ٹی ٹی پی میں دھڑے بندی کا آغاز کیسے ہوا؟

پاکستانی طالبان کا کون سا لیڈر 'بھتہ خور اور قاتل' سمجھا جاتا ہے اور علما سے بھتے لینے پر کون ناراض ہوئے؟ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں کئی انکشاف کیے ہیں۔

مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں حکیم اللہ محسود اور اس کے گروپ پر کئی قسم کے سنگین الزام لگائے ہیں 

ایک ایسے وقت میں جب کمزور ہوتی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اندرونی طورپر کئی قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے، تحریک کے سربراہ مفتی نور ولی عرف ابو منصور عاصم تنظیم سے جدا ہونے والے محسود طالبان کے ایک اہم دھڑے حکیم اللہ محسود گروپ کو دوبارہ ٹی ٹی پی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی کی طرف سے میڈیا کو جاری ایک مختصر بیان میں اعلان کیا گیا کہ سابق لیڈر حکیم اللہ محسود کے ساتھی کمانڈر مخلص یار کی قیادت میں تحریک کے صف میں شامل ہوگئے ہیں اور مرکزی امیر مفتی ابو منصور عاصم کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے۔

تحریک میں دھڑا بندی کیسے پیدا ہوئی؟

2007 میں وجود میں آنے والی تحریک طالبان پاکستان بیت اللہ محسود کی سربراہی میں دو سال تک ہر قسم کے اندرونی اختلافات سے مکمل طورپر پاک رہی۔ اس دوران طالبان کے تمام دھڑوں میں مکمل اتفاق اور اتحاد قائم رہا۔

تاہم 2009 میں جب بیت اللہ محسود ایک امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے تو اس کے بعد طالبان تحریک میں پہلی مرتبہ نہ صرف قیادت کے معاملے پراختلافات پیدا ہوئے بلکہ یہاں سے تحریک میں دھڑے بندی کا آغاز بھی ہوا جس نے آگے چل کر تنظیم کو بقا کے خطرے سے دوچار کردیا۔ اس اختلاف کے نیتجے میں ٹی ٹی پی میں پہلی مرتبہ حکیم اللہ محسود اور مولانا ولی الرحمٰن کے نام سےگروپوں کا وجود بھی عمل میں آیا۔

غیر ملکی ٹی وی سے وابستہ وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی سلیم محسود کا کہنا ہے کہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود اور مولانا ولی الرحمٰن قیادت کے دو مضبوط امیدواروں کے طورپر سامنے آئے اور دونوں کی خواہش تھی وہ تحریک کی باگ ڈور سنبھال لیں لیکن بالاخر فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے سے ہوا جس میں حکیم اللہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ شوریٰ میں شامل وزیرستان کے ارکان کے علاوہ دیگر تمام علاقوں اورکزئی، باجوڑ، مہمند اور خیبر کے طالبان نے حکیم اللہ محسود کی کھل کر حمایت کی، لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ان دو گروپوں میں اختلافات کی بنیادی وجہ کیا بنی؟ اس کا تذکرہ ٹی ٹی پی کے رہنما مفتی نورولی کی حال میں لکھی گئی کتاب ’انقلاب محسود، فرنگی راج سے امریکی سامراج تک’ میں تفصیل سے کیا گیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ حکیم اللہ محسود تحریک کے امیر مقرر ہونے کے علاوہ ’حلقہ محسود طالبان’ کی سربراہی بھی چاہتے تھے جس کے سربراہ اس وقت ولی الرحمٰن کو مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہاں سے دونوں کمانڈروں کے مابین اختلافات نے جنم لیا جو بعد میں دو واضح دھڑوں کی شکل میں سامنے آیا۔ 

حلقہ محسود

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حلقہ محسود اس وقت جنوبی وزیرستان میں رہنے والے سرگرم طالبان کو کہا جاتا تھا جسے تحریک میں طاقت کا سرچشمہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں حلقہ محسود طالبان کا خاکہ بھی تفصیل سے بیان کیا ہے۔

حلقہ محسود تقربناً 23  کے لگ بھگ چھوٹے بڑے ذیلی حلقہ جات پر مشتمل تھا جس میں ہر حلقہ چند جنگجو کمانڈروں پر مشتمل ہوتا تھا جس کے نیچے کئی دیگر جنگجو کام کیا کرتے تھے۔

اس طرح اس پورے حلقے میں سینکڑوں محسود جنگجو شامل تھے جو تحریک کے 'فٹ سولجرز' کے طورپر جانے جاتے تھے۔ بیت اللہ محسود جب تک زندہ رہے وہ بھی تحریک کے مرکزی امیر ہونے کے ساتھ ساتھ حلقہ محسود کی سربراہی بھی کرتے رہے جس سے ان کی حیثیت خاصی مضبوط رہی۔

حکیم اللہ اور ولی الرحمٰن کی ہلاکتیں

تاہم جب تک حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمٰن زندہ رہے اس وقت تک اختلافات ضرور موجود رہے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر اعتماد بھی نہیں کیا کرتے تھے لیکن اس وقت تک ان اختلافات نے خونی تشدد کی شکل اختیار نہیں کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2013 میں حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمٰن کی دو الگ الگ ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد ان دھڑوں کی سربراہی خالد محسود سجنا (ولی الرحمٰن) اور شہریار محسود (حکیم اللہ) کے سپرد کی گئی جس کے بعد ان گروپوں میں نہ صرف اختلافات میں مزید اضافہ ہوا بلکہ ایک دوسرے کے قتل عام سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔

مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں ان دونوں دھڑوں میں اختلافات کی ایک وجہ کسی حد تک مکتب فکر کو بھی قرار دیا ہے۔ ان کے بقول حلقہ محسود میں شامل زیادہ تر طالبان خالصتاً دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ حکیم اللہ محسود کے بیشتر حمایتی اشاعت التوحید و السنت یا پنج پیرمکتب فکر کے زیر اثر رہے تھے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ٹی ٹی پی میں حکیم اللہ محسود کے اہم حمایتی گروپ ہمیشہ سے باجوڑ، سوات، اورکزئی اور مہمند کے طالبان رہے تھے جبکہ مکتب فکر کے لحاظ سے ان تمام طالبان دھڑوں کا پنج پیر سے گہرا تعلق رہا ہے۔

افغانستان میں لڑائی

طالبان ذرائع کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے بعد تمام عسکری تنظمیں افغانستان منتقل ہوئیں جہاں شہریار محسود اور خالد سجنا گروپوں نے ایک دوسرے کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا آغاز کیا، جس میں دونوں جانب سے درجنوں جنگجو مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق سجنا گروپ نے ایک موقعے پر شہریار محسود کے تمام جنگجوؤں کو چن چن کر مارنا شروع کیا اور انہیں افغان صوبہ پکتیا سے نکال کر صوبہ کنڑ کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

یہ اختلافات کئی سال تک برقرار رہے اور ایک وقت میں یہ کارروائیاں اتنی بڑھی کہ افغان طالبان اور القاعدہ کو مداخلت کرنا پڑی لیکن اس کے باوجود ان گروپوں کے مابین جھڑپوں کو روکا نہیں جا سکا۔

تاہم 2018 میں مولانا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد جب مفتی نورولی کو تحریک کا امیر مقرر کیا گیا تو انہوں نے ابتدا ہی سے تحریک سے جدا ہونے والے دھڑوں کو دوبارہ سے تحریک کا حصہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا اور بالاخر اس اختلاف کو کسی حد تک ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

صحافی سلیم محسود کے مطابق شہریار محسود کا پورا گروپ ابھی تحریک کا حصہ نہیں بنا بلکہ کچھ کمانڈرز شامل ہوئے ہیں تاہم تحریک کی سطح پر دیگر ناراض جنگجو کمانڈروں کو منانے کےلیے کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹی پی پی کے سربراہ مفتی نور ولی نے اپنی کتاب میں حکیم اللہ محسود اور اس کے گروپ پر کئی قسم کے سنگین الزام بھی لگائے ہیں اور انہیں ’بھتہ خور، قاتل اور خفیہ اداروں’ کے ایجنٹ کے ناموں سے یاد کیا ہے۔

انہوں نے تحریک طالبان کے زوال کے بابت لکھا کہ تحریک کا زوال حکیم اللہ کے دور میں ہی شروع ہوا جب ہر طرف عوامی مقامات پر دھماکوں کے سلسلے کا آغاز ہوا اور مخالفین کو بغیر شرعی وجوہات کے ناحق قتل کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم اللہ کے دور میں علما کرام تک سے بھتے لیے گئے جس سے تحریک میں شامل مشیران اور علما کرام نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ایک انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان