پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ، جنہیں جہاز اڑانے کی اجازت نہیں تھی

کہا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق کو کسی خاتون کا جہاز کے کاک پٹ میں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر جہاز اڑانے پر اعتراض تھا، اس لیے شکریہ خانم جہاز اڑانے سے محروم رہیں۔

شکریہ خانم نے 1959 میں کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا تھا (تصویربشکریہ ڈاکٹر شاہد مسعود)

14 مئی 2017 کو اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی کہ پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ شکریہ خانم ایک روز قبل سرطان کے مرض میں لاہور میں وفات پاگئی ہیں اور انہیں اسی شہر میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔
یہ شکریہ خانم کون تھیں؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں ذرا ماضی میں جانا پڑے گا۔

شکریہ خانم کا اصل نام شکریہ نیاز علی تھا اور وہ 1935 میں کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ گریجویشن کرنے کے بعد انہوں نے لاہور فلائنگ اکیڈیمی سے جہاز اڑانے کی تربیت حاصل کی ۔ یہ 12 جولائی 1959 کی بات ہے جب لیفٹیننٹ جنرل بختیار رانا نے والٹن (لاہور) کے ایئر پورٹ پر انہیں کمرشل پائلٹ کا لائسنس عطا کیا۔ مس شکریہ نیاز علی (جو بعد میں شکریہ خانم کے نام سے معروف ہوئیں) پاکستان میں ہوا بازی کا کمرشل لائسنس حاصل کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
اس دور میں پی آئی اے کے قوانین کے مطابق خواتین کو مسافر بردار جہاز اڑانے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے انہیں گراؤنڈ انسٹرکٹر کے طور پر پی آئی اے میں ملازمت دی گئی جہاں وہ تربیت حاصل کرنے والے پائلٹوں کو پڑھایا کرتی تھیں۔

اس کے علاوہ وہ کراچی فلائنگ کلب سے بھی منسلک رہیں جہاں وہ پرواز کے شوقین افراد کو شہر کی سیر کروایا کرتی تھیں۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں انہیں ہر قسم کے جہاز اڑانے سے منع کر کے گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ جنرل صاحب کو ان کے کاک پٹ میں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر جہاز اڑانے پر اعتراض تھا۔
پی آئی اے کی یہ پالیسیاں اگلی دو دہائیوں تک جاری رہیں، تاہم 1990 میں ملیحہ سمیع اور عائشہ رابعہ نوید نے پی آئی اے میں بطور پائلٹ شمولیت اختیار کی اور یوں پاکستان میں بھی خواتین پر ہوابازی کے دروازے باضابطہ طور پر کھل گئے۔ یہ شکریہ خانم کے لیے بھی بہت خوشی کا موقع تھا اور انہوں نے ملیحہ سمیع اور عائشہ رابعہ نوید کو ان کی اس کامیابی پر باقاعدہ مبارک باد پیش کی۔
شکریہ خانم معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی خالہ تھیں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کے مطابق شکریہ خانم کو اس بات کا بہت افسوس رہا کہ اپنے عروج کے دور میں انہیں ان کے شوق سے محروم کیا گیا جس کے لیے انہوں نے اتنی جدوجہد کی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بتایا کہ امارات ایئرلائنز نے شکریہ خانم کو دبئی آ کر امارات میں شمولیت کی دعوت دی تھی مگر انہوں نے اسے قبول نہیں کیا اور ساری عمر پاکستان میں ہی گزاری۔ شکریہ خانم نے مارشل آرٹ جوڈو کی بھی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔
شکریہ خانم کراچی میں واقع اپنے گھر میں تنہا رہتی تھیں۔ کچھ عرصہ قبل وہ اپنے گھر میں گر گئی تھیں جس کے بعد انہیں علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا تو دورانِ علاج انکشاف ہوا کہ انہیں جگر کا کینسر لاحق تھا جو اپنی آخری سٹیج تک پہنچ چکا تھا۔ اس پر انہیں کراچی سے لاہور لایا گیا جہاں اتفاق ہسپتال میں ان کے ٹیسٹ اور علاج جاری تھے، اسی دوران 13 مئی 2017 کو لاہور میں ان کا انتقال ہو گیا اور وہ لاہور ہی میں دفنا دی گئیں۔
شکریہ خانم پاکستان کی پہلی کمرشل پائلٹ ہی نہیں بلکہ پہلی فلائنگ انسٹرکٹر، پہلی گلائیڈر انسٹرکٹر اور پہلی فلائٹ کریو انسٹرکٹر بھی تھیں۔
1965 میں انہوں نے پاکستان کی قومی ایئر لائن میں بطور فلائٹ کریو انسٹرکٹر شمولیت اختیار کی اور جہاز اڑانے والے پائلٹ سے گراﺅنڈ انجینیئر تک سبھی کو ٹریننگ دی۔ ان کے تربیت یافتہ ہوابازوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ نیپال، بنگلہ دیش، بحرین، کویت، سعودی عرب، ایران، عراق، یمن، انگلینڈ، فرانس، امریکا، چین، اردن، صومالیہ، سوڈان اور متحدہ عرب امارات کے پائلٹ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


شکریہ خانم کے انتقال پر چند اخبارات اور ایک آدھ ویب سائٹ نے ان کی یاد میں مضامین شائع کیے۔ ان تحریروں میں سب سے پر اثر تحریر معروف کالم نگار زاہدہ حنا کی تھی۔
زاہدہ حنا نے لکھا کہ ”یہ 1959 کی جولائی کا ایک گرم دن تھا۔ گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں۔ اخبار کھولا تو ایک روشن چہرہ نگاہوں کے سامنے آ گیا۔ فراخ پیشانی، آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم۔ یہ شکریہ نیاز علی تھیں جو بعد میں شکریہ خانم کہلائیں۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔ خوشی کی لہر میرے سارے بدن میں پھیل گئی۔آنکھوں کو یقین نہیں آ رہا تھا اور ذہن میں یہ بات راسخ ہو رہی تھی کہ لڑکیاں سب کچھ کر سکتی ہیں، آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتی ہیں۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے یہ کارنامہ خود میں نے انجام دیا ہے۔ سکول کھلے ہوئے ہوتے تو ہم سب اس خوشی کا کیسا جشن مناتے۔ دوچار دن میں یہ بات آئی گئی ہو گئی۔
’اب خبر آئی ہے کہ شکریہ خانم نے زندگی کا سفر طے کیا اور لاہور کی خاک میں آسودہ ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم نے حسب دستور اپنے ایک جوہر قابل کے ساتھ کیسے ستم روا رکھے۔ انہوں نے ایک کمرشل پائلٹ کا لائسنس لیا تھا لیکن انہیں اس کی آرزو ہی رہی کہ وہ پی آئی اے کا کوئی مسافر بردار طیارہ اڑا سکیں۔‘
زاہدہ حنا نے مزید لکھا کہ ”شکریہ خانم نے فضاﺅں میں اڑنے کی تربیت لی تھی لیکن پاکستان کی فضائیں ان پر حرام رہیں۔ وہ پی آئی اے سے وابستہ ضرور رہیں لیکن ان کے نصیب میں ہمیشہ گراﺅنڈ انسٹرکٹر رہنا ہی آیا۔ انہوں نے پاکستان اور دوسرے کئی ملکوں کے ہوا بازوں کو طیارہ اڑانے کی تربیت دی لیکن انہیں اس کا اہل نہ سمجھا گیا کہ وہ کسی طیارہ بردار جہاز کی سیٹ پر ہوں اور طیارہ ان کے اشارے پر بادلوں کو چیرتا ہوا آسمانوں کو چھولے۔
 اڑنے کا ارمان پورا کرنے کے لیے وہ کراچی فلائنگ کلب میں لوگوں کو تفریحی اڑان کے لیے لے جاتی رہیں لیکن ان کی یہ چھوٹی سی خوشی بھی پاکستان کے ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے چھین لی۔ شکریہ خانم پر پابندی لگادی گئی کہ وہ کاک پٹ میں کسی مرد کو ساتھ بٹھا کر طیارہ نہیں اڑا سکتیں۔ شکریہ خانم کا دل اس پابندی سے خون ہو گیا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ پی آئی اے کے ٹریننگ سینٹر میں مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں، نوجوانوں کو اڑنے کی تربیت دیتی ہیں تو پھر کاک پٹ میں کوئی مرد ان کے ساتھ کیوں پرواز نہیں کر سکتا۔
ہماری شکریہ خانم نے 1959 میں طیارہ اڑانے کا کمرشل لائسنس حاصل کیا تھا لیکن ایک کمرشل طیارہ اڑانے کے ارمان ان کے دل میں ہی رہے۔ یہی وہ پابندیاں تھیں جن کی وجہ سے خواہش رکھنے کے باوجود بہت دنوں تک پاکستانی لڑکیوں نے اسے بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑ دیا۔

’شکریہ خانم نے جو خواب 50 کی دہائی میں دیکھا تھا اس کی تعبیر اب دوسری پاکستانی لڑکیوں کو مل رہی ہے جو پی آئی اے کے مسافر بردار طیارے اڑا رہی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین