ایسے لوگ جن کے جسموں میں بیٹھے بیٹھے آگ بھڑک اٹھی

انسانوں کا اچانک آگ کی زد میں آ کر راکھ ہو جانا 400 سال سے چلا آ رہا ہے، بالخصوص گذشتہ صدی کے اختتام پر یہ بہت عام تھا۔ لیکن سائنسی ترقی کے باوجود اس کی اصل وجوہات آج بھی معلوم نہیں ہو سکیں۔

2018 میں آنے والی فلم ’ہیریڈیٹری‘ کا ایک منظر جس میں ایک شخص کو جلتے دکھایا گیا ہے (PalmStar Media)

70 اور 80 کے عشرے میں پروان چڑھنے والے بالخصوص خوفناک چیزوں کے متعلق پرتجسس بچوں کے حافظے میں ایک ناگوار تصویر کا نقش ضرور موجود ہو گا۔ یہ پہلی نظر میں بالکل مبہم سی سفید و سیاہ تصویر ہے، غیر مانوس شکلوں کا مجموعہ جسے پہلے نظر میں سمجھنا اس لیے دشوار ہوتا کہ اس کا موازنہ کرنے کے لیے ہمارے ذہن میں ویسی کوئی دوسری چیز موجود نہ ہوتی تھی۔

جیسے ہی دماغ مشاہدے کو قبول کرتا ہے اس کے بعد خوف کے اصلی حقیقی سائے لہرانے لگتے ہیں۔ کھیت یا کنکریٹ کی آتش زدہ عمارت کا سرمئی ہیولا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ تصویر کا بغور مشاہدہ ہے جو اچانک اصلی پس منظر سُجھاتا ہے۔ کھیت قالین ہے اور عمارت آتش زدہ کرسی ہے۔ اس کا سامنے والا حصہ گھٹنے تک جلی ہوئی انسانی ٹانگ ہے جس نے حیران کن طور پر ابھی تک ہموار ایڑی والے چمکتے جوتے پہن رکھے ہیں۔

یقیناً یہ کسی طرح کے خارجی عمل کے بغیر آتش زدگی کا خوف ناک واقعہ تھا جسے spontaneous human combustion (SHC) کہتے ہیں۔

 ہم میں سے Unexplained میگزین پڑھنے اور آرتھر سی کلارک کی پراسرار فلمیں دیکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ پراسرار معموں کا سنہرا دور تھا۔ ان رسالوں کے ساتھ زینر کارڈ مفت ملتے تھے۔ ہم لہریہ دار تصویروں کو پرجوش طریقے سے ٹکٹکی باندھ کر تکتے اور قوتِ ارادی کو مرکوز کرتے کہ یہ تصویر ہمارے والد کے دماغ کے اندر نشر ہو جائے جو کھیلوں کا چینل دیکھ رہے ہوتے تھے۔ ہم جانتے تھے کہ چھٹی حس کیا ہے۔ ہمیں یقین تھا کہ مایا اور اِنکا تہذیبوں سے وابستہ افراد کسی اور دنیا کی مخلوق تھے۔ ہمیں اس میں ذرہ برابر بھی شک نہ تھا کہ اگر ہم گھریلو خود ساختہ گتے کے مخروطی ڈبے میں جمی ڈوگر بسکٹ رکھ دیں تو وہ کم از کم اگلے سو سال تو ضرور تازہ رہیں گے۔ بھوت پریت اور (سکاٹ لینڈ کی جھیلوں کے بھوت) لوخ نیس مونسٹر جیسی بدروحیں ہمارے لیے بالکل حقیقی تھے۔

دنیا ایسی ہیبت ناک چیزوں سے بھرتی جا رہی تھی سائنس جن کی مناسب توجیہ کرنے سے قاصر تھی۔ ان میں سب سے زیادہ ڈراؤنے جھلسے ہوئے انسانی وجود تھے۔

کیونکہ ہمارے گھروں کے قرب و جوار میں موجود بگ فُٹ اور نیسی (دیو ہیکل انسان نما جانور) ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے اس لیے ایس ایچ سی (جسے بعد میں یہ نام دیا گیا) کا نشانے بنے سے بچنے کے لیے سنسان جگہوں پر گھومنے پھرنے سے گریز کیا جاتا تھا۔ آپ نے بس سارا دن کرسی پر فارغ بیٹھے رہنا ہوتا تھا، اس کے بعد اپنے بہترین جوتے پہنے خود کو جلے ہوئے جسم میں تبدیل ہوتے دیکھنا بالکل میری ریسر کے انداز میں جن کی مشہور زمانہ ایک ٹانگ والی تصویر ہزاروں خوفناک خوابوں کا باعث بنی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میرے پاس موجود مسٹریز آف دی اَن ایکسپلینڈ (ریڈرز ڈائجسٹ، 1988) کے مستند نسخے کے مطابق ’ایس ایچ سی ایک ثابت شدہ مظہر ہے جس میں کسی معلوم خارجی ذریعے سے آگ لگے بغیر انسانی جسم بھڑکتا اور جل جاتا ہے۔ بعض اوقات نقصان معمولی ہوتا ہے۔ جبکہ کئی دفعہ پورا جسم راکھ ہو جاتا ہے۔ بعض عجیب و غریب واقعات میں قریب پڑی اشیا پر خراش تک نہیں آتی۔ جس کرسی یا بستر پہ متعلقہ شخص بیٹھا یا لیٹا ہوتا اور یہاں تک کہ جلے ہوئے بدن پر موجود لباس تک بالکل سلامت یا تھوڑا بہت نشان زدہ ہوتا۔ اکثر ایک پاؤں، ٹانگ یا کچھ انگلیوں کی پوریں بالکل محفوظ رہ جاتیں جبکہ باقی پورا جسم راکھ کا ڈھیر بن چکا ہوتا۔‘

چاپر موٹر سائیکلوں، بھورے رنگ اور ڈسکو کی طرح ایس ایچ سی بھی 70 کی دہائی میں عام تھی۔ کتے کے سفید پاخانے کی طرح یہ بھی اس وقت بہت مروج تھی جس کا تذکرہ اب شاید ہی سننے کو ملتا ہو۔ میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسا محض 70 اور 80 کی دہائی میں ہوتا رہا، بس یہ کہ تب اس کے متعلق ہم بہت زبان چلایا کرتے تھے۔ ایس ایچ سی کی 400 سالہ طویل اور واضح تاریخ ہے۔ لیکن آئیے میری ریسر کے متعلق چند باتیں کر لیں۔

اس خوف ناک تصویر میں دکھائی دینے والی ٹانگ کبھی ایک جیتے جاگتے انسانی جسم کا حصہ تھی جس کی پیدائش 1884 میں پنسلوانیا کے شہر کولمبیا میں ہوئی۔ میری ریسر، نی ہارڈی نے تقریباً 67 برس پر مشتمل ایک معمولی انسان کی زندگی گزاری اور محض ان کی موت نے انہیں پراسرار تاریخ کا ایک لازوال کردار بنا دیا، اس لیے میری کی پہلے والی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات ملتی ہیں۔

تحقیق سے ہمیں کوئی ایسا سراغ نہیں ملا جس کی بنیاد پر ہم پورے وثوق سے کہہ سکیں کہ یہ ہوا تھا۔

دو جولائی 1951 کی صبح میری کی مالک مکان فلوریڈا کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کے اپارٹمنٹ ایک ٹیلی گرام دینے پہنچیں اور جیسے ہی دروازے کے ہینڈل کو چھوا وہ دہک رہا تھا۔ انہوں نے پولیس کو اطلاع دی جس نے دروازہ توڑا اور وہی منظر دیکھا جو تصویر میں ہے۔ اس کے ساتھ میری کی جوتے سمیت بائیں ٹانگ، ریڈھ کی ہڈی اور کھوپڑی راکھ کے ڈھیر میں موجود تھی۔

ہیبت ناک خوابوں کا سبب بننے والی مشہور تصویر کے علاوہ ایس ایچ سی کی تاریخ میں میری کا واقعہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تفتیش و تحقیق کے جدید سائنسی ذرائع پہلی بار کسی ایسے واقعے کی جانچ پڑتال کے لیے استعمال کیے گئے۔ 1950 کی دہائی میں موجود جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود پولیس، فائر ڈیپارٹمنٹ، ماہرین علم الامراض، جلی ہوئی اشیا سے حقیقی وجوہات کا سراغ لگانے والے ماہرین اور یہاں تک کہ ایف بی آئی کے ہاتھ بھی حیرت کے سوا کچھ نہ لگا۔

اس واقعے کے ایک سال بعد سینٹ پیٹرزبرگ پولیس کے سراغ رساں کاس برجیس نے ایک بیان میں کہا، ’ہماری تحقیق کسی ایسے نتیجے پر نہیں پہنچ سکی جس کی بنیاد پر یقین سے کچھ کہا جا سکے۔ تحقیقات ابھی تک جاری ہیں۔ موت کا منطقی سبب دریافت کرنے سے ابھی تک ہم اتنے ہی دور ہیں جتنے پہلی بار ریسر کے ڈیپارٹمنٹ میں داخلے کے وقت تھے۔‘

تفتیشی آفیسر کاس برجیس کے باس، پولیس چیف جے آر ریشرٹ نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا، ’جہاں تک منطقی حوالوں کی بات ہے تو ایسے کسی واقعے کا ہونا ممکن ہی نہیں، لیکن یہ ہوا۔ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں اور شاید متعلقہ لوگوں کی پوری تسلی کبھی ممکن ہو بھی نہ سکے۔‘

ایس ایچ سی اس سے بہت پہلے ایک طویل مدت سے کئی اداروں کو الجھائے چلی آ رہی ہے۔ یونیورسٹی کے ریٹائر لیکچرر اور A Cabinet of Medical Curiosities نامی کتاب کے مصنف ڈاکٹر جان بونڈیسن کے مطابق عجیب و غریب، بے تکے اور غیر متوقع اجزا کا مجموعہ، ایس ایچ سی کا پہلا مستند واقعہ 1635 میں کوپن ہیگن یونیورسٹی میں زیر بحث آیا۔

سویڈن میں پیدا ہونے والے اور سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں مقیم ڈاکٹر بونڈیسن اس واقعے کے متعلق بتاتے ہیں کہ ایک پب میں بیٹھے ایک سکالر تیز الکوحل پی رہا تھا کہ اچانک ان کے منہ سے آگ کے اتنے شدید شعلے نکلے کہ اس کا بولنا ممکن نہ رہا۔ قریب موجود لوگ آگ بجھانے میں کامیاب ہو گئے لیکن وہ اس قدر ڈر گیا کہ مزید بیٹھنے کے بجائے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران وہ اچانک گرا اور موت کی آغوش میں جا پہنچا۔

ایسے ابتدائی واقعات ڈینش فزیشن ٹوماس بارتھولن نے جمع کیے جو ڈاکٹر بونڈیسن کے مطابق زیرک طبی سائنسدان ہونے کے باوجود ’بہت ضعیف الاعتقاد‘ تھے۔ لیکن اس وقت اکثر طبی شعبے ابھی پاؤں پاؤں چلنا سیکھ رہے تھے اور غالباً 17 ویں صدی میں یہ تصور کہ ایک جسم اپنے اندر سے اٹھتے شعلوں میں جل سکتا ہے کوئی بہت غیر حقیقی چیز نہیں سمجھی جاتی تھی۔

ڈاکٹر بونڈیسن کہتے ہیں کہ ایس ایچ سی کے مشہور ترین ابتدائی واقعات میں سے ایک اٹلی کے مقام پر 1731 میں پیش آیا جس میں سیسینا کی نواب زادی بینڈی نشانہ بنیں۔ یہ ریسر کے واقعے کی طرح ہے جب 62 سالہ معزز خاتون ناقابلِ فہم شعلوں کی نذر ہو گئیں اور راکھ کے ڈھیر میں محض ان کی ٹانگ ملی۔ ’لیکن یہ چند حالیہ واقعات سے بالکل مختلف ہے جن میں پیچھے بس چکنائی، بدبودار کپڑے اور چپکتا ہوا نم دار مادہ رہ جاتا ہے۔‘

چارلز فورٹ کی تحقیق سے متاثر ہو کر ڈاکٹر بونڈیسن نے 1973 کے بعد پیش آنے والے ایسے پراسرار واقعات ’فورٹیئن ٹائمز‘ میگزین کے لیے لکھے۔ اس کے آرکائیوز ایس ایچ سی سے متعلق حالیہ برسوں میں پیش آنے والی کہانیوں کا شاندار خزانہ ہیں جن کا زیادہ تر مواد مقامی اخبارات کے صفحات سے لیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر اپریل 1985 میں وولور ہیمپٹن ایکسپریس اور سٹار نے 86 سالہ میری کارٹر کی موت کی خبر دی جو برمنگھم میں اپنے فلیٹ کے اندر مردہ پائی گئی تھیں۔ موت کی وجہ دل کا دورہ تھا لیکن ان کے جسم پر جلنے کے نشانات تھے جن کی وضاحت ممکن نہیں۔ 1979 میں یارکر پریس نے 76 سالہ خاتون للی سمتھ کی موت کے بارے میں تحقیق شائع کی جن کو نارتھ یارک شائر میں ہٹن لے ہول کے مقام پر اپنے گھر میں آگ نے اس قدر بھسم کر دیا کہ ان کی شناخت کرنا مشکل ہو گیا۔ اس بار پھر ان کی ٹانگیں شعلوں سے محفوظ رہیں۔ اسی طرح 1980 میں شورپ شائر کے شہر ٹیلفورڈ میں سڑک کے کنارے کھڑی گاڑی کے ٹائروں میں ایک آدمی کی بری طرح جلی ہوئی لاش ملی۔ کار کو اندر سے بہت کم نقصان پہنچا تھا۔

عقل سلیم اصرار کرتی ہے کہ ایسی اموات کی کوئی نہ کوئی منطقی وضاحت ہونی چاہیے۔ کار میں مرنے والے شخص نے شاید خودکشی کی ہو اور تب برمنگھم ایوننگ میل میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، لیکن یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہیں کہ اگر خودکشی کی تو کیسے اور کار کو نقصان کیوں نہ پہنچا؟ للی سمتھ کے معاملے میں تفشیشی افسر نے کہا کہ ممکن ہے جہاں سمتھ بیٹھی تھیں وہاں آتش دان سے کچھ آ گرا ہو اور ان کے کپڑوں نے آگ پکڑ لی ہو۔ لیکن آگ کے نزدیک ترین ان کی ٹانگیں تھیں جو محفوظ تھیں اور جس لکڑی کی کرسی پر وہ بیٹھی تھیں اس پہ کوئی نشان نہیں تھا۔ اسی طرح میری کارٹر کے متعلق کہا گیا ممکن ہے ان کے کپڑوں کو آگ لگ گئی ہو لیکن یہ بات تسلیم کرنے کے لیے کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔

ڈاکٹر بونڈیسن کے مطابق 17 ویں اور 18 ویں صدی میں ایس ایچ سی کے شروعاتی دور میں الکوحل کا استعمال بڑی وجہ سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت اس کا شکار ہونے والے زیادہ تر غربا تھے اس لیے تب طبی عملے کا خیال تھا کہ کثرت مے نوشی کی وجہ سے یہ آگ کی زد میں آ گئے۔ اگرچہ سیسنا کی نواب زادی بینڈی یقیناً پینے پلانے والے اس طبقے سے نہ تھیں تو کہا گیا کہ وہ جب بیمار ہوتیں کافور ملی شراب سے اپنا جسم دھویا کرتی تھیں۔

اس وقت ڈاکٹر بونڈیسن کے بقول زیادہ تر یہی وجہ بیان کی جاتی تھی کہ ’کثرت مے نوشی کے سبب خون میں الکوحل کی مقدار بڑھنے سے آگ لگتی ہے۔ اس طرح ایس ایچ سی الکحول کے خلاف تحریک میں اہم دلیل بن گئی کہ اگر آپ زیادہ پئیں گے تو آگ کا نشانہ بن جائیں گے۔ بہت پراپیگنڈا کیا گیا اور اسے خوفناک چیز بنا دیا گیا۔‘

آخر کار سائنسی ترقی نے آگ سے متعلق شراب کے بے سر و پا تصور کا خاتمہ کیا لیکن ایس ایچ سی کا اصرار جاری رہا۔ یہاں تک کہ چارلز ڈکنز کے ناول ’بلیِک ہاؤس‘ میں اس کا ذکر موجود ہے جب بدکردار، شراب کا رسیا کروک نامی کردار آگ میں جھلس کر مر جاتا ہے۔ جب ایک دوست اور نقاد نے ڈکنز کو یہ فرضی بات شامل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو بعد میں ڈکنز نے کتاب کے تعارف میں چند سطروں کا اضافہ کرتے ہوئے ایس ایچ سی پر اپنے یقین کو ان الفاظ میں دہرایا کہ ’کثرت سے ایسے واقعات کی خبریں ملتی ہیں اس لیے میں اس وقت تک ان حقائق سے پیچھے نہیں ہٹوں گا جب تک اچانک جلنے کی کافی ساری گواہیاں پیش نہیں کی جاتیں۔‘

ایس ایچ سی کا معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جب حقیقت، فکشن سے بھی زیادہ حیران کن لگتی ہے۔ کیا واقعی اس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی؟ ڈاکٹر بونڈیسن کے بقول سب سے زیادہ قرین قیاس ’کینڈل ایفیکٹ‘ ہے جسے وک ایفیکٹ بھی کہتے ہیں۔

بنیادی طور پر اگر ایک شخص کسی خارجی شے، چاہے وہ سگریٹ جیسی معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو، سے جلنا شروع ہوتا ہے تو جسمانی چربی اتنی دیر تک حرارت خارج کرتی رہتی ہے کہ ہڈیاں اور اندرونی اعضا تباہ ہو جائیں۔ اس عمل کے دوران کپڑے چربی کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے موم بتی کے فتیلے کا سام کام کرتے ہیں، جبکہ کم چربی والے کھوپڑ‎ی، ہاتھ اور پاؤں جیسے اعضا کے علاوہ جسم پہلے راکھ ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایس ایچ سی کے واقعات میں اکثر بچی ہوئی ٹانگیں ملتی ہیں۔

کئی برسوں سے چلی آتی بد روحوں اور آسمانی گولوں کے برسنے جیسی فرضی باتوں کی نسبت یقیناً یہ زیادہ قابل فہم ہے۔ دراصل 1951 میں میری ریسر کے مرنے کی ایسی توجیہ کی گئی تھی اور ایف بی آئی نے اسی وضاحت کو زیادہ قابل ترجیع گردانا تھا۔ نامور ماہر بشریات ولٹن ایم کروگ مین کو اس کیس میں مدد کے لیے بلایا گیا جو آتش زدگی کی تحقیق کے بنیاد گزار ہیں۔ انہوں نے وک ایفیکٹ وضاحت سے اختلاف کیا اور ایک عشرے بعد پینسلوانیا یونیورسٹی کے لیے ایک مضمون میں لکھا، ’میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ انسانی جسم ایک بار آگ لگنے سے بالکل راکھ ہو جائے گا، جیسے پگھلتی ہوئی موم کے درمیان موم بتی کی بتّی جلتی ہے۔ یکم جولائی 1951 کی رات سینٹ پیٹرزبرگ فلوریڈا کیا ہوا؟ شاید ہم کبھی نہ جان سکیں اگرچہ یہ واقعہ آسیب کی طرح ابھی تک میرا پیچھا کر رہا ہے۔‘

جیسے میری ریسر کی ٹانگ والی تصویر ابھی تک ہم میں سے کئی افراد کا پیچھا کر رہی ہے۔ لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایس ایچ سی کا مشہور ترین واقعہ تقریباً 70 برس پرانا ہے، ہمیں 21ویں صدی میں بہتر معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اس کا سبب کیا تھا؟

صرف ایک فرق پڑا کہ اب اس کا ذکر ویسا سننے کو نہیں ملتا جیسے پہلے تھا۔ ڈاکٹر بونڈیسن اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبھی یہ مرکزی میڈیا کا مرغوب موضوع تھا، جس کی دلیل مذکورہ بالا فورٹیئن ٹائمز اور باقی رسائل کے پراسرار حوالے ہیں، اس لیے مسلسل تکرار کے باعث اپنی کشش کھو بیٹھا۔

وہ کہتے ہیں، 70 اور 80 کی دہائی میں بکثرت اور 90 کی دہائی میں کسی حد تک ایسی کہانیاں ملتی تھیں لیکن پھر بتدریج غائب ہوتی گئیں، اس لیے اگر ایسے واقعات ہوتے بھی ہیں تو وہ میڈیا کی توجہ کھینچنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کبھی یہ موضوع مستند طبی جریدے ’برٹش میڈیکل جرنل‘ میں زیر بحث لایا جاتا تھا لیکن اب یہ محض فورٹیئن ٹائمز میگزین تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔‘

شاید ایس ایچ سی کی سماجی وجوہات تھیں اس لیے معاشرتی رہن سہن بدلتے ہی یہ ہوا ہو گیا ہو۔ ممکن ہے انسانی ہاتھ کا بنا نہایت آتش گیر شب خوابی کا لباس کھلی آگ کے سامنے پہن کے بیٹھنا یا ہاتھ میں سگریٹ لیے بستر میں سو جانا اس کا سبب ہو۔ ممکن ہے پرانی طرز کے ناقابلِ اعتبار تین راڈ والے ہیٹر اس کی وجہ بنتے ہوں جن میں تحفظ کی کوئی جدید سرٹیفیکیشن نہیں ہوتی تھی۔

یا ممکن ہے یہ ان چیزوں میں سے ایک ہو جو ہمیشہ غیر واضح رہیں گی یا کائنات کے ان پراسرار رازوں میں سے ایک جس کا سراغ جدید سائنس نہیں لگا سکی۔ اگر ایسا ہی ہے تو میری ریسر کی آسیبی تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا حیران کن واقعات سے بھری پڑی ہے اور کون جانتا ہے ایس ایچ سی دوبارہ کس پر اور کب حملہ کر دے؟

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق