گذشتہ عشرے کے ٹاپ ٹین پاکستانی فیشن ٹرینڈ

پچھلے دس برس میں پاکستان میں فیشن کے میدان میں کیا نئی نئی چیزیں دیکھنے کو ملیں؟

پاکستانی فیشن کے بدلتے رنگ 

(انڈپینڈنٹ اردو کی خصوصی سیریز جس میں 2010 سے لے کر 2019 تک کے دس سالوں کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جائے گا۔ اس سلسلے کی مزید کڑیاں نیچے ’مزید پڑھیے‘ پر کلک کر کے ملاحظہ کی جا سکتی ہیں)


رواں صدی کی دوسری دہائی اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ ایسے میں اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سیاست، کھیل، شوبز اور دیگر شعبوں کے علاوہ پاکستان کی فیشن صنعت نے بھی کافی دلچسپ وقت دیکھا۔ ایک جانب تو گزشتہ دہائی کے آخر میں شروع ہونے والے فیشن ویک نے جہاں نئے ڈیزائنروں کے لیے راستے کھولے وہیں پاکستان کے اپنے فیشن کے لیے بھی راستے بنائے۔

تاہم جیسے پاکستان میں سیاست کا رنگ ہر چیز غالب رہتا ہے اس طرح فیشن میں بھی اس دہائی میں سیاست رنگ ہی غالب رہا۔ منظور پشتین کی مزاری ٹوپی ہو یا کپتان چپّل، ملک میں فیشن پر سیاست کی چھاپ رہی لیکن اس کے ساتھ اس دہائی میں کچھ توقع سے بڑھ کر ہوا کہ مغربی ممالک نے پاکستانی چپّل، اجرک اور دیگر چند اشیا کا چھاپہ مار کر کئی گُنا دام میں بیچا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زیرِ نظر ہم فیشن سے منسلک دس ایسی ہی دلچسپ حقائق پیشِ خدمت ہیں:

10۔ اجرک کی بکینی!

پاکستان کی کسی بھی چیز کا ذکر ہو تو تنازع تو ہو گا ہی۔ ایسا ہی ایک دلچسپ تنازع سوشل میڈیا پر اس وقت شروع ہوا جب دو کپڑے تیار کرنے والی دو امریکی کمپنیوں ’فار ایور 21‘ اور ’اربن آؤٹ فٹرز‘ نے اجرک کے پرنٹ بنائے اور نہ صرف بنائے بلکہ ان کے مختصر لباس اور موخرالذکر نے تو بکینی تک بنا ڈالی۔

اس پر کئی پاکستانیوں نے ان دونوں برینڈز کے خون لتے لیے کیونکہ بکینی کو مراکشی پرنٹ کہا گیا تھا اور فار ایور 21 نے کوئی ذکر اجرک کا نہیں کیا تھا۔

اگرچہ اب ان کی تصویریں تو انٹرنیٹ پر موجود ہیں جو یہاں دیکھی جا سکتی ہیں، تاہم ان دونوں برینڈز کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر اس کی تصویریں ہٹا دی گئی ہیں۔

9۔ ڈولچے اینڈ گبانا کا ٹرک آرٹ

اطالوی ڈیزائنر برینڈ ڈولچے اینڈ گبانا نے بھی 2016 میں موسمِ گرما کی مناسبت سے رنگ برنگے ملبوسات پیش کیے جو پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ ٹرک آرٹ سے مماثلت رکھتے تھے۔ انہوں نے صرف کپڑے ہی نہیں بلکہ بیگ، دھوپ کے چشمے اور پرس بھی اسی انداز کے نکالے۔

یادرہے کہ پاکستان میں ٹرک آرٹ اس سے متاثرہو کر ڈیزائنروں نے کپڑے تیار کیے ہیں جیسے ماہین خان، دیپک پروانی۔ تاہم ڈولچے اینڈ گبانا کی بدولت یہ عالمی سطح پر متعارف ہو گیا۔

8۔ ورساچے کا پاجامہ کرتا

معروف اطالوی ڈیزائنر ڈوناتیلو وساچے نے اپنی 2016 کے موسمِ بہار اور گرما کے مردانہ ملبوسات کے لیے پاکستان کے روایتی شلوار قمیض سے انسپریشن لی ہے۔ یہ دعویٰ پاکستان کے کئی اخبارات اور جرائد کے فیشن پر لکھنے والے صحافیوں نے کیا۔ اگر ویڈیو اور تصاویر کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہے کہ جوتے کی جگہ چپل، سیدھی لمبی قمیض اور شلوار کو پاجامے سے ملتی جلتی پتلون کے انداز میں یہ کلیکشن پیش کی گئی۔

اگرچہ اس بارے میں ورساچے کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا تاہم یہ یاد رہے کہ دنیا بھر میں ڈیزائنر مختلف ممالک کے فیشن کو اپنے انداز میں ڈھال کر پیش کرتے رہتے ہیں۔ تاہم پاکستان کے لیے یہ امر ضرور دلچسپ تھا کہ ہمارا لباس اب عالمی سطح پر مقبول ہورہا ہے۔

7۔ نائن لائنز کے رنگ برنگے ملبوسات

لاہور سے تعلق رکھنے والی فیشن برینڈ ’نائن لائنز‘ اس لحاظ سے منفرد ہے اس نے پاکستان کے شہری علاقوں میں پاپ کلچر کی مناسبت سے بہت اچھوتا کام کیا۔ پاکستان میں جہاں بہت سادہ اور عام رنگوں کے لباس پہنے جاتے ہیں وہاں انہوں نے رنگ برنگے ملبوسات جن میں زرد، سرخ، سبز، نارنجی، جامنی کے ساتھ ساتھ سنہرے اور روپہلے رنگوں کو بھی استعمال کیا۔

2013 میں شروع ہوانے والے اس برینڈ کی کوئی دکان نہیں ہے اور یہ فیس بک اور انسٹا گرام یا پھر اپنی ویب سائٹ سے اپنے ملبوسات فروخت کرتی ہے۔ بعد ازاں نائن لائنز نے تکیے کے کشن، ٹرے اور پاسپورٹ کور جیسی اشیا بھی انہی رنگوں میں فروخت کے لیے پیش کیں۔  

6۔ سیاسی فیشن

سابق وزیرِاعظم پاکستان میاں نواز شریف کے خلاف جب پاناما اسکینڈل کا آغاز ہوا تو کراچی سے تعلق رکھنے والی برینڈ ففتھ ایوینیو نے اس کیس سے جڑے ایک معاملے کیلیبری فونٹ کی ایک ٹی شرٹ نکالی جو کافی مقبول ہوئی۔ بس پھر کیا تھا، اس برینڈ نے اسے کمائی کا موقع دیکھ کر ’مجھے کیوں نکالا‘ ’شیر پنجرے میں بند‘ اور نواز شریف اور مریم نواز کی سزاؤں کے نمبر اور پھر عمران خان کا مشہور قول ’گھبرانا نہیں ہے‘ کے نام کی ٹی شرٹس نکالتے چلے گئے۔

5۔ عمران خان کُرتا

اپریل 2014 میں پاکستانی ڈیزائنر ماہین کاردار نے مئی 2013 میں ہونے والے عام انتخابات کی نسبت سے ’عمران خان کرتے‘ کا آغاز کیا جو اس وقت ان کی برینڈ کارما پر چار ہزار روپے میں دستیاب تھا۔ یہ کرتا عمران خان اور تحریکِ انصاف کے چاہنے والوں میں کافی مقبول ہوا۔

اس کُرتے پر عمران خان کی تصاویر چھپی ہوئی تھیں اور اسے خریدنے والوں کی پسند کے مطابق متعدد رنگوں جیسے سرخ، سبز، سفید، جامنی، نارنجی سمیت دیگر کئی رنگوں میں متعارف کروایا گیا تھا۔

4۔ کہاں سے آئے تھے یہ جھمکے؟

اکتوبر 2019 میں لندن میں برطانوی شہزادی ڈچز آف کیمبرج کیٹ مڈلٹن نے اسماعیلیوں کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغاان سے ملاقات کے دوران پاکستانی جیولری برینڈ زین کے تخلیق کردہ جھمکے پہنے تھے۔ سبز رنگ کے یہ جھمکے شہزادی پر تو خوب جچے ہی یہ پاکستان میں اتنی جلدی مقبول ہوئے کے چند ہی گھنٹوں میں ان کا سارا سٹاک زین کی ویب سائٹ پر فروخت ہوگیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کی قیمت پاکستانی روپے میں بھی کچھ زیادہ نہیں اور یہ صرف 835 روپے میں دستیاب ہیں۔ اگر گذشتہ دس سال کا جائزہ لیا جائے تو کسی جیولری آئٹم کا اتنا مقبول ہونا نظر نہیں آتا۔

3۔ شاہوانی

پاکستان کے معروف ڈیزائنر نعمان عارفین نے اپنی شہرہ آفاق شیروانی، جسے حال ہی میں پاکستان کے دورے کے دوران تاج برطانیہ کے وارث ڈیوک آف کیمرج شہزادہ ولیم نے زیب تن کیا، کو اب دنیا بھر میں آن لائن فروخت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس صدی کی دوسری دہائی کی آخری سہ ماہی میں برطانیہ کے شہزادہ ولیم نے اپنے دورہء پاکستان کے دوران ایک سرکاری ضیافت پر فیروزی مائل سبز رنگ کی شیروانی پہنی جسے پاکستانی ڈیزائنر نعمان عارفین نے تخلیق کیا تھا۔ اس شیروانی کا پاکستان سمیت دنیا بھر میں چرچا ہوا جس کے بعد نعمان عارفین نے اسے عوام کے لیے بھی بنانا شروع کردیا اور اس کی قیمت 1450 امریکی ڈالر یا سوا دو لاکھ پاکستانی روپے ہے۔ نعمان عارفین نے اپنی اس تخلیق کا نام ’شاہوانی‘ رکھا ہے اور ان کے مطابق یہ ترکیب بادشاہ کے ’شاہ‘ اور ’شیروانی‘ کے وانی کا مرکب ہے۔

2۔ جدوجہد کی علامت

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین کو جب شہرت حاصل ہوئی تو ان کی پہنی ہوئی سرخ اور سیاہ رنگ پر مشتمل یہ ٹوپی بھی نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان سمیت کئی ممالک میں تیزی سے مقبول ہوئی جو بعد ازاں اس تحریک کی علامت بن گئی۔ مخصوص نقش و نگار سے سجی یہ ٹوپی پہلے ’مزاری ٹوپی‘ کے نام سے جانی جاتی تھی کیونکہ اس کا تعلق افغانستان کے شہر مزار شریف سے ہے تاہم اب اسے سوشل میڈیا اور انٹر نیٹ پر منظور پشتین اور اُن کے حامیوں کی جانب سے اس کے بار بار استعمال کی وجہ سے اس کا نام’پشتین کیپ‘ پڑ چکا ہے۔

میڈیا کی خبروں کے مطابق اس کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے اب اسے پشاور اور کراچی میں بھی تیار کیا جارہا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ صرف افغانستان سے ہی درآمد کی جاتی تھی۔ اس ٹوپی کے متعلق بھی بہت سی خبریں آئیں خاص کر گلگت بلتستان میں اسے پہنے پر پابندی لگائی گئی اور کبھی صوبہ خیبر پختون خواہ کی جامعات میں اسے پہننے سے منع کیا گیا۔ کوئی کچھ بھی کہے اب یہ ٹوپی جبر کے خلاف جِدوجہد کی علامت ہے۔ 

1۔ کپتان چپّل

پشاوری چپل کی یہ قسم وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے کثرتِ استعمال کی وجہ سے اب کپتان چپل کے نام سے شہرت حاصل کر چکی ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے چچا نورالدین نے پشاوری چپل میں کچھ تبدیلیاں کر کے اسے عمران خان کو بطور تحفہ بھجوایا تھا جو انہیں بہت پسند آیا۔ عمران خان کی جانب سے اسے بیرونِ ملک دوروں پر بھی پہنا گیا جس سے اس چپل کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور اب یہ کپتان چپل کے نام سے ہی جانی جا رہی ہے۔ البتہ پشاوری چپل کا ڈیزائن نیا نہیں ہے اور یہ صرف پاکستان یا ایشیا ہی نہیں بلکہ یورپ میں بھی مقبول ہے۔ 2014 میں پال اسمتھ نے یہ چپل تیار کر کے 300 برطانوی پاؤنڈ میں فروخت کے لیے پیش کیے تھے جبکہ 2019 میں فرانسیسی فیشن ڈیزائنر کرسٹیئن لوبوٹن نے معروف پاکستانی آرٹسٹ عمران قریشی کے نام پر ’عمران سینڈل‘ نامی چپل تیار کی۔

فرانسیسی ڈیزائنرکرسٹئین لوبوٹن، عمران قریشی کے قریبی دوست ہیں، 2017 میں دورہ لاہور کے دوران انہوں نےلاہور کا بھی دورہ کیا اور واپس جاتے ہی اپنی برانڈ کے بینر تلے ’لاہور فلیٹس‘ متعارف کروائی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹاپ 10