اپنے انداز سے چہروں پر ہنسی کھلانے والے چارلی چیپلن

دنیا کے عظیم کامیڈی آئیکون 25 دسمبر 1977 کو کرسمس کے دن دنیا سے رخصت ہوئے

فلم ’گولڈ رش‘ کا مشہور منظر جس میں چیپلن اپنے جوتے کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں (یونائٹڈ فلمز)

ہاتھوں میں چھڑی، سر پر الٹی سیدھی ٹوپی، ڈھیلی ڈھالی پتلون جسے ہاتھوں سے بار بار پکڑ کر نیچے گرنے کی جستجوسے باز رکھنا، تنگ کوٹ، ناک کے نیچے ننھی منی مونچھیں اور جب بے ڈھنگی چال چلیں تو بے اختیار دیکھنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر جائے۔

یہی تعارف ہے چارلس اسپنسر چیپلن کا، جن کا ذکر کسی محفل میں ہو توان کا تصور کرکے ہی کھلکھلانے کو دل چاہتا ہے۔ خاموش فلموں کے شہرہ آفاق برطانوی اداکار نے اپنے اصل نام کے بجائے چارلی چیپلن کے ذریعے زیادہ شہرت پائی۔ مزاحیہ اداکاری ایسی کی کہ ہر اداکار کے لیے سنگ میل بنے۔ جن کا مخصوص گیٹ اپ لالی اور بالی وڈ کے کئی فنکاروں نے دھارا۔

کہا جاتا ہے کہ 20ویں صدی کی دو مشہور ترین غیرسیاسی شخصیات میں سے ایک آئن سٹائن اور دوسری چارلی چیپلن ہیں۔ 1999 ٹائم میگزین نے 20ویں صدی کے 100 بااثر ترین افراد کی فہرست شائع کی تو اس میں ہالی وڈ کے صرف دو اداکاروں کو جگہ ملی، چیپلن اور مارلن برانڈو۔  

چارلی چیپلن کے والدین تھیئٹر آرٹسٹ تھے اور صرف پانچ برس کی عمر میں چیپلن کو پہلی بار اس وقت اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا، جب اُن کی والدہ کو فوجیوں کے سامنے پرفارم کرتے ہوئے گلے میں تکلیف کا احساس ہوا۔ ایسی صورتحال میں انہوں نے گانے سے معذرت کرلی تو چارلی کے والد نے غصے میں بھرے فوجی تماشائیوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چارلی کو میدان میں اتارا۔

انہوں نے اس موقعے پر ایسی جم کر گلوکاری کی کہ سننے والے تو جیسے ان کے پرستار ہی ہو گئے۔ اس کے بعد چیپلن ایک طویل عرصے تک والدہ کی گلوکاری کی بھی نقل کر کے اسٹیج پرفارمنس دے دیتے رہے اور یوں ماں باپ کا مالی سہارہ بننے کی جستجو کی۔

چارلی چیپلن کی زندگی میں ایک دور وہ بھی آیا کہ والد کثرت مے نوشی کی بنا پر صرف 37 برس کی عمر میں چل بسے جبکہ والدہ مختلف نفسیاتی بیماریوں کی مہمان بنیں تو چارلی چیپلن کو یتیم خانے میں داخل کرا دیا گیا۔ دوران انہوں نے تعلیم اور سٹیج پرفارمنس سے اپنا ناطہ نہیں توڑا۔ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو فلموں میں کام کرکے زندگی کی گاڑی کھینچنے لگے۔

اس مرحلے پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنے اندر چھپے غموں اور تکالیف کو دنیا سے پوشیدہ رکھ کران کو ہنسانے پر مجبور کریں گے۔ چارلی چیپلن کی خواہش تھی کہ اگر کوئی انہی جیسی دشواریوں اور پریشانیوں کا شکار ہے تو ان کی اداکاری دیکھ کر انہیں فراموش کردے اور پھر ایک کے بعد ایک مزاحیہ فلموں میں اپنے مخصوص گیٹ اپ سے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چارلی چیپلن نے برطانیہ سے امریکہ کا سفرکیا تو یہاں آکر بھی ان پر فلموں کی برسات ہو گئی۔ وہ صرف ایک اداکار ہی نہیں، بہترین ہدایت کار، کہانی نویس اور موسیقار بھی تھے۔ یہ بھی ان کا ہی کمال ہے کہ خاموش فلموں کے دور میں انہوں نے بغیر مکالمات بولے، اپنی چلبلی سی حرکتوں کے ذریعے آج تک خود کو ’ کامیڈی آئی کون‘ بنائے رکھا۔ صوتی ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے کے باوجود کئی برسوں تک وہ آڈیو اور مکالمات کو اپنانے سے معذرت کرتے رہے لیکن پھر وقت کی ضرورت اور فلم بینوں کی ڈیمانڈ کو محسوس کرتے ہوئے صوتی تاثرات اور مکالمات شامل کرنے پر مجبور ہوئے۔

 کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ چارلی چیپلن نے اپنی مونچھوں کا انداز ہٹلر سے متاثر ہو کر ڈیزائن کیا تھا ۔ اب یہ حسن اتفاق ہی ہے کہ ایڈولف ہٹلر اور چارلی چیپلن ایک ہی مہینے اپریل اور ایک ہی سال 1889 میں پیدا ہوئے۔ جبکہ 1940 میں ہٹلر کے کردار کو مزاح کا رنگ دے کر انہوں نے ’دی گریٹ ڈکٹیٹر‘ بھی بنائی۔ جس پر ہٹلر حامیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کر نا پڑا۔ اس طنز و مزا ح سے بھری فلم کے آخری پانچ منٹ میں انہوں نے فلم بینوں سے مخاطب ہو کر قوم پرستی اور فاشزم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی التجا بھی کی۔

چارلی نے امریکہ میں 40 برس گزارے لیکن اس کے باوجود چیپلن کبھی بھی امریکی شہریت حاصل نہیں کر پائے۔ اس سلسلے میں کہا جاتا ہے کہ اِن کے کمیونزم خیالات سب سے بڑی راہ کی رکاوٹ بنے۔ اُس وقت امریکہ میں کمیونسٹ کہلانا غداری کے مترادف تھا۔ ایک عرصے تک وہ ایف بی آئی کی زیر نگرانی بھی رہے جبکہ 1952 میں جب وہ تعطیلات پر برطانیہ واپس گئے تو امریکی حکام نے ان کو دوبارہ داخلے کی اجازت بھی نہیں دی۔ تبھی دل برداشتہ ہو کر انہوں نے سوئٹزرلینڈ میں ہی سکونت اختیار کی۔ اس دوران صرف ایک بار 1972 میں انہیں امریکہ آنے کا موقع ملا کیونکہ ان کی فلم ’لائم لائٹ‘ کو بہترین موسیقی پر آسکر کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ فلم 1952 میں جاری ہوئی تھی۔

امریکہ میں اس کا بائیکاٹ کیا گیا اور جب 1972 میں پھر سے امریکی سنیما گھروں کی زینت بنی تو اس تخلیق نے زبردست کامیابی اپنے دامن میں سمیٹی اور چارلی چیپلن کو پہلا اور آخری اکیڈمی ایوارڈ تک دلا گئی۔ اسی دورے کے دوران انہیں ’واک آف فیم‘ سے بھی نوازا گیا۔

چیپلن کو یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ وہ پہلے اداکار تھے جن کی تصویرچھ جولائی 1925 کو امریکی جریدے ٹائم میگزین کے سرورق پر شائع ہوئی۔ یہی نہیں 1916 میں وہ امریکی صدر سے زیادہ تنخواہ لینے والی شخصیت تھے۔ امریکی صدر کو اس وقت سالانہ 75 ہزار ڈالر تن خواہ اد ا کی جاتی تھی جبکہ نیویارک کی میوچل فلم کارپوریشن نے چارلی چیپلن کی خدمات 6 لاکھ 70ہزار ڈالر میں حاصل کی تھیں۔

چارلی چیپلن خاصے دل پھینک اور رنگین مزاج تھے۔ چار بار دلہا بنے اور تین بار ان کی شریک سفر خاصی کم عمر تھیں۔ پہلی شادی 17 برس کی اداکارہ ملرڈرڈ ہیرس سے کی اور پھر 16 برس کی لیتا گرے سے اور جب خود 54 برس کے تھے تو ایک بار پھر 18 سال کی اونا اونیل پر دل آگیا اور یہ ساتھ چیپلن کی موت تک قائم رہا۔

چارلی چیپلن کی زندگی سے جڑا ایک دلچسپ قصہ یہ بھی ہے کہ 20 کی دہائی میں امریکہ میں چارلی چیپلن جیسے بہروپیوں کا مقابلہ سجایا گیا کہ کون اس کردار کو بہتر انداز میں ادا کرسکتا ہے۔ نجانے چارلی کو کیا سوجھی کہ خود بھی اس میں حصہ لینے پہنچ گئے۔ کوئی بھی انہیں پہچان نہ سکا لیکن اصل ڈرامائی موڑ تو اُس وقت آیا جب وہ اس مقابلے میں 20ویں پوزیشن پر آئے۔

 جب پوری دنیا 1977 میں کرسمس منا رہی تھی، ہر چہرہ دمک رہا تھا، خوشیاں ہی خوشیاں چہروں طرف پھیلی تھیں، کہ دوسروں کی زندگیوں میں ان گنت رنگ بھرنے والے چارلی چیپلن خاموشی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

یہ واقعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اُن کی موت کے کچھ ماہ بعد چوروں نے ان کا تابوت قبرستان سے اڑا لیا اور چھ لاکھ ڈالر کے عوض اس کی واپسی کی شرط رکھی۔ چارلی چیپلن کی بیوہ نے انکار کیا تو انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ بہرحال 11 ہفتے بعد سوئس پولیس نے چوروں کو گرفت میں لے کر پھر تابوت کو محفوظ ترین انداز میں دفنایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم