پاکستانی طلبہ کے لیے بھی مکہ معاہدے کو موقع بنایا جاسکتا ہے۔ تینوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیق، وظائف، طلبہ کے تبادلے اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن پروگرام شروع کیے جا سکتے ہیں۔
اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے یار؟ دو لوگ اگر کہیں جا رہے ہیں، بیٹھے ہیں، لیٹے ہیں، چائے پی رہے ہیں، کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔ تو یہ سب کچھ بات کیے بغیر کیوں نہیں ہو سکتا؟ بولتے رہنا ضروری کب سے ہو گیا ہے؟