حراستی مراکز سے متعلق خیبرپختونخوا کا متنازع قانون: حقیقت کیا ہے؟

حیران کن طور پر 2018 تک پشاور ہائی کورٹ اس حقیقت سے لاعلم رہی  کہ ایسا کوئی آرڈیننس وفاقی حکومت کی رضامندگی سے 2011 میں پاس ہوا ہے، جس کے تحت فوج کو سابقہ فاٹا اور پاٹا میں حراستی مراکز بنانے یا کسی ملزم کو حراست میں لینے کی اتھارٹی دی گئی ہے۔