سرمایہ دار کا وجود ہمارے نزدیک ایک گالی ہے، ہم اس سے نفرت کرتے ہیں، جس کے پاس چار پیسے ہوں اسے ہم بے ایمان تصور کرتے ہیں۔ حبیب جالب صاحب کی شاعری میں بھی یہ آزار نمایاں ہے۔
نقطۂ نظر
ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ایک فرد کے دکھ کو بنیاد بنا کر وقتی جذباتی کتھارسس کرنے کی بجائے اس مسئلے کو اجتماعی تناظر میں دیکھا جائے۔