اگر سعودی عرب اردو کی ترویج اور اس کے ذریعے ابلاغ میں سرمایہ کاری کرتا ہے تو اسے صرف اردو بولنے والوں کے لیے ایک سہولت قرار دینا حقیقت کا ادھورا تجزیہ ہوگا۔ یہ دراصل مملکت کے طویل المدتی تزویراتی مفادات میں سرمایہ کاری بھی ہے۔
اردو سے متعلق یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان آج کل زیر بحث ہے جہاں انہوں نے اردو کو ’کٹھ ملّاؤں‘ کی زبان قرار دیا ہے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ کا اسمبلی میں کہنا تھا کہ اردو پڑھا کر یہ لوگ دوسروں کو مولوی بنانا چاہتے ہیں اور ہم ایسا کچھ نہیں چلنے دیں گے۔