سال بھر میں ہماری کون سی تحریریں سب سے مقبول رہیں؟

انڈپینڈنٹ اردو کے آغاز کو ایک سال مکمل ہونے والا ہے۔ اس موقعے پر ہم نے مڑ کر دیکھا ہے کہ پورے سال کے دوران ہماری کون سی تحریروں کو عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔

شاہ بھٹائی کی سورمیاں (انڈپینڈنٹ اردو)

انڈپینڈنٹ اردو کی پہلی سالگرہ کے موقعے پر پچھلے ایک سال کا سفر پرسوں یعنی 23 اپریل کو مکمل ہو رہا ہے۔ سفر کا یہ پہلا پڑاؤ ہمیں یہ موقع فراہم کر رہا ہے کہ ہم ذرا دم لیں اور رک کر اپنے پچھلے برس کی کارکردگی پر ایک نظر دوڑائیں۔  

اس ایک سال کے دوران ہم نے ہزاروں مختلف سٹوریز شائع کیں۔ ملکی و بین الاقوامی سیاست پر خبریں، رپورٹیں اور نقطۂ نظر آپ کے سامنے لے کر آئے، نوجوانوں اور خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا، سائنس، ٹیکنالوجی، ماحولیات، تاریخ کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کی، کھیل کے میدان سے تازہ بہ تازہ رپورٹیں فراہم کیں، اور اسی طرح کے درجنوں دوسرے موضوعات کا احاطہ کیا۔

ان میں سے بہت سی سٹوریز ایسی تھیں جنہیں بےحد پذیرائی حاصل ہوئی۔ لوگوں نے انہیں اپنے دوستوں اور عزیزوں سے پڑھوایا، ان پر تبصرے کیے اور ہمیں داد و تحسین سے نوازا۔ ہم آج ایسی ہی دس سٹوریز آپ سے بھی شیئر کرنے جا رہے ہیں جو پچھلے ایک سال کے دوران سب سے زیادہ مقبول ہوئیں۔  

پہلی دس سٹوریز وہ ہیں جن کے نمبر سب سے اوپر تھے۔ یعنی انہیں سب سے زیادہ لوگوں نے پڑھا۔

5

مردانہ کمزوری (غریدہ فاروقی)

اس کالم میں غریدہ فاروقی نے معاشرے کی ایک ایسی دکھتی رگ چھیڑی تھی جس کے بجنے کی آواز دور تک سنی گئی۔ غریدہ نے لکھا کہ ہمارے مرادنہ معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری یہ کہ ہے کہ وہ عورت کو مخصوص خانوں میں بانٹ کر دیکھتا ہے، اور جو عورت کسی ایک مخصوص خانے میں فٹ نہیں ہوتی، اسے ’چالاک، چلتر، بکاؤ یا چالو‘ جیسے ناموں سے نواز دیا جاتا ہے۔

4

میجر لاریب قتل کیس (مونا خان)

سیاست دانوں کی قلابازیاں، عدالتوں کے فیصلے، بیان بازیاں، اس سب کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن پچھلے ایک سال کے تجربے سے معلوم ہوا کہ لوگ ایسی خبریں زیادہ پسند کرتے ہیں جن میں کہانی کی طرح کے کوئی کردار ہوں، کوئی انوکھا واقعہ رونما ہوا ہو۔ ایسا ہی ایک فلمی نوعیت کا واقعہ نومبر میں اسلام آباد کے ایک پارک میں رات کے اندھیرے میں پیش آیا تھا جسے نامہ نگار مونا خان نے کور کیا تھا۔

3

10 سال کی عمر میں سیکس، منشیات کا کاروبار اور ظالمانہ تشدد: لڑکیوں کو استعمال کرنے کی وبا (مے بلمین)

یہ انڈپینڈنٹ انگلش کی رپورٹ تھی جس کا موضوع برطانیہ میں بچوں کا جنسی استحصال تھا۔ رپورٹ کی مرکزی کردار سٹیسی (فرضی نام) نامی ایک لڑکی ہے جس کی عمر دس برس ہے لیکن وہ اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو گئی ہے۔

2

سوچتی ہوں خودکشی کر لوں (فاطمہ علی)

گذشتہ برس اکتوبر میں رابی پیرزادہ کی ویڈیو لیک ہونے کی خبر پاکستانی میڈیا پر بھونچال بن کر ٹوٹی۔ ہماری رپورٹر فاطمہ علی نے رابی سے رابطہ کر کے اس تمام ہلچل پر ان کا موقف لیا، اور یہی خبر سال بھر کی دوسری سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبر بن گئی۔

1

یہ ہوتی ہے شامِ غریباں: ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ

سال بھر کے دوران سب سے زیادہ پڑھی جانے والی تحریر ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ کی رہی۔ اس میں ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو شامِ غریباں کے بارے میں بچپن سے طرح طرح کی غلط فہمیوں کا شکار ہوتا ہے اور ایک دن خود تجربہ کر کے دیکھتا ہے کہ اس دوران اصل میں کیا ہوتا ہے۔

اس تحریر کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ یہ عین عاشورے کے دن شائع کی گئی تھی جس کی وجہ سے اسے سوشل میڈیا پر بھی بےحد توجہ حاصل ہوئی، اور اس پر ہونے والے تبصروں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ گئی۔

 یہ تو ہو گئی نمبر گیم، یعنی وہ تحریروں جنہیں لوگوں نے سب سے زیادہ پڑھا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ انڈپینڈنٹ اردو کے مدیروں کی نظر میں رپورٹروں کی جانب سے بھیجی گئی سال کی بہترین تحریریں کون سی تھیں۔ ایسی پانچ تحریریں بغیر رینکنگ کے پیش ہیں:  

ہوائی اڈوں پر خواتین سے پوچھے جانے والے سوالات (انیلا خالد)

اگر کوئی اکیلی خاتون بیرونِ ملک جا رہی ہو تو پاکستان کے ہوائی اڈوں پر امیگریشن حکام اس سے کس قسم کے سوالات کرتے ہیں؟ پشاور سے ہماری نامہ نگار انیلا خالد نے اس بارے میں ایک رپورٹ لکھی جو بہت سراہی گئی اور سوشل میڈیا پر بہت سی خواتین نے اپنے تجربات بھی شیئر کیے جنہیں اسی قسم کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سوات میں چھ روپے روٹی والا پلانٹ بند (اظہار اللہ)

شیر مالک نے سوات میں ایک روٹی پلانٹ لگایا تھا جو صرف چھ روپے کی روٹی فروخت کرتا تھا، لیکن آٹے اور گیس کی قیمتوں میں ’ہوشربا‘ اضافے کی وجہ سے مجبور ہو کر انہیں یہ پلانٹ بند کرنا پڑ گیا۔ 

بی بی، آپ آزادی مارچ میں کیا کر رہی ہیں (رمیشہ)

کراچی سے نامہ نگار رمیشہ علی مولانا فضل الرحمٰن کے ’آزادی مارچ‘ کی رپورٹنگ کرنے جب جمعیت علمائے اسلام ف کے جلسے میں پہنچیں تو خاتون ہونے کی وجہ سے وہاں بےچینی پھیل گئی اور ان سے کہا گیا کہ ان کی وجہ سے ماحول خراب ہو رہا ہے۔ 

شاہ لطیف کی راگی لڑکیاں (امر گرڑو)

سندھ کے نامی گرامی صوفی بزرگ اور شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر ان کا کلام ہمیشہ سے مرد راگی گاتے چلے آئے ہیں لیکن نامہ نگار امر گرڑو نے بھٹ شاہ جا کر دیکھا کہ اب چند لڑکیاں بھی اس کوشش میں ہیں کہ انہیں وہاں گانے کا موقع ملے۔ ہ نوجوان خواتیں راگی خود کو شاہ کی شاعری میں رومانوی داستانوں کے خواتین کرداروں سے تشبیہ دیتی ہیں جنھیں سورمیاں کہا جاتا ہے۔ 

میڈیا کی جنگ، پاکستان کو بھارت سے سبقت (ثاقب تنویر)

پاکستان اور بھارت مختلف محاذوں پر ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں، لیکن ایک محاذ ایسا ہے جس پر پاکستان کو نہ صرف بھارت پر واضح برتری حاصل ہے بلکہ اس برتری کا اعتراف خود بھارتی دفاعی دانشور بھی کرتے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا ایڈیٹر ثاقب تنویر نے اس مخصوص میدان میں دونوں ملکوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹاپ 10