2026 کا پاکستان: کیا سماجی انڈیکس بہتر ہو گا؟

ایوانِ اقتدار میں بیٹھے لوگ 2026 میں بھی پاکستان کے لیے سیاسی، معاشی، سفارتی اور عسکری میدان میں کامیابیاں دیکھ رہے ہیں، لیکن کیا زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی عکاسی کرتے ہیں؟

لاہور میں 2 جنوری 2026 کو سرد موسم اور شدید دھند کے دوران ریلوے سٹیشن پر مسافر ٹرین کے انتظار میں کھڑے ہیں جبکہ مزدور سامان اٹھائے جا رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)

حکمراں ہر نئے سال کے موقعے پر عوام کو خوش امیدی کی لولی پاپ دیتے ہیں اور اس برس بھی نئے سال کی آمد پر ایسا ہی کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خوش امیدی کے بادل برسیں گے؟

ایوانِ اقتدار میں بیٹھے لوگ 2026 میں بھی پاکستان کے لیے سیاسی، معاشی، سفارتی اور عسکری میدان میں کامیابیاں دیکھ رہے ہیں، لیکن کیا زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی عکاسی کرتے ہیں؟

سیاسی میدان میں 2026 میں بھی کشیدگی نظر آ رہی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورۂ پنجاب کے دوران جو تلخیاں بڑھی ہیں، ان کی گونج اگلے برس بھی رہے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اپنایا جانے والا سخت رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت اور جی ایچ کیو عمران خان سے کوئی مصالحت نہیں چاہتے، جس کا یہ مطلب ہے کہ سیاسی محاذ پر گرما گرمی رہے گی، جس کی وجہ سے نہ صرف سیاست میں بے چینی کا عنصر غالب رہے گا بلکہ معیشت میں بھی بے یقینی رہے گی۔

بلوچستان میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کو سائیڈ لائن کر کے اسٹیبلشمنٹ نے غیر مقبول سیاسی رہنماؤں کو عوام پر مسلط کیا اور چونکہ اگلے برس بھی اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی، اس لیے وہاں سیاسی بیگانگی بدستور بڑھتی رہے گی۔

اس کے علاوہ 18ویں ترمیم کے خلاف مسلسل شوشے چھوڑے جا رہے ہیں اور صوبوں کے اختیارات پر قدغن سے اس بیگانگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

سندھ کے شہری علاقوں میں بھی چونکہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم پر پابندی ہے، اس لیے وہاں بھی سیاسی بیگانگی بڑھے گی۔ تاہم تحریک لبیک پاکستان پر پابندی سے ہجوم کے تشدد والی طرزِ سیاست کو تھوڑا بہت نقصان ہو سکتا ہے۔

سفارتی محاذ پر حکومت امریکی صدر ٹرمپ کی میٹھی زبان کا حوالہ دے سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میٹھی چھری کے استعمال کے ساتھ ساتھ واشنگٹن نئی دہلی سے بھی دفاعی معاہدے پر بات چیت کر رہا تھا، جس میں تعاون کا انڈین خواب شرمندۂ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔

پاکستان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات 2025 میں بدترین سطح پر پہنچ گئے، محدود جنگ لڑی گئی اور سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے، ویزے ختم کر دیے گئے، ایئر سپیس ایک دوسرے کے لیے بند ہو گئی۔ جے شنکر اور ایاز صادق کے ڈھاکہ میں مصافحے کا چرچا تو ہوا ہے، مگر بظاہر 2026 میں بدقسمتی سے صورتِ حال میں کچھ زیادہ بہتری کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔

مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کو ایک دشوار کن صورتِ حال کا سامنا ہے۔ یمن کے مسئلے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پھوٹ پڑ گئی ہے، جب کہ صومالی لینڈ کے مسئلے پر ایک طرف یو اے ای ہے تو دوسری طرف قطر، ترکی اور ایران۔ مشکل بات یہ ہے کہ یہ توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔

سفارتی سطح پر ہی امریکہ اور چین سے تعلقات میں توازن بھی ایک مشکل کام ہو گا۔ امریکی تعریفوں کے بعد اسلام آباد کے لیے یہ بہت مشکل ہو گا کہ وہ چین سے تعلقات میں عملی طور پر اسی طرح کی گرم جوشی دکھائے، جو اس نے سی پیک کے شروع ہونے پر دکھائی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن سب سے بڑا چیلنج اب بھی اندرونی عسکریت پسندی ہے۔ 2026 میں بھی ٹی ٹی پی اور بلوچ مزاحمت پسند تنظیمیں پاکستان کے لیے دردِ سر بنی رہیں گی۔ ٹی ٹی پی کے خلاف کسی فیصلہ کن کارروائی کے لیے افغان طالبان کی مدد اور عسکری ایکشن کے لیے پیسہ چاہیے اور دونوں ہی پوری طرح ممکن نہیں ہیں۔

2026 میں خیبرپختونخوا میں عوام کی فوجی آپریشنز کی وجہ سے بے دخلی ممکن ہے اور اگر اس بے دخلی کے بعد بھی عسکریت پسندی مکمل طور پر ختم نہیں کی گئی تو صوبے کے عوام پھٹ سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پہلے سے موجود غصے کے تناظر میں یہ عوامی ردِعمل سخت بھی ہو سکتا ہے۔

سماجی منظرنامے پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، اور ملک میں بدستور دو کروڑ سے زیادہ بچے سکول سے باہر رہیں گے۔ نو کروڑ سے زیادہ لوگ غربت میں پسیں گے۔ 80 فیصد سے زیادہ عوام صاف پانی کو ترسیں گے، کیونکہ موٹر وے، انڈر پاس اور پل بنانا آسان ہے، سوشل انڈیکس کو بہتر کرنا مشکل۔

حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ معاشی اشاریے 2025 میں بہتر رہے اور اس میں مزید بہتری آئے گی۔ عالمی مالیاتی اداروں کے حامی پنڈتوں کا بھی یہی کہنا ہے۔ مثال کے طور پر ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے لیے پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر منظور احمد نے اپنے ایک کالم میں معاشی بہتری کی نوید سنائی اور اس حوالے سے موڈی، فچ اور ایس اینڈ پی کا تذکرہ کیا، جنہوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت کا ریونیو اس کے غیر سودی اخراجات سے بڑھ گیا ہے۔

نجکاری پر شادیانے بجانے والے یہ نہیں بتاتے کہ ہم پہلے ہی ہر برس 40 لاکھ نوجوان بے روزگاری کے سیلاب میں پھینک رہے ہیں۔ ایسے میں سرکاری اداروں کو بیچ کر جب مزید لوگوں کو بے روزگار کیا جائے گا تو کیا اس سے کثیرالطرفہ غربت میں مزید اضافہ نہیں ہو گا؟

ملک کے مسائل سٹرکچرل ہیں، اس کے لیے اوپر سے لیپاپوتی سے کام نہیں چلنے والا۔ بہتری لانی ہے تو اندر سے لانی ہو گی، لیکن وہ طویل مدت، مشکل اور مہنگا کام ہے، جس کا اس سال میں کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر