قسط 2: خودکش حملہ آور کہاں سے اور کیسے پشاور آئے؟

دسمبر 2017 میں پشاور کے ہاسٹل میں خودکش حملہ آور گھس گئے۔ ان کے ڈانڈے کہاں سے ملتے تھے اور اس مہنگے آپریشن کے لیے پیسہ کہاں سے آیا؟

دسمبر 2017 میں پشاور کے زرعی انسٹی ٹیوٹ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد رضاکار ایک زخمی طالب علم کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے (اے ایف پی)

انڈپینڈنٹ اردو کی اس خصوصی سیریز کی دوسری قسط پیش ہے (پہلی قسط پڑھیے)۔ اس میں سید فخر کاکاخیل نے کسی ماہر جاسوسی ناول نگار کی طرح پشاور میں 2017 میں ہونے والے خودکش حملے کی پرتیں کھولی ہیں۔ اس قسط وار کہانی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کیسے ہوتی ہے، اور اس کے لیے رقم کیسے فراہم ہوتی ہے۔ سب سے بڑھ کر اس میں پولیس کے مثالی کردار کا ذکر ہے جن کی سراغ رسانوں کی اس طرح اس پیچیدہ کیس کی کڑیاں ملائی ہیں کہ ان کی محنت اور ذہانت کی داد دیے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ 

ہم نے اس تحریر کی پچھلی قسط میں بتایا تھا کہ پشاور کے زرعی انسٹی ٹیوٹ پر حملے کی چھان بین میں اس رکشے کا اہم کردار تھا جس میں بیٹھ کر حملہ آور انسٹی ٹیوٹ تک پہنچے تھے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ سارے کا سارا رکشہ جعلی ہے۔

اس کی نمبر پلیٹ سے لے کر چیسز نمبر تک سب کچھ نقلی تھا۔ رکشہ کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں تھا۔

یکم دسمبر 2017 کو ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ پر تین خودکش حملہ آوروں کی پہچان تو کر لی گئی تھی۔ لیکن اب سوال یہ تھا کہ یہ خودکش حملہ آور کہاں سے اور کیسے آئے؟

نمبر پلیٹ بی جی 5769 اور چیسز نمبر این اے آر 86455 دونوں بدلے ہوئے تھے۔ رکشے کے جعلی پن نے تفتیش کاروں کو کافی زچ کیا، لہٰذا رکشے کی چیرپھاڑ کی گئی۔ کہتے ہیں کہ چالاک سے چالاک مجرم بھی کوئی نہ کوئی سراغ چھوڑ جاتا ہے۔ رکشے کا تیاپانچہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ دیگر اشیا کی طرح اس کی بیٹری بھی بدلی گئی تھی جس کی رسید رکشے کے اندر پھنسی ہوئی مل گئی۔

شاید بیٹری خریدنے کے بعد جلدبازی میں رکھنے والا بھول گیا اور یہی وہ بنیادی غلطی تھی جس کی تفتیش کاروں کو کھوج تھی۔ رسید پر 13 نومبر 2017 کی تاریخ درج تھی گویا حملے سے 17 دن قبل بیٹری بدلی گئی۔

رسید سے پولیس دکاندار تک پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس روز دکاندار نے 28 بیٹریاں بیچی تھیں۔ دکاندار کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا کہ عموماً گاہک جب خالی بل کا تقاضا کرتے خالی بل لے جاتے ہیں یہ کبھی کبھی کتنا تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ تب اسے بیٹری دکھائی گئی۔ اس نے جلدی سے بیٹری ٹٹولتے ہوئے سرخ مارکر سے لکھے ایک نام سہیل کی شناخت کی کہ وہ اپنی تسلی کے لیے گاہک کا نام خریدی ہوئی چیز پر ضرور لکھتا ہے کہ اگر کل کو وہ واپس کرے تو اسے نام اور اپنی تحریر سے پتہ چل جائے کہ اسی سے خریدی گئی ہے۔

تب اسے یاد آیا کہ اس روز سہیل نام کے دو گاہکوں نے اس سے بیٹریاں خریدی تھیں۔ عجیب کیس تھا، ہر سوال کئی سوالوں کو جنم دے رہا تھا۔ دکاندار سے دونوں گاہکوں کے خدوخال بمعہ عمروں کے پوچھے گئے۔ آئی ٹی ٹیم کو ٹاسک سونپا گیا کہ بزرگ گاہک کو چھوڑ کے نوجوان گاہکوں کی فیس بک وغیرہ پر تلاش کی جائے۔ آگے سے مذکورہ خدوخال کے 60 اکاؤنٹس نکل آئے۔ ان تمام کی تصویروں کے پرنٹس نکال کر دکاندار کو بلایا گیا اور جلد ہی ایک تصویر پر اس نے تصدیق کی انگلی رکھ دی۔

پشاور میں اب اسے ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا۔ فیس بک سے موبائل نمبر لے کر اسے نگرانی پر ڈالا گیا۔ وقت گزرتا گیا اور ایک کے بعد ایک کردار نگرانی میں آتا گیا اور جوں جوں کڑیاں ملتی گئیں اداروں نے ان کرداروں کو حراست میں لے کر تفتیش کر کے حقائق مرتب کرنے شروع کر دیے۔

کہانی کا آغاز اسی سہیل سے ہی ہوتا ہے۔ سہیل مان گیا کہ اس نے رکشہ ابراہیم نامی شخص کو بیچا تھااور انکشاف کیا کہ ایک اور سہیل ہے جو کہ اس طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

ابراہیم کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس دوسرے سہیل کے ساتھ مل کر نواب نامی شخص نے سودا کیا۔ وہ سہیل دراصل نواب کا سالا تھا۔ سہیل کے بہنوئی نواب کا تعلق مالاکنڈ سے تھا اور رقم، اسلحہ وغیرہ کی ساری فراہمی اس کے ذمے تھی جبکہ ان کی اہلیہ ٹارگٹ کی نگرانی پر مامور رہی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نواب کے اصل ساتھی منصور عرف بھائی نے ہی باجوڑ کے عباس نامی منصوبہ ساز کی ہدایت پر ساری ڈیل کی تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عسکریت پسند عموماً نام بدل لیتے ہیں، زیادہ تر تو کنیت کا ہی سہارا لیتے ہیں۔

اتنا تو معلوم ہو چکا تھا کہ فضل اللہ کی وجہ سے سارے کردار مالاکنڈ ڈویژن اور باجوڑ کے ہی ہوں گے، لیکن ابھی سب کڑیوں کو ملانا باقی تھا۔

دراصل ٹرانسپورٹ کا کام ابراہیم کا تھا۔ سو ابراہیم نے نواب کے پیسوں اور عباس کی ہدایات کی روشنی میں باجوڑ پاک افغان سرحد سے ملحقہ افغان صوبہ کنڑ میں واقع ’فاتح مرکز‘ سے اسلحہ حاصل کیا۔ باجوڑ میں ساری کارروائی کی نگرانی کے بعد عباس پشاور کے قریبی قصبے پبی پہنچا، جبکہ ابراہیم اور منصور اسلحہ لے کر غیر روایتی راستوں سے پہلے مالاکنڈ ہہنچے، جہاں نواب نے ان کو ہری چند کے راستے سے مردان اور پھر پبی پہنچا دیا۔

کمال کی بات یہ ہے کہ خودکش حملہ آوروں کو بالکل مخالف روٹ یعنی قندہار سے چمن کے راستے کوئٹہ، کچلاک، قلعہ سیف اللہ، ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر غیر روایتی راستوں سے پبی نوشہرہ منتقل کر دیا گیا تھا۔

یہ پاکستانی تھے، نوجوان تھے اور بالکل غیر مسلح تھے، اس لیے طلبہ کا روپ دھار کر باآسانی پبی پہنچ گئے۔ بارود اسلحہ اور خود کش حملہ آور مشن کے اجزا علیحدہ پبی پہنچ گئے۔ اب ان کو پشاور میں رنگ روڈ کے قریب ایک جگہ منتقل کر دیا گیا، جہاں پہلے سے ہی نواب کی اہلیہ نے ایگریکلچر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی نگرانی مکمل کر دی تھی۔ اب جگہ جگہ بنے ناکوں سے ان کو اسلحہ و بارود لے کر پہنچانا تھا۔ لیکن کیسے؟

(اس تحریر کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیے)

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین