کم یو جونگ کون ہیں؟ کیا ایک عورت شمالی کوریا کا اقتدار سنبھال سکتی ہے؟

کم سن گپتا لکھتے ہیں کہ کم جونگ ان کی چھوٹی بہن کی زندگی کے بارے میں ہمیں جس قدر کم معلومات حاصل ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک میں ناصرف رہ رہی ہیں بلکہ کامیاب بھی ہیں جہاں جنونیت اور رازداری کا دور دورہ ہے۔

(روئٹرز)

چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو بھائی اور بہن کے مابین نزدیکی ظاہر کرتی ہیں۔ چین کے دورے کے دوران جب کم جونگ ان نے سگریٹ جلائی تو کم یو جونگ اپنے ہاتھوں میں ان کے لیے ایک کرسٹل کا ایش ٹرے اٹھا کر لے آئیں۔ اور جب شمالی کوریا کے رہنما سنگاپور میں مشہور سربراہی اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے والے ہی تھے کہ ان کی بہن نے فورا عہدیداروں کے جانب سے  فراہم کردہ قلم کی بجائے انہیں ان کا پین بڑھا دیا۔

لیکن کہا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما اور ان کی بہن کے درمیان قربت اور اشاروں کا ایک اور مقصد بھی تھا۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ حکمران خاندان کا ڈی این اے کوئی غیرملکی حکومت حاصل نہ کر لے۔

یہ سب واقعات ایک انتہائی خفیہ ریاست کی جانب سے خود کو کسی بھی ممکنہ سمجھے جانے والے خطرے سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کی جھلک تھے اور جس میں خاندان کی حکمرانی کو تحفظ دینے کے لیے 32 سالہ کم یو جونگ کا کردار نمایاں ہے۔

لیکن یہ وہ کردار ہے جو کم یو جونگ ادا کریں گی جب تمام دنیا کی نظریں ان کے 36 سالہ بھائی کی صحت سے جڑی موجودہ غیریقینی صورت حال پر ہیں۔ ان کی دل کے عارضے میں مبتلا ہونے اور سرجری کے بعد ان کی حالات خراب ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں اکثر چیزوں کی معلومات کا فقدان رہتا ہے، کم جونگ کے علاج کو اچھی طرح سے محفوظ کیا گیا۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آپریشن 12 اپریل کو میوہیانگ کے ہیانگسین کلینک میں ہوا، جو حکمراں خاندان کی صحت کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ اسے پیانگ یانگ کے کم مان یو ہسپتال کے بہترین سرجن نے سرانجام دیا، جو بعد میں ایک ہفتہ تک بحالی کے عمل کا مشاہدہ کرنے کے لیے ٹھہرے۔ اس کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کو اپنے 30 محافظوں کے ساتھ کوہ کمگینگ ہل سٹیشن پر انتہائی سخت مشاہدہ میں رکھا گیا۔

سیئول میں واقع شمالی کوریا کے ایک روزنامہ ڈیلی این کے نے اس کی کچھ خبر دی تھی۔ اس کے بعد سی این این نے امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ نشر کی کہ واقعی سرجری ہو چکی ہے اور کم کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔

تاہم جنوبی کوریا اور چین میں کچھ سرکاری عہدیداروں کے مطابق کم کی موت کے بارے میں افواہیں مبالغہ آمیز تھیں۔ ان کے پاس ہسپتال میں قیام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں، اور انہوں نے دعوی کیا کہ وہ میوہیانگ کے پہاڑوں میں قیام پزیر نہیں تھے، اور زیادہ تر امکان یہ ہے کہ وہ سمندر کے کنارے واقعے ونسن میں رہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ اس رہنما کی سرگرمیوں میں ’کوئی غیرمعمولی‘ بات نہیں دیکھی گئی ہے۔

آخری دعوے پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں۔ پہلی بار ایک ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے - یا ریاستی امور کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے، کم جونگ ان 15 اپریل کو اپنے دادا اور خاندان کے بانی کم ال سونگ کی سالگرہ کے موقع پر کمسوسان محل میں سالانہ پھول چڑھانے کی تقریب میں حصہ لینے میں ناکام رہے۔ یہ ریاست کی سالانہ سرکاری تقریبات میں سے ایک اہم ترین تقریب تھی۔

کم ال سونگ کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا، جیسا کہ ان کے بیٹے اور وارث کم جونگ ال کا انتقال بھی اسی باعث ہوا تھا۔ لہذا ان میں دل کا عارضہ موروثی ہوسکتا ہے۔ کم جونگ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پانچ فٹ سات انچ قد اور 136 کلوگرام کا وزن رکھتے ہیں  اور (چین سموکر) مسلسل سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ نہ تو جنوبی کوریا اور نہ ہی چینی عہدیداروں نے انہیں دل کا دورہ پڑنے والی اطلاعات سے انکار کیا ہے۔ ان کا جو کہنا ہے وہ یہ ہے کہ کہ ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان کی جان خطرے میں ہے۔ پھر اختتام ہفتہ یہ خبریں سامنے آئیں کہ بیجنگ سے ایک ٹیم، بشمول طبی ماہرین، شمالی کوریا روانہ ہوئی تھی اور اس وفد کی قیادت چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی رابطہ کے شعبے سے وابستہ ایک سینیئر ممبر کر رہے تھے، جو عام طور پر پیانگ یانگ کے ساتھ تعلقات دیکھتی ہے۔

11 اپریل کو آخری بار کِم جونگ ان، عوامی طور پر سامنے آئے تھے جب انہوں نے پیانگ یانگ میں ورکرز پارٹی آف کوریا کی مرکزی کمیٹی کے توسیعی پولٹ بیورو کے اجلاس میں حصہ لیا تھا۔ اس سے ان کی تیزی سے خراب ہوتی ہوئی صحت کی نشاندہی ہوتی ہے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس کے اگلے دن ہی ان کا آپریشن کیا گیا۔

اس کے بعد سے وہ عوام میں نہیں دیکھے گئے اور اس واقعے سے 2008 کی یاد تازہ ہوئی جب ان کی سنگین خرابی صحت سے متعلق اطلاعات تھیں۔ اس کے بعد وہ دوبارہ سامنے آئے تو ان کی واضح طور پر صحت خراب تھی اور یہ ثبوت سامنے آئے کہ انہیں عارضہ قلب لاحق ہوا تھا۔ 2014 میں چھ ہفتے غائب رہنے کے بعد کِم جونگ ان چھڑی کا سہارہ لیتے ہوئے منظرعام پر آئے۔ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کے مطابق ان کے ٹخنے کا آپریشن ہوا تھا۔

پولٹ بیورو اجلاس کی تصاویر میں سینکڑوں ممبران ان کی قریبی نشست میں بیٹھے ہوئے دکھائی دیے، جس کے نتیجے میں یہ دعوی کیا گیا کہ کم جونگ ان کو دل کا دورہ نہیں پڑا تھا، بلکہ اس کی وجہ کرونا وائرس کا حملہ تھا۔ شمالی کوریا کے مطابق 700 افراد  کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا اور تقربیا 500 سے زائد افراد کو قرنطینہ میں منتقل کیا گیا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کو کرونا انفیکشن کے کسی بھی واقعے سے بےخبر رکھا گیا۔

کم جونگ ان کے بڑے سگے بھائی کم جونگ نام کو ایک وقت میں ان کے والد کا جانشین سمجھا جاتا تھا، لیکن 2001 میں جب وہ جعلی پاسپورٹ پر جاپان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے پکڑے گے تو انہیں خاندانی حمایت سے محروم کردیا گیا۔ وہ صرف ٹوکیو ڈزنی لینڈ جانا چاہتے تھے۔ بعد میں انہیں مبینہ طور پر2017 میں شمالی کوریا کے ایجنٹوں نے ملائیشیا میں ہلاک کر دیا تھا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ سی آئی اے کے ایجنٹ تھے۔ کم جونگ ان کے اقتدار میں آنے کے فورا بعد ایک چچا جنگ سونگ تھاک کو، جو اسٹیبلشمنٹ کی ایک مضبوط شخصیت تھے، بھی2013 میں غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور پھانسی دے دی گئی۔ ایک اور بھائی، کم جونگ چول کے، جوکہ ایک باصلاحیت گٹار پلیئر اور ایرک کلپٹن کے پرستار تھے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

کم یو جونگ کو ان کا بھائی اپنے حريف کے طور پر نہیں دیکھتے۔ دَرحقیقت وہ اپنی بہن کے خیالات سنتے ہیں۔ لیکن اگر ان کا بھائی ایک طویل عرصے تک بیماری کی وجہ سے غیرفعال رہتا ہے تو یہ اقتدار میں آسکتی ہیں۔

کم یو جونگ کی حال ہی میں پولٹ بیورو کی رکنیت بحال کر دی گئی۔ یہ ان کے لیے ایک اہم واپسی تھی مگر اس کے بعد ان کی اہمیت عارضی طور پر کم ہوگئی کیونکہ کم جونگ، ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں سے حاصل ہونے والے نتائج سے غیرمطمئن تھے۔ کہا جاتا ہے کم یو جونگ نے دونوں رہنماؤں کی ایک دورے کے خلاف کئی ماہ سے جاری توہین آمیز بیانات کے باوجود اپنے بھائی کی سنگاپور اور ہنوئی میں ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی حمایت کی تھی۔

کم کی بہن کو پروپیگینڈا اور ایجی ٹیشن ڈیپارٹمنٹ کی پہلے نائب ڈائریکٹر کے عہدے کی دوبارہ تصدیق کی گئی ہے۔ گذشتہ ماہ ان کی طرف سے عوامی سطح پر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے بیان دیے گیے جس میں انہوں ٹرمپ کی جانب سے موصول ہونے والے خط میں دوطرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے اور کرونا وائرس کے حوالے سےکسی بھی قسم میں درکار مدد کی پیش کش کرنے کے وعدے کی تعریف کی۔ انہوں نے جنوبی کوریا کی طرف سے شمال کے میزائلوں کے تجربات کی بحالی پر اعتراض کرنے پر انہیں جواب میں ’خوف زدہ بھونکتے کتے‘ جیسا سخت بیان بھی دیا۔

 پچھلے سال دسمبر میں کم یو جونگ کا پہلا عسکری حکم نامہ فوج میں تمام خواتین یونٹوں کو بھیجا گیا تھا۔ تصاویر میں دیکھایا گیا ہے کہ بھائی اور بہن مل کر اداروں اور فیکٹریوں کا معائنہ کر رہے ہیں اور قوم کی مقدس جائے پیدائش ماونٹ پیکٹو،  پر سفیدگھوڑوں پر سواری کر رہے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کم یو جونگ، کم جونگ ال کی ان کے حکمران بننے سے قبل ان کی والدہ سے جن کا نام کو یونگ ہوئی تھا جو ایک رقاصہ اور ان کی محبُوبہ تھیں کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ ان کی والدہ کی پیدائش جاپان میں رہنے والے ایک کوریائی گھرانے میں ہوئی تھی اور وہ جب دس سال کی تھیں تو شمالی کوریا آ گئیں۔ ان کے دو بیٹے کم جونگ چول اور کم جونگ ان ہیں۔ ان کے والد کے دو دیگر عورتوں سے دو اور بچے کم جونگ نام اور بیٹی کم سول سانگ بھی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کم یو جونگ اور ان باقی سگے بہن بھائیوں کی پرورش خاندان کے دوسرے افراد سے عیلحدہ کی گئی۔ کیونکہ ان کے والد انہیں ان کے دادا کے زیراثر رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی سوئٹزرلینڈ کے ایک نجی سکول سے ہوئی تھی۔

 شمالی کوریا واپس آنے کے بعد کم یو جونگ  کم ال سنگ ملٹری یونیورسٹی اور پھر کم ال سنگ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے وہاں میگومی یوکوٹا، ایک جاپانی خاتون جنہیں 1977 میں 13 سال کی عمر میں اغوا کر کے شمالی کوریا لایا گیا تھا، بیٹی کم یون گیانگ سے دوستی ہوئی۔ پیانگ یانگ حکومت نے بعد میں ان کے اغوا ہونے کی تصدیق تو کی مگر یہ دعویٰ بھی کیا کہ یوکوٹا کی موت تب ہوئی جب وہ قید میں تھیں۔ یہ مسئلہ اب تک دونوں ممالک کے مابین تنازع کا سبب ہے۔

کم یو جونگ کو اپنے والد کے سکریٹریٹ میں قومی دفاعی کمیشن میں کام کرنے سے پہلے حکمران ورکرز پارٹی آف کوریا کی جونیئر کیڈر کی رکن بنیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی والدہ  2004 میں فرانس کے ایک ہسپتال میں چھاتی کے کینسر کی وجہ سے وفات پاگئیں۔

کم جونگ ال کی موت کے بعد ان کے چند بیٹوں کے درمیان اقتدار حاصل کرنے کی لڑائی شروع ہوگئی۔ اس وقت اقتدار کے لیے کم یو جونگ نے اپنے بھائی کی بھر پور حمایت کی۔

 

 

2011 میں انہوں نے اپنے بھائی کے اور سرکردہ حکام کے ہمراہ کم جونگ ال کے سرکاری جنازے میں شرکت کی۔ شمالی کوریا لیڈرشپ واچ بلاگ کے مطابق ایک نئے رہنما نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کے لیے کم جونگ اپنے بھائی کے  قریبی ساتھیوں میں سے ایک تھیں اور ان کے تمام عوامی مواقع، سفر کے پروگراموں اور دیگر معاملات کو دیکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کے بعد ریاستی میڈیا میں ان کے بارے میں خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ کچھ منظر عام پر آنے والی ٹیلی ویژن فوٹیج بھی ہے جس میں نومبر 2012 میں وہ کم جونگ ان کے ساتھ ملٹری گراؤنڈ میں سواری اور مارچ 2014 میں سپریم کورٹ کی عوامی اسمبلی کے دوران انہیں ان کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ کم یو جونگ کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی چیدہ چیدہ معلومات سامنے آنے لگیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے جنوری 2015 میں ایک سرکاری اہلکار چو ریانگ ہی کے بیٹے چو سونگ سے شادی کی، لیکن جنوبی کوریا کے سرکاری ذرائع نے اس خبر  کی تردید کر دی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اس سال مئی میں حاملہ تھیں۔ اس بچے کے والد حکمران جماعت کے رکن یا پھر خصوصی فوجی یونٹ کے افسر تھے۔

عوام سے عموما کم آمنا سامنا ہونے کے باوجود، 2014 میں جب ان کے بھائی خراب صحت کی وجہ سے ایک عرصے تک غائب رہے تو کم یو جونگ کے اقتدار سنبھالنے کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ وہ پس پردہ ہمیشہ ایک بااثر شخصیت رہی ہیں۔ ایک متنفر سفارت کار تھائے یونگ ہو کے بقول بہن ہی 2017 تک تمام عوامی تقریبات کا انتظام چلانے لگیں۔

کم یو جونگ اپنے بھائی کی ملکی معاملات سنبھالے میں پیش پیش ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ محتلف سرکاری دورے جیسا کہ ہسپتالوں، وزارتوں اور میلوں میں جاتے ہوئے ان کی  تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کی مشہور باسکٹ بال کے کھلاڑی ڈینس روڈ مین کے ساتھ دوستی کی خبریں کافی مقبول رہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کم یو جونگ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی بیرونِ ملک نکتہ چینی کا باعث بھی بنی۔ 2017 میں امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ان کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی سنجیدہ خلاف ورزیوں اور سینسر شپ کی وجہ سے ان پر پابندیاں لگائی گئیں۔ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دعوی کیا کہ وہ ایک سینیئر حکومتی عہدے پر ہوتے ہوئے منشیات، جعلی کرنسی اور اسلحہ کی سمگلنگ سمیت آن لائن فراڈ اور دھوکہ دہی کے دیگر معاملوں میں ملوث ہیں۔

ان پابندیوں سے کم یو جونگ ینگ منظرعام سے غائب بالکل بھی نہیں ہوئیں بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ انہوں نے 2018 میں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ جنوبی کوریا میں ہونے والی اس تقریب میں انہیں بےتحاشا میڈیا کوریج ملی۔

انہوں نے جنوبی کوریا کے صدر سے ملاقات کے دوران انہیں اپنے بھائی کی جانب سے لکھا گیا ایک خط بھی پیش کیا۔ اس کے علاوہ اس دہائی کے دو اہم ترین واقعات میں اپنے بھائی کے ہمراہ ان ملاقاتوں میں بھی شامل تھیں جو انہوں نے صدر ٹرمپ سے کیں۔ ان میں سے ایک ملاقات سنگاپور اور دوسری ہنوئی میں ہوئی۔ 

کچھ تجزیہ کاروں کی رائے میں شمالی کوریا کا پدرسری نظام  اور کنفیوشس کی تعلیمات پر مبنی ثقافت کسی خاتون کو رہنما نہیں بننے دے گی۔ لیکن ہمیں ان کے بارے میں جتنی بھی معلومات حاصل ہیں ان کے حساب سے وہ اس ملک میں میں جتنے بھی برے ادوار آئے بخوبی ان سے عہدہ برا ہوئیں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ترقی کے مزید زینے چڑھتی گئیں۔

اور اگر واقعی ان کے بھائی کم جونگ ان غیرفعال ہو گئے تو وہ باآسانی کرونا کی تباہی کے بعد غیریقینی جغرافیائی حالات میں نئی طاقت کے اس مرکز کی بااختیار رہنما بن سکتی ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین