ایک جانب جہاں دوسروں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی وہیں ریاض اور اسلام آباد نے اس پر قابو پانے کے لیے ناصرف کام کیا بلکہ یقینی بنایا کہ سفارت کاری فعال ہے۔
زاویہ
بن یامین نتن یاہو کے بارے میں آن لائن افواہوں کے باوجود شواہد بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف لڑائی میں ذاتی طور پر منظوری دی تھی۔