اشیا تخلیق کرتے ہیں، جنہیں مقامی صنعت اور متعلقہ کمپنیوں کی جانب سے خاصی توجہ ملتی ہے۔

وائس چانسلر این سی اے پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کے مطابق ’این سی اے کا بیچلرز ڈگری شو پاکستان کا ایک منفرد اور معیاری تخلیقی ایونٹ ہے، جس میں فائن آرٹ، ویژول کمیونیکیشن ڈیزائن، ٹیکسٹائل ڈیزائن،

سرامکس، پروڈکٹ ڈیزائن، آرکیٹیکچر، فلم اینڈ ٹیلی ویژن اور میوزکالوجی سمیت مختلف شعبوں کے طلبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔‘

طالب علم فائق عباس کے مطابق انہوں نے کولنگ سسٹم خاص طور پر گرمیوں اور ہیٹ ویوز کے دوران رکشہ سواریوں کی مشکلات مدِنظر رکھ کر تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’گرم ہوا (رکشے کے) سامنے سے سسٹم میں داخل ہوتی ہے۔ ونڈ کیچر اسے پانی سے بھرے پیڈ میں لے جاتا ہے، جہاں سے پروسیس ہوکر پنکھوں کے ذریعے ٹھنڈی ہوا سواریوں تک پہنچتی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہ سسٹم ڈرائیور کی نشست کے پیچھے نصب کیا جائے گا تاکہ ہوا براہِ راست پیچھے بیٹھے مسافروں تک پہنچے۔‘

’کینیٹک الکمی‘

این سی اے کی ایک اور طالبہ فاطمہ زاہد نے ’کینیٹک الکمی‘ کے نام سے ایک جدید پروجیکٹ تیار کیا ہے جو کاروباری تشہیر کا نیا اور تخلیقی حل پیش کرتا ہے۔

ان کے مطابق ’میں نے کینیٹک آرٹ کو قابل استعمال شکل دی ہے۔ اسے ویژول مرچنڈائزنگ میں برینڈ ری کال بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 

’لگی ہوئی لائٹس اور سنسر کسی شخص کے سامنے آنے پر خود بخود برینڈ کا نام نمایاں کرتے ہیں، جس سے صارف کی توجہ بھی بڑھتی ہے اور اسے یاد رکھنا بھی آسان ہوتا ہے۔ 

’اسے مصنوعات یا کسی مخصوص ایریا کو نمایاں کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

نمائش میں دیگر شعبوں کے طلبہ نے بھی اپنے متنوع اور تخلیقی پروجیکٹس پیش کیے، جنہیں حاضرین کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل