رفیع کی آواز کو سب سے عمدگی سے کس موسیقار نے برتا؟

آج برصغیر کے لافانی گلوکار محمد رفیع کی 41ویں برسی ہے۔ اس موقعے پر ہم یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ رفیع کی آواز کے سر سب سے بہترین طریقے سے کس موسیقار کی دھنوں میں کھلتے ہیں۔

(پبلک ڈومین)محمد رفیع 1980 کو آج ہی کے دن 55  برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے

محمد رفیع کو ہم سے بچھڑے آج ٹھیک 41 برس گزر  گئے مگر یہ سوال اب بھی اٹھتا ہے کہ ان  کی فرشتوں کے پروں جیسی ملائم اور مے ناب جیسی نشیلی آواز کو کس موسیقار نے سب سے عمدگی سے استعمال کیا؟

ہے تو جان جوکھم کا کام، آج ہم کوشش کریں گے کہ اس سوال کا جواب ڈھونڈ سکیں۔

اس مقصد کے لیے ہزاروں گیت کھنگالے، فہرستیں ٹٹولیں اور ایکسل کی سپریڈ شیٹ بنا کر تمام اہم موسیقاروں کے ساتھ رفیع کے کام کا بغور جائزہ لیا۔

اس سفر کے دوران ہم پر خود کئی انکشافات ہوئے اور کئی جالے ہٹے۔ بہرحال اس مشق کے نتائج آپ کے سامنے حاضر ہیں۔ یہ فہرست الٹی چلے گی، یعنی دس سے شروع ہو کر نمبر ون تک جائے گی۔ تو آئیے، اس سریلی سہانی ڈگر پر چلتے ہیں۔

دس: کلیان جی آنند جی

کلیان جی آنند جی کے آنند ایک انٹرویو میں رفیع کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے ہیں، اور اس جوڑی نے رفیع سے 188 گیت بھی گوائے۔ لیکن لگتا ہے کہ انہوں نے زیادہ عمدہ گیت کشور کمار کے لیے مخصوص رکھے، یہی وجہ ہے کہ ان گیتوں میں کوئی بھی ایسا نہیں جسے ہم کوئی بڑا گیت کہہ سکیں، البتہ ان میں کئی گیت آج بھی گنگنائے جاتے ہیں۔ بہر حال ہماری نظر میں رفیع کے گائے اور کلیان جی آنند جی کے ترتیب دیےٹاپ فائیو گیت یہ ہیں:

  1. یہ رات ہے پیاسی پیاسی
  2. پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا
  3. اکیلے ہیں چلے آو
  4. سکھ کے سب ساتھی
  5. ایک تھا گل اور ایک تھی بلبل

نو: روی

ہمارے خیال سے روی بڑے موسیقار نہیں ہیں، لیکن ان کی دھنوں میں ایک قسم کی سادگی اور فوری پن ہوتا تھا، جو اکثر اوقات لوگوں کے دلوں کو چھو جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک کے بعد ایک مقبول گیت دیے۔

ان گیتوں کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ رفیع کی آواز تھی، جو سیدھی سادی دھنوں میں بھی بجلیاں بھر دیتی تھی۔ روی نے  242 گیتوں کو رفیع کی آواز سے منور کیا۔

  1. چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
  2. سو بار جنم لیں گے
  3. چھو لینے دو نازک ہونٹوں کو
  4. یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے
  5. مجھے عشق ہے تجھی سے

آٹھ: لکشمی کانت پیارے لال

لکشمی پیارے کی پہلی فلم ’دوستی‘ میں جیسی اٹھان ہوئی تھی، خاص طور پر رفیع کے گیتوں میں، وہ بعد میں قائم نہ رہ سکی۔ لکشمی پیارے کی جوڑی بالی وڈ کی گیت مشین تھی جن کی کوشش ہوتی تھی کہ کوئی مہینہ ان کی فلم سے خالی نہ جائے۔ وہ مقدار کو معیار پر ترجیح دیتے رہے، لیکن خیر اتنے لمبے عرصے تک لگاتار کام کرتے چلے جانا بھی دل گردے کا کام ہے جس کا کریڈٹ بہرحال انہیں جاتا ہے۔ البتہ کبھی کبھی کہیں بجلی کا کوندا لپک جاتا تھا۔ اس جوڑی نے رفیع سے سب سے زیادہ یعنی 373 گیت گوائے۔

  1. چاہوں گا میں تجھے شام سویرے
  2. وہ جب یاد آئے بہت یاد آئے
  3. یہ ریشمی زلفیں
  4. ہوئی شام ان کا خیال آ گیا
  5. چھلکائیں جام

سات:چترگپت

اس فہرست میں چترگپت اس لحاظ سے آوٹ سائیڈر ہیں کہ دوسرے موسیقاروں کی طرح انہیں کبھی بھی مستقل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے ہنر  یا خلاقی میں کسی سے کم تھے۔  رفیع شروع سے آخر تک ان کے مستقل رفیقِ کار رہے اور چترگپت ہی کی بدولت رفیع کی آواز کے کچھ ایسے گوشے روشن ہوئے جہاں تک دوسرے موسیقار نہیں پہنچے تھے۔ دونوں نے 230 گیتوں میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا۔

  1. جاگ دلِ دیوانہ رت جاگی
  2. مجھے دردِ دل کا پتہ نہ تھا
  3. اتنی بڑی یہ دنیا
  4. چاند کتنی دور ہے
  5. چل اڑ جا رے پنچھی

چھ: شنکر جے کشن

شنکر جے کشن کو بجا طور پر ’ہٹ مشین‘ کہا جاتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بالی وڈ کے سنہرے دور میں سب سے زیادہ ہٹ گیت انہوں نے دیے۔ البتہ ہمارے خیال میں راج کپور کے ساتھ شراکت نے اس جوڑی کو نقصان پہنچایا کہ ہدایت کار کی مداخلت نے ان کی دھنوں کی کاٹ کند کر دیا۔ چنانچہ وہ گیت عوامی سطح پر مقبول تو ضرور ہوئے لیکن آج وقت کی چھلنی سے انہیں گزرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

بہر صورت، آر کے فلمز کے بینر سے ہٹ کر رفیع شنکر جے کشن کی اولین پسند تھے۔ ویسے تو اس جوڑی کی خاصیت بھاری آرکسٹرا اور گونجیلی دھنیں تھیں، لیکن جب وہ تھم کر، ذرا سوچ سوچ کر دھن ترتیب دیتے تھے تو چمکتار  ہو جاتا تھا۔ رفیع کے ساتھ اس جوڑی نے 346 گیتوں میں سنگت جوڑی۔

  1. احسان ترا ہو گا مجھ پر
  2. یاد نہ جائے بیتے دنوں کی
  3. ان کے خیال آئے تو
  4. ساتھی نہ کوئی منزل
  5. بہارو پھول برساؤ

پانچ: او پی نیر

اوپی نیر رفیع کے زبردست مداح تھے، اور 60 کی دہائی کے آخر میں ہونے والی گرماگرمی سے پہلے رفیع او پی کی ہر فلم کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے 194 گیتوں میں رفیع کی آواز استعمال کی۔ او پی ردم کے بادشاہ کہلاتے تھے اور انہوں نے پنجاب کے کھلے میدانوں کھلیانوں کے بےمحابا کھلنڈرے پن اور شاداب شوخیوں کو برصغیر کے گوشے گوشے تک پہنچا دیا۔

یہ کام وہ رفیع کے بغیر نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ 40 کی دہائی کے اواخر تک بالی وڈ میں ناک سے گانے والے گلوکاروں کا راج تھا۔ رفیع بھرے گلے سے گانے والے پہلے گلوکار تھے جو او پی نیر کی تھرکتی الھڑ دھنوں سے انصاف کر سکتے تھے۔  دوسری طرف او پی نیر نے جس تنوع اور کثرت سے رفیع کی آواز کے امکانات کھنگالے ہیں، اگر وہ ہمارے سامنے نہ ہوتے تو رفیع کا نام سن کر جو تصویر ذہن میں آتی ہے، اس کے رنگ ذرا پھیکے رہتے۔ اس دعوے کی دلیل کے طور پر ان دونوں کے پانچ گیت پیش ہیں:

  1. مجھے دیکھ کر آپ کا مسکرانا
  2. پکارتا چلا ہوں میں
  3. آنچل میں سجا لینا کلیاں
  4. دل کی آواز بھی سن
  5. آپ کے حسین رخ پہ

چار: مدن موہن

جہاں او پی نیر کی موسیقی کسی چنچل نالے کی طرح مچلتی، لچکتی، چھلکتی چلی جاتی ہے، وہیں مدن موہن کے سر کسی نیلگوں شانت جھیل کے مانند ہیں، گھمن گہری، اپنے اندر گمبھیر بھید چھپائے۔ او پی کی طرح مدن موہن کے پہلی پسند رفیع ہی تھے، اسی لیے انہوں نے رفیع سے  156گیت گوائے۔

ان دونوں کی سنگت میں بننے والے پانچ لازوال گیت:

  1. تیری آنکھوں کے سوا
  2. تو میرے سامنے ہے
  3. اک حسین شام کو
  4. میں نگاہیں تیرے چہرے سے
  5. تم سے کہوں اک بات

تین: روشن

روشن نے شروع میں مکیش کو ترجیح دی تھی، لیکن اس وقت تک وہ پسِ پردہ ہی رہے۔ لیکن ان کا دوسرا جنم 1960میں آنے والی فلم ’برسات کی رات‘ میں رفیع کے گیتوں سے ہوا جنہوں نے کسی منجنیق کی طرح روشن کو نچلے پائیدان سے چوٹی تک ایک ہی جست میں پہنچا دیا۔ جب روشن نے رفیع کو اپنا لیا تو پھر یہ ساتھ 1967 میں روشن کی 50 برس کی عمر میں ناگہانی موت تک 70 گیتوں میں دمکتا مہکتا رہا۔

نہ معلوم یہ ’برسات‘ کی رات اثر ہے یا کیا کہ روشن کی موسیقی کا تصور آتے ہی  ذہن میں سازوں کی رم جھم ہونے لگتی ہے۔ ان کی دھنوں میں بےپایاں مٹھاس اور سرگم میں الگ قسم کی چاشنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی دھن دور سے پہچانی جاتی ہے۔  رفیع کی آواز بھی مٹھاس اور کوملتا کے لیے اپنی مثال آپ ہے، اور دونوں ایک دوسرے سے یوں پُر ہیں بقول غالب ’جیسے راگ سے باجہ۔‘

  1. زندگی بھر نہیں بھولے گی
  2. من رے تو کاہے نہ دھیر دھرے
  3. آج کی رات بڑی شوخ
  4. کارواں گزر گیا
  5. میں نے شاید تمہیں پہلے بھی

دو: نوشاد

اکثر لوگوں کے سامنے جب یہ سوال رکھا جاتا ہے کہ رفیع کو سب سے عمدگی سے کس نے استعمال کیا  تو ان کا فوری جواب ہوتا ہے ’نوشاد۔‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوشاد نے رفیع صاحب کی آواز کو سنوارنے، نکھارنے میں اولین کردار ادا کیا۔ لیکن ہمارا ذاتی خیال ہے کہ 50 کی دہائی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے نوشاد صاحب کی تخلیقی چھاگل  خشک ہونے لگی تھی اور وہ 60 اور 70 کی دہائیوں میں ان بلندیوں کو چھونے میں ناکام رہے جن پر وہ 40 اور 50 کی دہائیوں میں براجمان رہے تھے۔ جب کہ اسی دوران رفیع کا ستارہ روشن سے روشن تر ہو کر 60 کے وسط تک  سورج بن کر سارے برصغیر پر سریلا نور بکھیرنے لگا تھا۔

لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ نوشاد کے بغیر رفیع رفیع نہ ہوتے، اور رفیع کی وضع داری کہ انہوں نے مرتے دم تک نوشاد کو اپنا گرو مانا۔ نوشاد کے 164 نغموں میں رفیع  نے سر بکھیرے۔

  1. سہانی رات ڈھل چکی
  2. او دنیا کے رکھوالے
  3. تو گنگا کی موج
  4. یہی ارمان لے کر آج
  5. کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیں

ایک: سچن دیو برمن

نوشاد رفیع کے گرو سہی، لیکن ہمیں شکایت ہے کہ نوشاد صاحب نے رفیع کو بہت اونچے سروں میں گوانے پر زیادہ زور دیا، اور اس میں شک نہیں کہ رفیع کی آواز اونچے سروں میں خوب رنگ جماتی ہے، لیکن رفیع  کی آواز کا لوچ اور کھنک  دھیمے سروں اور ٹھہری ہوئی دھنوں میں زیادہ جادو دکھاتا ہے۔ اس بات کو ایس ڈی برمن نے پوری طرح سے بھانپ لیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایس ڈی برمن کشور کمار کے اسی طرح سے گرو تھے جیسے نوشاد رفیع کے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ برمن دادا نہ ہوتے تو کشور بھی نہ ہوتے، لیکن اس کے باوجود ایس ڈی برمن نے اپنی بہترین دھنیں رفیع کے لیے مخصوص رکھیں۔ حتیٰ کہ برمن دادا کے جوانی کے وہ گیت جو یقیناً ان کے دل کے بہت قریب رہے ہوں گے، ان کی طرزوں پر بھی انہوں نے رفیع ہی سے گوایا ۔ اور حق تو یہی ہے کہ رفیع نہ بھی حق ادا کر دیا۔

ایس ڈی برمن کے نمبر ون ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ گلوکاروں کی خوبیوں اور محدودات سے پوری طرح آگاہ تھے، اس لیے وہ گلوکار کو ذہن میں رکھ کر اس کی آواز کی مناسبت سے دھن بناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رفیع کی آواز  کی خوبیوں کو جتنا ایس ڈی برمن نے سمجھا اور جتنی خلاقی سے اسے برتا، کوئی اور موسیقار اس کے قریب بھی نہیں پہنچتا۔

  1. محبوبہ تری تصویر کس طرح
  2. تیرے بن سونے نین ہمارے
  3. دن ڈھل جائے ہائے رات نہ جائے
  4. ہم بےخودی میں تم کو پکارے چلے گئے
  5. ساتھی نہ کوئی منزل

آنریبل مینشنز

ظاہر ہے کہ دس کی فہرست محدود ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے دس ایسے موسیقاروں کا ذکر کر دیا جائے جو ٹاپ ٹین میں تو نہیں آتے، لیکن رفیع کی آواز کو انہوں نے بھی خوب خوب برتا۔ ان میں سے کم از کم دو تو ایسے تھے جو خاصی دیر ٹاپ ٹین کے امیدوار بھی رہے۔ ہر موسیقار کے نام کے ساتھ ان کا ترتیب دیا گیا رفیع کا ایک نمائندہ گیت بھی پیش ہے:

  1. آر ڈی برمن: میں نے پوچھا چاند سے
  2. خیام: کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی
  3. سلل چودھری: ٹوٹے ہوئے خوابوں نے
  4. جے دیو: میں زندگی کا ساتھ
  5. سی رام چندر: ہم کو تمہارا ہی آسرا
  6. حسن لال بھگت رام: تو نے میرا یار نہ ملایا
  7. سردار ملک: مجھے تم سے محبت ہے مگر
  8. این دتا: میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی
  9. ہیمنت کمار: تیرا حسن رہے میرا عشق رہے
  10. اقبال قریشی: صبح نہ آئی شام نہ آئی

 

 

 

 

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹاپ 10