’ایک تھی لیلیٰ،‘ ٹک ٹاکر لڑکی کے روپ میں معاشرے کی تصویر

اندرون لاہور کی ایک ٹک ٹاکر لڑکی کی کہانی ایک کے بعد ایک مرد سے دھوکہ کھاتی ہے۔

ویب سیریز ’ایک تھی لیلیٰ پیس آف آرٹ بن گیا ہے (ایکسپریس انٹرٹینمنٹ)‘ 

’مرد وہ نہیں جو عورت پہ پہرا دے، مرد وہ ہے جو اسے آزادی دے۔ پرندے کو پنجرہ تو ہر کوئی دے سکتا ہے۔ اسے کھلے آسمان میں چھوڑنے کے لیے جگرا چاہیے جگرا۔۔۔‘

ایک خواجہ سرا کے اس مکالمے میں اتنی جان تھی کہ اس نے پوری سیریز کا رخ بد ل کر رکھ دیا۔

’ایک تھی لیلیٰ‘ یہ ڈراما ویب سیریز کے انداز میں لکھا گیا ہے۔ چھ اقساط پہ مبنی اس ڈرامے کی آخری قسط 12 جنوری کوایکسپریس ٹی وی سے نشر ہوئی۔

کہانی ایک ٹک ٹاکر لڑکی کی ہے اور منظر نامہ اندرون لاہور کا ہے۔ پہلی پانچ اقساط پہیلی کی طرح گزرتی ہیں جس میں لیلیٰ گھر سے غائب ہو گئی ہے اور پولیس اس کی تلاش میں ہے۔ پانچ اقساط پنجاب پولیس کی تلاشی اور کام میں گزرتی ہیں۔ ایک کے بعد ایک شخص شک میں گرفتار ہو رہا ہے مگر لیلیٰ کا سراغ نہیں مل رہا۔

پنجاب پولیس جس طرح بدنام ہے یہاں اس کے برعکس اس لیے دکھائی دے رہا ہے کہ پولیس والا خود ہیرو ہے، اس کی لیلیٰ کھو گئی ہے اور وہ اس کی تلاش میں ہے۔

ڈرامے کے منظر نامے اور کرداروں کے لیے اندرون لاہور کی تنگ و تاریک گلیوں کا انتخاب کیا گیا جو انسان کی پوری نفسیات میں صدیوں سے بھید بن کر چھائی ہوئی ہیں اور ہر بار بھید سے نیا راز برآمد ہوتا ہے۔

ان گلیوں کے رہنے والوں کی زندگی ہے بھی کچھ ایسی ہی بھید بھری جس کا باقی لاہور سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

پہلی پانچ اقساط میں ان گلیوں میں موجود تہذیب سے ہی کہانی کی بنت ہوئی ہے۔ نئی ٹیکنالوجی ان کے ساتھ اور وہ نئی ایجادات کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہے ہیں۔

ٹک ٹاکرز لڑکیوں کے جتنے کیس سامنے آئے ہیں، ان میں لڑکیاں کم و بیش ایسے ہی بیک گراؤنڈ اور حالات و واقعات کا شکار ہیں جو اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے۔

مصنفہ نے اس کو اتنی عمدگی سے بیان کیا ہے کہ ڈراما ’پیس آف آرٹ‘ بن گیا ہے۔

لیلیٰ ایک کے بعد ایک مرد سے دھوکہ کھاتی ہے کیونکہ اس پہ اپنی شادی کی ذمہ داری بھی آپ ہی آن پڑی ہے۔ اس کا سوتیلا باپ بھی اسی پہ نیت خراب رکھے ہوئے ہے۔

اندرون لاہور کی تہذیب کے مطابق ہر جوان ہوتا لڑکا یونہی ہر لڑکی کو تاڑنا اپنا سماجی حق سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں اپنے بچاؤ اور اپنے مستقبل کو ساتھ لے کر جو نئی راہ اپناتی ہیں وہ ایک نئی ہی دنیا بن جاتی ہے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہی درجن بھر دروازوں کے اندر بےشمار تہذیبیں صدیوں سےاکٹھی رہتے رہتے ایک نئی تہذیب کو پروان چڑھا چکی ہیں۔ جس کی اپنی الگ اخلاقیات ہے جن میں بنیادی ستون بقا ذات ہے۔

لیلیٰ کے باپ نے گھر کا ایک کمرا کرائے پہ ایک پٹھان کو دیا۔ وہ بھی لیلیٰ کے ساتھ وہی کرنا چاہتا ہے جو باقی سماج کر رہا تھا۔ لیلیٰ کی امیر سہیلی کا باپ بھی اس پہ نیت خراب کیے ہوئے تھا۔ اس کے پھوپھی زاد منگیترکاشف کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو اس کی غیرت منگنی ٹوٹنے کا سبب بنتی ہے یوں بھی اس کی سوتیلی پھوپھی اسے اس لیے بہو بنانا چاہتی ہے کہ اپنی بھابھی سے ماضی کے بدلے لے سکے۔

اس کی زندگی میں ایک محلے کا دکان دار فرید آتا ہے جو اس کے موبائل سے اس کی تصاویر لے کر ان کا غلط استعمال کرتا ہے، جو دونوں کے لیے بلیک میلنگ کا ذریعہ اور زریعہ معاش بن جاتا ہے۔

فرید کو پیسے دینے کے چکر میں وہ سہیلی صبا کی کورٹ میرج کا راز اس کے باپ کے پیسے آفر کرنے پہ کھول دیتی ہے۔ لیلیٰ صبا کے باپ کے دفتر میں جاب بھی کرتی تھی۔ جہاں سے دونوں کا تحفے تحائف اور بڑے ہوٹلوں میں قربت کی وقت گزاری تک بات پہنچ جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اچانک ایک پولیس والا اس کی زندگی میں آ جاتا ہے وہ بھی سب کی طرح اسے شادی کے وعدے کرتا ہے مگر عملی طور پہ وہ بھی ایک بزدل مرد ہے۔

آخری قسط میں لیلیٰ جو پانچ اقساط تک ایک فراڈ لگتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے عاشقوں ٹھرکیوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے، اس کی اصل زندگی سے پردہ اٹھتا ہے۔ اس کا سوتیلا باپ لالچی اور نکما ہے۔ گھر کیسے چل رہا ہے، اس نے اس بات پہ آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اس کی آنکھیں اگر کھلی ہیں تو صرف لیلیٰ کی جوانی پہ نگاہ ہے۔

لیلیٰ اس سے بچنے اور اپنی ماں کی عزت رکھنے گھر کی دال روٹی چلانے لے لیے ایک وہی سوچ لے کر آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی ہے جو اسے سماج نے دی ہوئی ہے وہ یہ کہ کوئی مرد اس سے شادی کر لے مگر شادی کوئی بھی نہیں کرتا، سب وقت گزارتے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس وقت گزاری اور رشتہ تلاش میں لیلیٰ نوعمری میں بدنام ہو جاتی ہے۔

محلوں میں ایسے مواقع پہ جو تماشے بنتے ہیں وہ بنتا ہے اور سب کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ لیلیٰ کے کردار پہ انگلی اٹھائیں کیونکہ لیلیٰ گھر میں نہیں ہے حالانکہ لیلیٰ تو اپنے آخری کردار پولیس والے سے ملنے کسی جگہ قید ہے۔

وہی وہ پہنچتا ہے اسے جتنا برا کہہ سکتا ہے کہتا ہے اور رات کے اندھیرے میں اسے اس کے گھر کی گلی میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

پولیس کا کیس بھی ختم ہو جاتا ہے کہ لڑکی تو گھرپہنچ جاتی ہے۔ انسپیکٹر قیس کیس سے سرخرو ہو کر نوکری سے چھٹی لے کر گاؤں واپس جانے کا قصد کر لیتے ہیں۔

راستے میں وہی خواجہ سرا جو محلے میں اس کے لیے کام کرتا ہے، اسے روک لیتا ہے اور اسے احساس دلاتا ہے کہ وہ بھی انہیں دھوکے باز مردوں کی طرح کا ایک مرد ہے جو لیلیٰ سے شادی کا وعدہ تو کر لیتا ہے مگر اس پہ اعتبار نہیں کر سکتا اور اس دوران وہ زندگی کے جھمیلوں میں اتنا آگے نکل چکی ہوتی ہے کہ کیس پولیس تک چلا جاتا ہے اور زندگی خود کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔

کچھ عرصہ بعد وہ انسپیکٹر لیلیٰ سے دوبارہ شادی کے لیے رابطہ کر ہی لیتا ہے۔ اس نے کلین شیو کر لی ہے، لیلیٰ اسے پہلے کی طرح ہی ملتی ہے۔

کہانی تو یہاں ختم ہو جاتی ہے مگر ذہنوں پہ نقش چھوڑ جاتی ہے۔

اداکاری سب نے جم کے کی ہے۔ اقرا عزیز نے تو اپنے کردار میں اصلی لیلیٰ کی روح پھونک کا کام کیا ہے۔

ڈائریکیشن، کیمرا ورک، لوکیشن کا انتخاب، میک اپ، ڈراما کے ہر شعبے میں صد فی صد محنت ہی نہیں، محبت کا رنگ چھلک رہا ہے۔

بڑا کام ہمیشہ ٹیم ورک سے ہوتا ہے۔ ایک اور ایک ہو کر گیارہ بنتے ہیں۔

تھیم سونگ تو بہت ہی اعلیٰ معیار کا ہے۔ شروع میں کہانی سے میچ ہوتا نہیں لگتا، لیکن آخری قسط میں بہترین انتخاب کی داد دینا ہی پڑتی ہے۔ جس سین میں مکمل گیت ہے وہ کسی بڑی سکرین کا سین بن جاتا ہے۔

سماج نے اپنے رویوں سے جس عورت کو جنم دیا ہے وہ لیلیٰ ہے۔

یہ سماج آپ نے مل کر بنایا ہے۔ عورت نے اکیلے نہیں۔ ایک عورت کا پورا سچ آپ کے آدھے جھوٹ میں چھپا ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی