24 سالہ شاہ زیب کے مطابق خیبر پختونخوا میں بار بار سی این جی بند ہونے کے باعث کئی مرتبہ انہیں رکشہ کھڑا کرنا پڑا، جس سے روزانہ کی آمدن متاثر ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکہ خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور مرنے والوں میں ٹریفک پولیس کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔