چینی صدر کا دورہ دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات میں بہتری کی امیدیں بڑھا رہا ہے، تاہم سرمایہ کاری، ویزوں اور صنعتی آلات کی فراہمی سمیت کئی معاملات پر بداعتمادی برقرار ہے۔
حکومت پاکستان نے ایک بیان میں کہا ’یہ قابل مذمت اقدام اسلامی ورثے کو مٹانے کے لیے جاری وسیع تر اسلاموفوبک اور ہندوتوا سے متاثرہ مہم کا ایک اور مظہر ہے۔‘