واشنگٹن کو شاید امید ہو کہ فضائی حملے اور بے پناہ طاقت تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوریتوں اور نظریاتی حکومتوں کے درمیان جنگیں شاذ و نادر ہی اتنی صفائی سے ختم ہوتی ہیں۔
نقطۂ نظر
پاکستان کا صبر جواب دے گیا اور آخر کار چار سال کی ناکام سفارت کاری کے بعد، اب ٹی ٹی پی کے بجائے براہِ راست افغان طالبان کے ٹھکانے اور گولہ بارود کے ڈپو نشانے پر ہیں۔