کشمیر: جب مسلمانوں نے ہندو پنڈتوں کی آخری رسومات ادا کیں

ایک طرف جہاں جموں میں کرونا وائرس سے مرنے والے ہندو افراد کی اپنی ہی برادری نے آخری رسومات ادا نہیں ہونے دیں، وہیں کشمیر میں مسلمانوں نے بھرپور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سری نگر سے 70 کلو میٹر جنوب میں واقع بوچھو ترال نامی مسلم بستی میں اپنی اہلیہ اور جواں سال بیٹی کے ساتھ رہائش پذیرواحد کشمیری پنڈت (ہندو) موتی لعل بٹ کو اطمینان حاصل ہے کہ انہوں  نے نوے کی دہائی میں دیگر کشمیری پنڈتوں کی طرح آبائی نقل مکانی کرکے جموں کے تپتے ریگ زاروں کو اپنا مسکن نہیں بنایا۔

مسلم پڑوسیوں کے ساتھ زندگی کے اتار چڑھاؤ دیکھنے والے سبکدوش سرکاری استاد موتی لعل اپنے کشمیری ہونے اور کشمیر میں رہنے پر فخرکرتے ہیں۔ سینکڑوں کنبوں پر مشتمل اس بڑے گاﺅں میں واحد ہندو گھرانہ ہونے کے باوجود موتی لعل، ان کی اہلیہ رتنا بٹ اور بیٹی دشا بٹ یونہی مسرور نہیں ہیں۔

دراصل کشمیر میں جاری نامساعد حالات کے دوران جہاں ان کے مسلم پڑوسیوں نے کبھی انہیں عدم تحفظ یا تنہائی کا احساس نہیں ہونے دیا، وہیں تحفظ اور اپنائیت کا یہ احساس گذشتہ دنوں اُس وقت کامل ہوگیا جب موتی لعل کے 92سالہ معمر ترین والد جگن ناتھ بٹ کا انتقال ہوگیا تو مسلم پڑوسیوں نے کرونا وائرس کی پرواہ کیے بغیر اُن کی آخری رسومات ادا کیں۔

حالتِ ماتم میں خوشگوار احساس

موتی لعل اُس احساس کو لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہیں جو اُنہیں اُسی غمی کے ماحول میں مسلم پڑوسیوں کی جانب سے ہوا کے خوشگوار جھونکوں کی طرح ملا۔

97 برس قدیم کشمیر ی فنِ تعمیرکے نایاب نمونے کی حیثیت رکھنے والے اپنے گھر کے ایک کمرے میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے موتی لعل نے کہا: ' میرے والد کچھ عرصے سے علیل تھے۔ ہمیں لگ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی فوت ہوسکتے ہیں۔ چونکہ کرونا وائرس عروج پر تھا تو میری بیٹی اپنی والدہ سے کہتی تھی کہ جب دادا کا انتقال ہوگا تو رونا نہیں کیونکہ یہاں کوئی چپ کرانے بھی نہیں آئے گا لیکن پھر جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو چشمِ فلک نے دیکھ لیا کہ کس طرح سینکڑوں کی تعداد میں مسلم برادری کے لوگوں نے کرونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے کوئی خطرہ کھائے بغیراپنی جان خطرے میں ڈال کراُن کی آخری رسومات ادا کرنے میں ہماری مدد کی۔'

اپنوں کی بے اعتنائی

اُن کا کہنا تھا: 'انہی دنوں کشمیر سے ہجرت کرچکے ایک بزرگ پنڈت کی کرونا سے جموں میں موت واقع ہوئی ۔اُن کی آخری رسومات میں شرکت کرنا تو دور کی بات، اُن کی لاش کو اپنی ہندوبرادری کے لوگوں نے شمشان گھاٹ میں جلانے نہیں دیااور مجبوراً ان کے اہل خانہ کو لاش کسی ویرانے میں لے جانا پڑی، جہاں بے سرو سامانی کی حالت میں آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران دم گھٹنے سے ان کے دو بھتیجوں کی موت واقع ہوئی جبکہ اُن کا اپنا بیٹا ابھی بھی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔'

مذکورہ مہاجر کشمیری پنڈت وہ اکیلے آدمی نہیں تھے جن کی لاش کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آیا بلکہ جموں صوبے کے ہی پہاڑی ضلع ڈوڈہ کے ایک ہندو جب گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں کرونا کی وجہ سے فوت ہوئے تو سرکار کی جانب سے اجازت ملنے کے باوجود بھی ان کی لاش کو نہ صرف یہ کہ شمشان گھاٹ پر جلانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اُن پر پتھراﺅ بھی کیا گیا۔

واقعے کے عینی شاہد ایک ہندو نوجوان رضاکار امت کٹوچ کا اس ضمن میں کہناتھا کہ حکومت نے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے دمانہ(جموں) میں شمشان گھاٹ دیالیکن جونہی ہم لاش لے کر وہاں پہنچے تو وہاں دو تین سو لوگ جمع ہوگئے، جنہوں نے ہمیں مارنا شروع کردیاجس کی وجہ سے ہم نے جلتی ہوئی لاش کو دوبارہ پیک کیے بغیر ایمبولینس میں ڈالا اور میڈیکل کالج واپس لے آئے۔ '

کرونا وبا سے پیدا ہوئی کچھ غلط فہمیوں اور خوف کی وجہ سے اپنی ہی برادری کے لوگوں کے ایسے سلوک سے متوفی کے رشتہ دار اتنے دل برداشتہ ہوگئے کہ انہوں نے لاش ہی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے سرکار کے سپرد کردی ۔

مذکورہ فوت شدہ ہندو کے ایک قریبی رشتہ دار سرکشت پٹیل کا کہناتھا کہ شمشان گھاٹ میں لاش جل رہی تھی کہ لوگ ہمیں پتھر مارنے لگے اور ہمیں جان کی امان پانے کےلیے جلتی ہوئی آگ سے لاش واپس اٹھانی پڑی۔'ہم نے ایک کمبل میں لاش کولپیٹا اور ایمبولینس میں ڈال کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔'

کشمیریت زندہ ہے، دھرم کی سیاست نہ کریں!

موتی لعل بٹ کہتے ہیں کہ اس کے برعکس یہاں مسلمانوں نے انہیں تنہا ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ ' ہم (میں ،میری اہلیہ اور بیٹی)والد کی لاش کے پہلو میں ماتم منا رہے تھے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ کس طرح مسلم پڑوسیوں نے تمام انتظامات ہم سے پوچھے بغیر ہی مکمل کیے اور نہ صرف دور کے ایک گاﺅں سے ہندو پجاری کو لے آئے بلکہ لاش کو کندھا دیکر شمشان گھاٹ تک پہنچایا اور اُسے سپردِ آتش کرنے میں ہماری مدد کی۔'

 موتی لعل کہتے ہیں کہ یہ سب کشمیر میں ہی ممکن ہے کیونکہ یہاں انسانیت اور کشمیریت زندہ ہے اور اُنہیں اپنے کشمیری ہونے اور کشمیر میں رہنے پر فخر ہے۔ 'ہم مٹھی بھرپنڈت (ہندو ) جنہوں نے رواں نامساعد حالات کے آغاز میں ہجرت کرنے کی بجائے کشمیر میں ہی اپنے مسلم بھائیوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی، یہاں بنا کسی ڈر اور پابندی کے مندروں میں جاکر پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں اور اپنے طریقے سے تہوار بھی مناتے ہیں۔'

 موتی لعل مذہب کی سیاست کرنے والوں سے نالاں نظر آئے ۔'دھرم کی سیاست کرکے منافرت پھیلانے والوں کو کشمیری مسلمانوں کی انسانیت اور کشمیریت سے سبق سیکھنا چاہیے اور کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ کشمیری انسانیت اور اخوت کے علم بردار ہیں۔'

احسان نہیں، بس انسانی فریضہ

موتی لعل کی طرح ہی جون کے دوسرے ہفتے میں سرینگر سے 70کلو دور میٹر دور شمالی ضلع بانڈی پورہ کے کلوسہ گاﺅں میں بھی ایک بزرگ کشمیری پنڈت خاتون رانی بٹ کا انتقال ہوا۔مذکورہ گاﺅں میں چونکہ اب گنتی کے چند ہندو گھرانے رہائش پذیر ہیں تو مقامی مسلم برادری نے کرونا کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہندو پڑوسی کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فوت شدہ خاتون کے فرزندڈاکٹر روی کمار بٹ، جو کشمیر یونیورسٹی کے ڈپٹی رجسٹرار بھی ہیں اورنوکری کے سلسلے میں سرینگر میں مقیم ہیں ، والدہ کی موت کے وقت وہاں موجود نہیں تھے ۔جب تک روی کمار بٹ سرینگر سے کلوسہ پہنچتے، اس دوران مسلم پڑوسیوں نے سارے انتظامات  کر دیےتھے جس کا اعتراف خود روی کماربھی کرتے ہیں۔اُن کا کہناتھا 'میری ڈیوٹی سرینگر میں ہے ۔میری والدہ کے انتقال کے وقت سب سے پہلے ہمارے مسلم پڑوسی پہنچے۔انہوں نے سب کچھ کرکے رکھا تھا،ہمیں کچھ نہیں کرناپڑا۔'

تاہم گاﺅں کے مسلم رہائشی اس کو کوئی احسان نہیں مانتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک انہوں نے بس حق ادا کیا۔ پیشے سے ایک کمپیوٹر ٹیچر کلوسہ گاﺅں کے ایک مقامی مسلم نوجوان وسیم احمد آہنگر سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ کرونا وبا میں بھی انہیں کون سی چیز ہندو خاتون کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے آمادہ کرگئی تو اُن کا کہنا تھا کہ' ہم نے اپنا جان کران کی مدد کی،جیسے ہمارے گھروں میں کسی کی موت ہوجاتی ہے تو ہم سب مل جاتے ہیں،اسی طرح یہاں بھی ہم کرونا کا سوچے بغیر ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔'

 وسیم کہتے ہیں کہ ’اسلام ہمیں غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اور ہم اسی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر شریک ہوتے ہیں۔'

کشمیر سے دنیا کے لیے اخوت کا پیغام

یہ محض ان دو اموات کا معاملہ نہیں  بلکہ اس کے بعد مزید دو کشمیری ہندو فوت ہوگئے اور ان کی آخری رسومات میں بھی مقامی مسلم برادری نے بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر دنیا کو پیغام دیا کہ کشمیری مسلم لاکھ اشتعال انگیزیوں کے باوجود اسلام کے آفاقی پیغام پر نہ صرف عمل پیرا  ہیں بلکہ وہ  ہندو مسلم بھائی چارے کی شمع بھی فروزاں رکھے ہوئے ہیں۔

 مقامی سماجی کارکن اور قلم کارشیخ قوام الدین شلوتھی کہتے ہیں کہ کشمیر ی مسلمانوں نے مقامی ہندﺅں کی آخری رسومات میں شرکت کرکے بھائی چارے ،انسانیت اور اخوت کامظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کردیاکہ کشمیری انسان دوستی میں یقین رکھتے ہیں۔'

ایک ایسے وقت جب امریکہ میں ایک افریقی نژاد سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کا سفید فام امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے، بھارت کے مختلف شہروں میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیاجارہا ہے،جموں میں ہندو برادری کے لوگ کرونا سے فوت ہوچکے اپنے ہندو بھائیوں کی آخری رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں،کشمیری مسلمانوں نے اپنے ہندو پڑوسیوں کی آخری رسومات ادا کرکے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ انسانیت کے رشتے میں ہم سب بھائی بھائی ہیں اور ہمیں رنگ و نسل اورمذہب کی بنیاد پر انسانوں کو باہم لڑانے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ انسانیت کے ابدی رشتے میں بندھنا چاہیے تاکہ یہ دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا