پروین بابی اور روحی بانو: دو اداکارائیں، ایک دکھی کہانی

شوبز میں ہر رشتہ اس وقت تک قائم رہتا ہے جب تک شہرت کی دیوی مہربان ہو۔ ادھر اس دیوی نے آنکھیں موڑیں، ادھر ساری دنیا طوطا چشم ہو جاتی ہے۔

پروین بابی ہوں یا روحی بانو دونوں اپنے پیچھے بس یہ پیغام چھوڑ گئیں کہ فن کی یہ دنیا صرف اور صرف چڑھتے سورج کی پوجا کرتی ہے(سوشل میڈیا)

اداکارائیں دو لیکن کہانی ایک جیسی۔ دونوں کے مقدر میں احساس محرومی، بے بسی، زمانے کی ناقدری، اپنوں کی بے رخی، تنہائی کا عذاب اور مالی پریشانیوں کی بے رحم ٹھوکریں آئیں۔

سرحد کے آر پار رہنے والی ان اداکاراؤں کی لاچارگی سے بھری زندگی میں آرزوں اور خواہشات پل پل تڑپتی اور سسکتی رہیں۔ ایک پروین بابی کے نام سے مشہور ہوئیں تو دوسری روحی بانو کے نام سے۔ دونوں ساری زندگی سہاروں کی تلاش میں اِدھر سے اُدھر بھٹکتی رہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ دونوں کے حصے میں دکھ، رنج اور احساس محرومی کے گہرے سیاہ بادل منڈلاتے رہے۔ شہرت کے عروج پر کئی کے دل ان کے لیے دھڑکتے رہے لیکن جب زوال آیا تو کسی کے دل میں ان کے لیے احساس کا درد بیدار نہ ہوا۔ عمر کے بے رحم گھاؤ نے بھی رہی سہی ساری کسر پوری کر دی۔

دونوں آہستہ آہستہ تنہا ہوتی گئیں اور جب نفسیاتی بیماریوں نے گھیرا تو خوف اور کرب نے دل کے ویران آنگن میں جڑیں پکڑنا شروع کر دیں۔

ریاست جونا گڑھ کے بابی شاہی خاندان میں آنکھ کھولنے والی پری چہرہ پروین محمد علی نے شہرت کا سفر انتہائی مختصر عرصے میں طے کیا۔ ہیجان خیز انداز ہی نہیں غیر معمولی اداکاری نے انہیں پلک جھپکتے میں بالی وڈ کی کامیاب اداکاراؤں کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ 15 برس کے فلمی کیریئر میں 50 فلموں میں ہیروئن کا کردار نبھایا۔ ہر اداکار کے ساتھ کام کیا لیکن امیتابھ بچن کے ساتھ جو کام کیا وہ دلوں میں گھر کرگیا۔

وہ امیتابھ بچن کی ’مجبور،‘ ’دیوار،‘ ’کالیا،‘ ’امر اکبر انتھونی،‘ ’شان‘ اور ’مہان‘ جیسی سپر ڈوپر ہٹ فلموں کی ہیروئن بنیں۔ کیا یہ اعزاز کم نہیں تھا کہ امریکی جریدے ’ٹائم‘ کے سرورق پر ان کی تصویر شائع ہوئی۔

ایسے میں دل کا پنچھی کبھی مہیش بھٹ کی ڈال پر بیٹھا تو کبھی ڈینی تو کبھی کبیر بیدی کی۔ اپنے وقت کی بولڈ اینڈ بیوٹی فل پروین بابی سچے پیار کی تلاش میں در بدرکی ٹھوکریں کھاتی رہیں۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہر سہارہ تنکے کی طرح کمزور ثابت ہوا تو احساس محرومی کے سائے اور پھیلتے گئے۔ فلمیں فلاپ ہونا شروع ہوئیں تو ہدایت کار ہی نہیں جو ایک ایک ادا پر فدا ہونے کو تیار تھے، راہیں بدلنے لگے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلموں سے عارضی علیحدگی بھی اختیار کی اور واپس آئیں لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا۔ وہ پیش منظر سے پس منظر میں چلی گئی تھیں۔ فلموں میں کام نہ ملنا اور پھر لوگوں کی بے رخی نے شیزو فرینیا نامی مرض میں ایسا مبتلا کیا کہ اپنے سائے سے بھی خوف آنے لگا۔ یہ اِسی بیماری کا اثر تھا کہ امیتابھ بچن کے خلاف عدالت کا دروازہ تک کھٹکھا دیا۔ الزام داغا کہ وہ ان کی جان کے دشمن ہیں۔

کئی ہفتوں تک چلنے والی اس عدالتی کارروائی میں پروین بابی خود تو مالی بحران سے ضرور دوچار ہوئیں لیکن امیتابھ بچن کو مجرم ثابت نہ کر سکیں۔ مڑ کر ایک بار پھر پرانے دوستوں کی طرف دیکھنا چاہا تو وہاں دور دور تک کوئی نہیں کھڑا تھا۔ ان میں سے ایک مہیش بھٹ نے بعد میں ’ارتھ‘ اور ’وہ لمحے‘ بنا کر اپنی کوتاہیوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی۔

تاہم ’شادی شدہ محبوب‘ چاہے وہ کبیر بیدی ہوں یا ڈینی یا پھر مہیش بھٹ، اس اداکارہ کے ساتھ تعلق کو کوئی قانونی رشتہ دینے کو تیار نہیں تھے۔

پروین بابی نے اس حقیقت کو جان لیا کہ وہ ان سب کے لیے صرف وقت گزارنے کی شے تھیں اور یہی غم انہیں نفسیاتی اور ذہنی امراض سے اور قریب کرتا چلا گیا۔ دیگر بیماریوں نے آن گھیرا تو مے نوشی اور دوائیوں کے ذریعے سب کچھ بھولنے کی ناکام کوشش کی۔ پھر 22 جنوری، 2005 کو ممبئی کے فلیٹ میں گم نامی کی زندگی گزارتے ہوئے موت کی نیند سو گئیں۔

کیسا المیہ ہے کہ اپنے دور کی اس بڑی اداکارہ کی موت کی خبر فلیٹ سے اٹھنے والی بدبو نے دی۔ پوسٹ مارٹم کے ذریعے معلوم ہوا کہ پروین بابی تو دو دن پہلے ہی چل بسی تھیں۔

کیسی ستم ظریفی ہے کہ ہر محفل کی جان سمجھی جانے والی پروین بابی کے آخری سفر میں بھی بالی وڈ ستاروں نے انہیں تنہائی کا دکھ دیا۔ جس سال ان کی زندگی کا چراغ گل ہوا، اسی سال یعنی 2005 میں سرحد کے اِس پار ایک اور اداکارہ روحی بانو کا جواں سال اکلوتا بیٹا علی رضا بے رحمی سے کیا قتل ہوا کہ ان کی زندگی میں مسائل کے نہ ختم ہونے والے طوفان کا آغاز ہو گیا۔

بیٹے کی موت کا زخم جیسے روحی بانو کی روح کو تارتار کر گیا۔ ان کے جذبات اور احساسات نوکیلی کرچیوں کا روپ دھار کر انہیں ہی لہو لہان کرنے لگے۔ چند ماہ بعد والدہ کی سوختہ لاش ملی تو جیسے ان کی دنیا ویران ہو گئی۔ پروین بابی کی طرح وہ بھی دماغی بیماری شیزو فرینیا کا شکار ہو گئیں۔

کیسی عجیب بات ہے کہ جس شہر ممبئی میں پروین بابی نے زندگی کی آخری سانسیں لیں اس سے روحی بانو کا تعلق خاصا پرانا تھا۔ کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ ان کی پیدائش ممبئی میں ہی ہوئی تھی۔ والدہ زینت بیگم طبلہ نواز استاد اللہ رکھا کی دوسری شریک سفر بنیں۔

روحی بانو کے سوتیلے بھائی شہرت یافتہ طبلہ نواز ذاکر حسین ہیں۔ والدہ روحی کی پیدائش کے بعد پاکستان آ گئی تھیں۔ 50 کے قریب ڈراموں میں کام کرنے والی اس خوبرو اور مثالی اداکارہ نے ’ایک محبت، سو افسانے،‘ ’حیرت کدہ،‘ ’زرد گلاب،‘ ’دروازہ،‘ ’قلعہ کہانی،‘ ’پکی حویلی‘ اور ’کرن کہانی` جیسے لازوال ڈراموں میں کام کیا۔

شہرت کا یہ سفر انہیں فلموں کی طرف بھی لایا۔ جبھی ان کے دامن میں ’دلہن ایک رات کی،‘ ’بڑا آدمی،‘ ’دل ایک کھلونا،‘ ’دشمن کی تلاش،‘ ’خدا اور محبت،‘ ’گونج اٹھی شنہائی‘ اور ’ٹیپو سلطان‘ جیسی یادگار فلموں کا تحفہ سمایا ہوا تھا۔

شہرت کے اس سفر میں آنکھیں بچھائے پرستار، پروڈیوسرز اور اداکار بیٹھے رہتے۔ کامیاب ازدواجی زندگی نہ ہونے کا احساس انہیں دکھ اور رنج کی تصویر بناتا چلا گیا، کسی ایسے شریک سفر کی کھوج میں رہیں جو ان کے دکھ اور درد کا مداوا کر سکے۔

زوال کا سورج غروب ہونے لگا تو ٹی وی ڈرامے کیا اداکاروں اور پروڈیوسروں نے بھی اپنی زندگیوں سے نکال باہر پھینکا۔ عمر کے گھاؤ لگنے شروع ہوئے تو رنج اور الم کا ایک نیا باب کھل گیا۔ اجڑے اجڑے بال، چہرے پر جھریاں، پھٹے پرانے بوسیدہ بدبودار کپڑے او ر بہکی بہکی باتیں جیسے روحی بانو کی شناخت بن گئیں۔

کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہی روحی بانو تھیں جو 70 اور 80 کی دہائی میں ٹیلی ویژن پر مہارانی کی طرح راج کیا کرتی تھیں۔ جواں سال بیٹے کی موت کے بعد وہ خود فلسفہِ موت کو سمجھنے کی کوشش میں لگی رہیں۔

روحی بانو ذہنی بیماریوں میں گھرتی چلی گئیں۔ جائیداد پر نامعلوم افراد اور اپنے ہی خاندان کے معلوم افراد کے قبضے ہوتے چلے گئے، کبھی قاتلانہ حملے کی بھی خبریں ملتیں اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ کروڑوں کی جائیداد والی یہ اداکارہ شیلٹر ہوم میں رہ کر بے بسی اور مجبوری کی داستان بن گئی۔

مالی مسائل بھی جیسے ان کے تعاقب میں لگے ہوئے تھے۔ پروین بابی کی طرح اپنوں کی طرف دیکھا تو وہاں بے رخی اور اجنبیت کے سوا کچھ نہ ملا۔ کسی بھٹکتی روح کی طرح کبھی ادھر تو کبھی ادھر زندگی کی آزمائشوں کو پورا کرنے میں لگی رہیں۔ کبھی ان کے لاپتہ ہونے کا پتہ چلتا تو کبھی وہ سر راہ ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے انصاف کی دہائی دیتے نامعلوم منزل کی طرف لڑکھڑاتے قدموں سے بڑھتیں۔

پھر یہ اطلاع ملی کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر بہن کے پاس ترکی چلی گئیں اور پھر پچھلے برس 25 جنوری کو ترک شہر استنبول کے ہسپتال میں پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز رکھنے والی روحی بانو روح پر لگنے والے کئی زخموں اور صدموں کا بوجھ نہ سہہ سکیں اور 10 دن تک وینی لیٹر پر زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد خاموشی سے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند کر سو گئیں۔

پروین بابی ہوں یا روحی بانو دونوں اپنے پیچھے بس یہ پیغام چھوڑ گئیں کہ فن کی یہ دنیا صرف اور صرف چڑھتے سورج کی پوجا کرتی ہے۔ برا وقت آنے پر کوئی کسی کا غم گسار، ہمدرد یا اپنا نہیں ہوتا۔ یہاں ہر رشتہ اور ہر تعلق اُسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک شہرت کی دیوی مہربان ہو۔ ادھر اس دیوی نے آنکھیں بدلیں، ادھر ساری دنیا طوطا چشم ہو جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم