12 سالہ حافظ عبداللہ سلمان کا تعلق گوجرانوالا سے ہے۔ انہوں نے اس وقت سب کو اپنی جانب متوجہ کیا جب انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی سطح پر پہ در پہ پوزیشنز حاصل کیں۔
قطر میں ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں حفظ القرآن میں پہلی اور حسن قرآت میں دوسری پوزیشن حافظ عبداللہ کے نام رہی۔
گوجرانوالا کے ایک چھوٹے سے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے حافظ عبداللہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے سات سال کی عمر سے قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور نو سال کی عمر میں حفظ کر لیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ گذشتہ ایک سال سے حسن قرأت کے مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں اور اسی ایک سال میں وہ ضلعی سطح سے لیکر وفاقی سطح تک کے کئی مقابلے اپنے نام کر چکے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد قاری سلمان شاکر ہی ان کے استاد ہیں اور اس بین الاقوامی مقابلے کی بابت بھی انہوں نے ہی انہیں بتایا تھا۔
حافظ عبداللہ نے مزید بتایا کہ اس مقابلے کے پانچ مرحلے ہوتے ہیں ج نمیں مختلف ممالک کے سینکڑوں بچے حصہ لیتے ہیں۔ پہلے دو مراحل میں بچے مقابلے میں آن لائن حصہ لیتے ہیں جب کہ تیسرے مرحلے میں پہنچنے والے بچوں کو ریاست قطر اپنے خرچے پہ بلاتی اور اپنا مہمان بناتی ہے۔
ان کا کا کہنا تھا کہ اس مقابلے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ساؤنڈ سسٹم، یا ایکو وغیرہ کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ قدرتی آواز کی اونچ نیچ کو پرکھا جا رہا ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’میں گذشتہ دو ماہ سے اس مقابلے کی تیاری کر رہا تھا اور روزانہ دو سے تین گھنٹے اپنے والد کی زیر نگرانی مشق کرتا تھا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
حافظ عبداللہ ں نے بتایا کہ جب انہیں یہ پتہ چلا کہ انہوں نے اب اس مقابلے کے لئے قطر جانا ہے تو ان کے ذہن میں پوزیشن کا گمان بھی نہیں تھا بلکہ یہ سوچ تھی کہ مقابلے کے اس مرحلے تک پہنچ جانا اور تلاوت کرنا بھی بڑی کامیابی ہے لیکن یہ ان کے والد کی محنت کا ثمر اور اللہ کا فضل ہے کہ وہ پوزیشن ہولڈر بنے۔
اپنے مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ قرآن کریم کو اتنا بہترین انداز میں پڑھیں کہ انہیں بیت اللہ میں امامت کا شرف حاصل ہو سکے۔
انڈیپینڈنٹ اردو نے حافظ عبداللہ کے والد اور استاد قاری سلمان شاکر سے بھی بات کی انہوں نے بتایا کہ وہ خود سعودی عرب میں 14 سال امامت کے فرائض سر انجام دے کر آئے ہیں اور پاکستان آ کر گوجرانوالہ میں اک مدرسہ بنا کر بچوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے ہیں۔