جب امیتابھ بچن اور شمی کپور نے مل کر گانے کی دھن بنائی

شغل شغل میں ترتیب دیے گئے اس گانے نے 1981 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سلسلہ‘ کے پرستاروں کو آج تک اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے۔

1975 میں ’ضمیر‘ کی عکس بندی کے دوران ہوٹل کے یخ کمرے میں  امیتابھ بچن اور شمی کپور نے گانے کی دھن ترتیب دی تھی۔ (بی آر فلمز)

یہ روز کا معمول تھا کہ امیتابھ بچن جیا بچن کے ساتھ فلم ’ضمیر‘ کی عکس بندی سے فارغ ہوتے تو ہوٹل آ کر رات کا بیشتر وقت شمی کپور کے ساتھ گزارتے۔

 امیتابھ بچن اس وقت تک ’زنجیر‘ جیسی فلم میں کام کرکے ’اینگری ینگ مین‘ کا خطاب حاصل کرچکے تھے جبکہ ان کی بیشتر فلموں جیسے نمک حرام، ابھیمان، سوداگر، کسوٹی، مجبور اور دیوار باکس آفس پر ان پر ’کامیاب ہیرو‘ کا لیبل لگا چکی تھیں۔

کئی فلموں کے اسسٹنٹ روی چوپڑہ بطور ہدایتکار 1975 میں پہلی فلم ’ضمیر‘ بنارہے تھے، جس میں امیتابھ بچن کے ساتھ ہیروئن کے طور پر سائرہ بانو جلوہ گر ہورہی تھیں۔ جبکہ شمی کپور کریکٹر رول میں پیش کیے جا رہے تھے۔ اسی طرح ونود کھنہ کو بھی فلم کا حصہ بنایا گیا تھا۔ فلم کے کچھ مناظر تفریحی اور برفانی پہاڑی علاقوں میں عکس بند کیے جارہے تھے۔ شوٹنگ سے فرصت ملتی تو امیتابھ بچن اور شمی کپور کی سنگت شروع ہو جاتی۔ دونوں ایک ہی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے، اسی لیے آسمان پر جب تارے جھلماتے تو امیتابھ بچن ہاتھوں میں گٹار پکڑ کر شمی کپور کے کمرے میں آ جاتے۔

’یاہو ہیرو‘ کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے کہ ان پر فلمائے گئے گانے زبان زد عام ہوئے۔ محمد رفیع کی آواز تو جیسے ان پر انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ بیٹھتی۔ شمی کپور موسیقی سے خاصا شغف رکھتے تھے اسی لیے جب امیتابھ بچن کوئی بھی دھن چھیڑتے تو شمی کپور گنگنانے میں دیر نہیں لگاتے۔

دونوں گھنٹوں تک سُر سے سُر ملاتے رہتے، جن کو داد دینے کے لیے جیا بچن اور شمی کپور کی دوسری شریک سفر نیلا دیوی گوئل بھی ہوتیں۔

شمی کپور اور امیتابھ بچن کی یہ محفل باقاعدگی سے ہوتی۔ ایسے ہی ایک روز اس بیٹھک کے دوران دونوں نے بیٹھے بیٹھے ایک پہاڑی دھن چھیڑ دی جسے بعد میں یہ دونوں اکثر ایسے ہی بجاتے رہتے اور ہر روز اس میں کچھ نہ کچھ بہتری کرتے رہتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اندازہ ہی نہیں ہوا کہ فارغ وقت میں شوقیہ موسیقی دینے اور گلوکاری کرنے والے امیتابھ بچن اور شمی کپور نے کھیل ہی کھیل میں ایک بہترین دھن بنا لی تھی۔ اسی دوران ’ضمیر‘ سنیما گھروں کی زینت بنی اور باکس آفس پرزبردست کاروبار کر گئی۔ اِدھر شمی کپور تو جیسے بھول ہی بیٹھے تھے اس دھن کو لیکن امیتابھ بچن کہاں فراموش کرنے والے تھے، ان کے ذہن سے تو جیسے یہ دھن چپک سی گئی۔

کوئی چھ سال بعد شمی کپور کے فون کی گھنٹی بجی تو دوسری جانب امیتابھ بچن تھے۔ حال احوال کے بعد وہ گویا ہوئے کہ ’اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کی دھن استعمال کر لوں؟‘

شمی کپور نے حیرانی سے دریافت کیا کہ ’کس دھن کی بات کررہے ہو امیت؟‘

امیتابھ بچن نے انہیں اس پہاڑی دھن کی یاد دلائی جو 1975 میں ’ضمیر‘ کی عکس بندی کے دوران ہوٹل کے یخ کمرے میں دونوں نے ترتیب دی تھی۔

شمی کپور نے بے ساختہ کہا: ’مجھ سے کس بات کی اجازت مانگ رہے ہو؟ بلا تکلف اس دھن کو جب چاہو جہاں چاہو استعمال کرو، مجھے تھوڑی کوئی اعتراض ہے۔‘

شمی کپور کی اس فراخ دلی اور مہربانی پر امیتابھ بچن کو جیسے ’گرین سگنل‘مل گیا۔ جنہوں نے یہ دھن موسیقار جوڑی شیو کمار شرما اور ہری پرشاد چورسیا کو سنائی، جو ان کی ایور گرین رومانی فلم ’سلسلہ‘ کے گیت ترتیب دے رہے تھے۔ جنہیں ایک بنی بنائی دھن مل گئی اور تھوڑی تراش خراش کے بعد اسے اور بہتر کر دیا گیا اور یوں نغمہ نگار جاوید اختر نے دھن پر بول بھی لکھ دیے۔

 ’سلسلہ‘ میں اس دھن پر امیتابھ بچن نے فرمائش کرکے خود گلوکاری کی۔ فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق امیتابھ بچن نے اس گانے کو واقعی دل کی گہرائیوں سے گایا، جو اس بات کی طرف بھی اشارہ تھا کہ انہیں یہ دھن کس قدر پسند تھی جبکہ ریکھا پر فلمائے گئے اس گیت کے لیے لتا منگیشکر کی آواز کا استعمال کیا گیا اور یہ گانا ’نیلا آسمان سو گیا‘ فلم کا مقبول ترین ثابت ہوا۔

اس گانے کی دھن کا بنیادی خاکہ درحقیقت امیتابھ بچن اور شمی کپور نے شغل شغل میں ترتیب دیا تھا۔ جس نے 1981 میں ریلیز ہونے والی فلم ’سلسلہ‘ کے پرستاروں کو اپنے سحر میں آج تک جکڑا ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم