ایک طرف جہاں جموں میں کرونا وائرس سے مرنے والے ہندو افراد کی اپنی ہی برادری نے آخری رسومات ادا نہیں ہونے دیں، وہیں کشمیر میں مسلمانوں نے بھرپور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔
ایک نرس صائمہ کے مطابق: 'ہم مسلسل ذہنی تناؤ سے گزر رہے ہیں۔ پہلے تو گھر سے نکلتے وقت طرح طرح کے خیالات آتے ہیں اور پھر گھر لوٹتے وقت بھی وسوسے پھر غالب آجاتے ہیں کہ کہیں ہم نادانستہ طور پر وائرس کو اپنے ساتھ گھر تو نہیں لے جارہے۔'