سپیکر قومی اسمبلی کل حمزہ شہباز سے حلف لیں: لاہور ہائی کورٹ

پنجاب کے نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی کو کل یعنی سنیچر کو دن ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لینے کا حکم دیا ہے۔

(تصویر: حمزہ شہباز شریف/ ٹوئٹر)

پنجاب کے نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی کو کل یعنی سنیچر کو دن ساڑھے گیارہ بجے تک حلف لینے کا حکم دیا ہے۔

 گورنر پنجاب کی جانب سے نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف نہ لینے کے معاملے پر جمعے کو تیسری بار لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر سماعت  مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دو بار عدالتی ہدایات پر عمل نہ ہونے پر تیسری درخواست پر آج (جمعے) کو فیصلہ سنایا گیا ہے۔

حمزہ شہباز 16 اپریل کو پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں 197 اراکین کی حمایت کے ساتھ قائد ایوان منتخب ہوئے تھے مگر گورنر نے ان کا حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اشتر اوصاف سے استفسار کیا کہ ’آپ پھر آگئے جب عدالت نے 28 اپریل کو حلف کا کہا تھا تو توہین عدالت کیوں دائر نہیں کرتے؟‘

اس پر وکیل نے جواب دیا کہ اس میں بہت وقت لگ جانا ہے اس لیے صرف حلف یقینی بنانے کی درخواست لے کر آئے ہیں۔

عدالت میں اس سے قبل اشتر اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ حلف سے متعلق دو بار احکامات جاری کر چکی ہے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب نے ایک بار پھر عدالتی حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ’صدر مملکت اور گورنر پنجاب کا رویہ غدارانہ اور توہین آمیز ہے کیونکہ آئین میں واضح ہے کہ صدر اور گورنر حلف لینے کے پابند ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے موکل سمجھتے ہیں کہ توہین عدالت میں وقت لگ سکتا ہے، توہین عدالت کی درخواست بعد میں بھی دائر کی جا سکتی ہے۔‘

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ عدالت آرٹیکل 255 کے تحت حلف کا حکم دے سکتی ہے؟

انہوں نے آئینی اختیارات پر بات کرنے کا وقت مانگا تو عدالت نے قرار دیا کہ ’کسی کی جرات نہیں ہونی چاہیے کہ ہائی کورٹ کے آرڈر کو نہ مانے، 201 آرٹیکل پڑھیں عدالت نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔‘

’یہ ہائی کورٹ کی عزت کا سوال ہے، مجھے آئین میں راستہ ملتا ہے میں چل پڑتا ہوں۔‘

اشتر اوصاف نے موقف بیان کیا کہ گورنر کو ہتھکڑیاں لگا کر کہا جائے کہ حلف لو۔ ’عدالتی حکم نہ ماننے پر سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کو توہین عدالت میں دو منٹ کی سزا دی تھی، توہین عدالت کی سزا کے بعد وزیراعظم کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔‘

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کیا کہتی ہے، حکومت کے ذہن میں کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ وزیراعظم تین بار کہہ چکے ہیں کہ حلف کے لیے کسی فرد کو نامزد کیا جائے۔

اس موقع پر عدالت میں پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے اراکین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل اظہر صدیق نے موقف پیش کیا کہ اس معاملے پر لارجر بنچ بنایا جائے، ’ہم نے بھی فریق بننے کی درخواست دے رکھی ہے، پہلی اور دوسری درخواست میں کسی کو بھی نوٹس نہیں ہوئے۔‘

اس پر جسٹس جواد حسن نے قرار دیا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ آپ نے پہلی اور دوسری درخواست میں کس کس کو فریق بنایا تھا۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل مرزا انصر احمد سے استفسار کیا کہ کیا صدر نے کسی کو نامزد کیا ہے؟

اس پر انہوں نے کہا کہ ’سر یہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ عمران پاشا مجھے دھمکا رہے ہیں، میں صرف وفاق کی نمائندگی کرتا ہوں، میں صدر مملکت کو نہیں جانتا، میرا کلائنٹ صرف وفاق ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھے دھمکایا جا رہا ہے کہ صدر کے خلاف کچھ بھی نہیں بولنا، دوران دلائل مجھے تنگ کیا جا رہا ہے، آپ بول لیں پھر میں دلائل دے دوں گا۔‘

عدالت نے کہا کہ 15 گھنٹے گزر چکے ہیں عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہوا، سپیکر قومی اسمبلی یا ڈپٹی سپیکر کو حلف کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئین کے تحت صدر کے بعد چیئرمین سینیٹ کو نامزد کیا جا سکتا ہے، جب کوئی حلف لینے کے قابل نہ ہو تو پھر آرٹیکل 255 کے تحت کسی اور کو نامزد کیا جا سکتا ہے۔

 

عدالت نے حمزہ شہباز کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’آپ ایک بار آئے، دوسری بار آئے اور اب تیسری بار آئے، اب عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟

اشتر اوصاف نے جواب دیا کہ یہ بنیادی آئینی حقوق کے نفاذ کا معاملہ ہے، اگر حلف نہ لیا گیا اگر فیصلے پر عمل نہ کیا گیا تو یہاں پر افراتفری کا عالم ہو گا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ یہ آئین میں بتا دیں کہ کون سا آرٹیکل عدالت کو نمائندہ مقرر کرنے کا اختیار دیتا ہے، اور درخواست میں گورنر کو فریق بھی نہیں بنایا گیا تو انہیں عدالت کیسے حکم دے سکتی ہے؟

واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے گورنر پنجاب کو خط لکھا گیا ہے کہ وہ قانون اور عدالتی فیصلے کے مطابق فیصلہ کریں جس پر گورنر نے گذشتہ روز خط کا جواب بھجوایا کہ صدر مملکت آئین و قانون کے مطابق حلف لینے سے متعلق واضح ہدایات جاری کریں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان