اکیڈمی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ومپائر دور کی ڈراؤنی فلم ’سنرز‘ نے آسکر ایوارڈز کی تاریخ کا ریکارڈ توڑتے ہوئے 16 نامزدگیاں حاصل کی ہیں۔
ہدایت کار رائن کوگلر کی بلوز موسیقی کے انداز اور نسلی امتیاز کی تمثیل پر مبنی اس فلم نے بہترین فلم سمیت تقریباً ہر ممکن کیٹیگری میں نامزدگیاں حاصل کیں۔
اس طرح ’سنرز‘ نے 14 نامزدگیوں کا وہ گذشتہ ریکارڈ توڑ دیا جو مشترکہ طور پر ’ٹائی ٹینک‘، ’لا لا لینڈ‘ اور ’آل اباؤٹ ایو‘ کے پاس تھا۔
کوگلر نے فلمی صنعت کی ویب سائٹ ’ڈیڈلائن‘ کو بتایا کہ نامزدگیوں کی ’انتہائی حیران کن‘ ریکارڈ تعداد ’بہت خوش کن‘ ہے۔
یہ ہالی وڈ کی ایک منفرد اوریجنل فلم ہے جو کسی موجودہ فرنچائز پر مبنی نہیں۔ اپریل میں ریلیز سے قبل انڈسٹری میں بہت سے لوگ ’سنرز‘ کو شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھتے تھے، لیکن یہ 36 کروڑ ڈالر کا بزنس کر کے عالمی ہٹ ثابت ہوئی۔
کوگلر نے کہا کہ انہیں ایوارڈز کے لیے ’کوئی توقعات نہیں تھیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں کا صرف فلم دیکھنے آنا اور لطف اندوز ہونا ہی کافی ہوتا۔‘
لیکن اس کی نامزدگیوں کی بڑی تعداد میں مائیکل بی جورڈن کے لیے بہترین اداکار کی نامزدگی بھی شامل ہے جو 1930 کی دہائی کے نسلی تفریق والے امریکہ کے جنوبی حصے میں گھر واپس آنے والے جڑواں بھائیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں، اس کے علاوہ سکرین پلے سے لے کر میوزک سکور تک ہر شعبے میں نامزدگیاں شامل ہیں۔
بہترین کاسٹنگ کے لیے بھی ایک نامزدگی تھی، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں ہالی وڈ کے سب سے معتبر ایوارڈز میں شامل کی جانے والی پہلی نئی کیٹیگری ہے۔
’ون بیٹل آفٹر این ادر‘ بہترین فلم، لیونارڈو ڈی کیپریو کے لیے بہترین اداکار اور پال تھامس اینڈرسن کے لیے بہترین ہدایت کار سمیت 13 نامزدگیوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔
لیکن اس فلم کی مرکزی اداکارہ، 25 سالہ نئی فنکارہ چیس انفنیٹی کو اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کے ووٹرز نے حیران کن طور پر نظر انداز کر دیا۔
سب سے زیادہ نامزدگیاں حاصل کرنے والی دونوں فلمیں وارنر برادرز کی ہیں، وہ مووی سٹوڈیو جو اس وقت نیٹ فلکس اور پیراماؤنٹ کے درمیان بولی کی جنگ کا ہدف بنا ہوا ہے۔
گییرمو ڈیل ٹورو کی مونسٹر ایپک ’فرینکنسٹائن‘، ٹموتھی شالامے کے پنگ پونگ ڈراما ’مارٹی سپریم‘ اور ناروے کی آرٹ ہاؤس پسندیدہ ’سینٹی مینٹل ویلیو‘ میں سے ہر ایک نے نو نامزدگیاں حاصل کیں۔
’ہیمنیٹ‘، ایک پیریڈ ڈراما جس میں ولیم شیکسپیئر اور ان کی اہلیہ طاعون زدہ ایلزبتھن انگلینڈ میں اپنے بیٹے کی موت کے غم سے نبردآزما ہیں، نے آٹھ نامزدگیاں حاصل کیں۔
جیسی بکلی کو شیکسپیئر کی تکالیف سہنے والی بیوی ایگنیس کا کردار ادا کرنے پر نامزد کیا گیا، حالانکہ فلم کے مرکزی اداکار پال میسکل جگہ بنانے میں ناکام رہے۔
بکلی نے اعلان کے بعد دی ہالی وڈ رپورٹر کو بتایا ’ایگنیس کا کوئی حصہ پال کے بغیر وجود نہیں رکھتا۔۔۔ اور جو کچھ انہوں نے اس کہانی میں ڈالا ہے۔‘
اداکاری کے مقابلے
ان نامزدگیوں نے 15 مارچ کو ہونے والی 98ویں آسکرز کی تقریب کے لیے میدان سجا دیا ہے۔
اگرچہ ’سنرز‘ نامزدگیوں میں سرفہرست ہے، لیکن ’ون بیٹل‘ بہترین فلم کا ایوارڈ جیتنے کے لیے فیورٹ ہے، کیوں کہ اس نے اس ایوارڈ سیزن میں اب تک تقریباً ہر ابتدائی ایوارڈ جیتا ہے۔
یہ انوکھی تھرلر فلم ایک ریٹائرڈ انقلابی کے بارے میں ہے جو انتہا پسندانہ تشدد، امیگریشن چھاپوں اور سفید فام بالادستی کے ہنگامہ خیز پس منظر میں اپنی نوعمر بیٹی کو تلاش کر رہا ہے، اس نے ہالی وڈ کے سکرین ایکٹرز گلڈ کی نامزدگیوں کا آل ٹائم ریکارڈ توڑ دیا ہے۔
ڈی کیپریو، شالامے اور جورڈن بہترین اداکار کے آسکر کے لیے مقابلہ کریں گے، ان کے ساتھ براڈوے پیریڈ ڈرامہ ’بلیو مون‘ کے ایتھن ہاک اور برازیلی سیاسی تھرلر ’دی سیکرٹ ایجنٹ‘ کے واگنر مورا بھی شامل ہیں۔
بہترین اداکارہ کے لیے بکلی کا مقابلہ سازشی نظریات کے ڈرامہ ’بیگونیا‘ میں ایلین (یا کیا وہ واقعی ہے؟) کا کردار ادا کرنے والی ایما سٹون، ’سینٹی مینٹل ویلیو‘ میں ریناٹے رینسوے، انوکھی میوزک بائیو پک ’سونگ سنگ بلیو‘ میں کیٹ ہڈسن، اور انڈی ہٹ ’اف آئی ہیڈ لیگز آئیڈ کِک یو‘ میں جدوجہد کرنے والی ماں کا کردار ادا کرنے والی روز برن سے ہوگا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بین الاقوامی ووٹرز
اکیڈمی کے بیرون ملک ووٹرز کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے باعث ’سینٹی مینٹل ویلیو‘ اور ’دی سیکرٹ ایجنٹ‘ دونوں کو بہترین فلم کے لیے نامزد کیا گیا۔
لیکن فارسی زبان کی پام ڈی اور جیتنے والی فلم ’اٹ واز جسٹ این ایکسیڈنٹ‘ ٹاپ کیٹیگری میں جگہ نہ بنا سکی اور اب وہ سپین کی خانہ بدوش ہپی مہم جوئی پر مبنی ’سیرات‘ اور دل دہلا دینے والے فلسطینی ڈاکیودرامہ ’دی وائس آف ہند رجب‘ کے ساتھ بہترین بین الاقوامی فلم کے لیے مقابلہ کرے گی۔
پاپ میگا سٹار آریانہ گرانڈے حیران کن طور پر ’وِکڈ: فار گڈ‘ میں گلنڈا کا کردار ادا کرنے پر بہترین معاون اداکارہ کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہیں، یہ فلم کوئی بھی نامزدگی حاصل نہ کر سکی۔
اکیڈمی کی حال ہی میں مقرر ہونے والی صدر لینیٹ ہاول ٹیلر نے لاس اینجلس میں صبح سویرے ہونے والے اعلان کا آغاز مصنوعی ذہانت کے خطرے کے بارے میں انتباہ کے ساتھ کیا۔
انہوں نے کہا ’ہم لامحدود ٹیکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں جو ہمیں اپنے سینما کے تجربے کی حدود کو وسعت دینے کے قابل بناتی ہے۔‘
’اور ہمارا پختہ یقین ہے کہ فلم کی دھڑکن بلاشبہ انسان ہے اور ہمیشہ رہے گی۔‘