ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور جوبلی انشورنس جنرل کے اشتراک سے اس پائلٹ منصوبے کا آغاز ان پہاڑی علاقوں میں بڑھتے ہوئے تنازعات کے پیش نظر کیا گیا ہے، جہاں مویشیوں کے نقصانات کے باعث مقامی افراد اکثر جنگلی جانوروں کو مار دیتے ہیں۔
کراچی کے ساحلوں پر بائیس سال بعد نایاب نسل کا اس سال میں دوسرا زیتونی کچھوا زخمی حالت میں ملا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہوگیا۔