ایک طرف ایران کے سفیر سعودی عرب کا شکریہ ادا کر رہے ہیں، تو دوسری طرف سویلین اہداف پر حملے جاری ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای 2023 کے بیجنگ معاہدے کو بچا پائیں گے، یا تہران میں طاقت کا اصل مرکز فوج ہی رہے گی؟
نقطۂ نظر
افغانستان ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے سے انکاری کیوں ہے؟ تاریخ کے بند کمروں، پرانے معاہدوں اور ویانا کنونشن 1978 کی روشنی میں حقیقت کیا ہے؟ اور سب سے اہم سوال، سرحد کے پار رہنے والے کیا چاہتے ہیں؟