کرونا کے دور میں لیلۃ القدر کی تلاش

ماہ رمضان کی 27 ویں شب کے موقع پر ملک بھر کی مساجد اور گھروں میں خصوصی اذکار کی محافل سجائی جاتی ہیں، لیکن اس سال کرونا (کورونا) کی وبا کے باعث گھروں پر ہی عبادت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

سینیگال میں ایک نمازی کرونا وائرس سے بچاؤ کا ماسک لگائے نماز ادا کر رہا ہے (تصاویر: اے ایف پی)

ماہ رمضان کے تیسرے عشرے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس عشرے میں مسلمان خصوصی عبادات سمیت اپنی بخشش کے لیے بھی دعائیں مانگتے ہیں۔

اسی عشرے میں لیلۃ القدر بھی موجود ہے، جسے طاق راتوں میں تلاش کیا جاتا ہے اور اس دوران شب بیداری اور عبادات کا خصوصی طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ خصوصاً رمضان المبارک کی 27 ویں شب کے موقعے پر ملک بھر کی مساجد اور گھروں میں خصوصی اذکار کی محافل سجائی جاتی ہیں، لیکن اس سال کرونا (کورونا) کی وبا کے باعث گھروں پر ہی عبادت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

رمضان المبارک کے آخری عشرے کی ایک اہم خصوصیت اعتکاف ہے۔ اعتکاف سے مراد ہے کہ ماہِ رمضان کے آخری دس دنوں میں گھر چھوڑ کر مسجد کے اندر ہی قیام کیا جاتا ہے اور عبادت کی جاتی ہے جبکہ خواتین گھر پر ہی معتکف ہوسکتی ہیں۔

کرونا وائرس کے دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں نے رمضان اور خصوصاً آخری عشرے میں عبادات کا کیا اہتمام کیا، آئیے دیکھتے ہیں۔

مصر کی جامعہ الازہر مسجد میں نمازی سماجی دوری کے اصول کے تحت نماز تراویح ادا کر رہے ہیں۔

عراق کے شہر بصرہ کی موسوی مسجد میں ایک شخص کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک لگائے قرآن کی تلاوت کر رہا ہے ۔

اسلام آباد کی فیصل مسجد میں لوگ اعتکاف کے دوران عبادات میں مشغول ہیں۔

ایک فسلطینی جوڑا غزہ شہر کے ایک پناہ گزین کیمپ میں رمضان کے آخری عشرے میں قرآن کی تلاوت میں مشغول ہے۔

ایک عراقی نوجوان رمضان کے آخری عشرے میں مسجد میں قرآن کی تلاوت کر رہا ہے۔

افغانستان میں مزار شریف کے مضافات میں ایک نوجوان پہاڑی پر نماز ادا کر رہا ہے۔

سینیگال میں نمازی سماجی دوری کے اصول کے تحت عبادات میں مصروف ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے ایک یتیم خانے میں ایک بچہ فیس ماسک لگائے رمضان کے آخری عشرے میں دعا مانگ رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی