کیا بالی وڈ کے خان ساؤتھ انڈین فلموں کا مقابلہ کر سکیں گے؟

’کے جی ایف 2‘ کے مقابلے پر ’لال سنگھ چڈھا‘ کی ریلیز ملتوی ہونے نے یہ بحث عروج پر پہنچا دی ہے کہ ہندی فلمیں کب تک کنی کترا کر ساؤتھ کا مقابلہ کریں گی؟

عامر خان نے خود شکر ادا کیا کہ ان کی فلم کو کے ایف جی 2 کا سامنا نہیں کرنا پڑا (ہومبالے فلمز/عامر خان پروڈکشن)

گذشتہ برس ’پُشپا‘ اور اب 2022 میں ’کے جی ایف 2‘ اور ’آر آر آر‘ کی باکس آفس پر غیر معمولی کامیابی نے ہندی سینیما کے جغادریوں کا اعتماد ہلا کر رکھ دیا ہے۔

یہاں تک کہ ’مسٹر پرفیکٹ‘ عامر خان بھی اس بات پر شکر کرتے نظر آئے کہ ان کی فلم ’لال سنگھ چڈھا‘ ساؤتھ کی فلم ’کے جی ایف 2‘ کے ساتھ ریلیز نہیں ہوئی ورنہ ہاتھی کے پاؤں تلے آ کر کچلی جاتی۔

14 اپریل کو رواں برس کا سب سے بڑا تصادم متوقع تھا کہ اچانک ’لال سنگھ چڈھا‘ کی ریلیز ملتوی ہو گئی۔ ہندی سینیما کے شائقین اور مسٹر پرفیکٹ کے پرستار پورے انڈیا بالخصوص ہندی بیلٹ میں ’کے جی ایف 2‘ کو بچھاڑ گرانے کے لیے پرجوش تھے۔ اس خبر نے جہاں ان کے ارمان ٹھنڈے کر دیے وہیں یہ بحث بھی عروج پر پہنچ گئی کہ ہندی فلمیں کب تک کنی کترا کر ساؤتھ کا مقابلہ کریں گی۔ 

گذشتہ ہفتے عامر خان نے حیدرآباد میں میڈیا سے بات چیت کے دوران اپنی فلم کے التوا کو ’خوش قسمتی‘ سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا ’مجھے یاد ہے جب ’کے جی ایف 2‘ ریلیز ہونے والی تھی اس وقت میرے اپنے دوست اور ہندی سینیما کے شائقین بہت پرجوش تھے کہ لال سنگھ چڈھا بھی اسی دن لگنے والی ہے۔ لیکن ہماری خوش قسمتی کہ ریڈ چلیز ابھی ویژول ایفیکٹس پر کام کر رہی تھی سو ہم بچ گئے۔ بصورت دیگر ہمیں کے جی ایف 2 کے ساتھ دو بدو مقابلے کا سامنا تھا۔‘ 

کے جی ایف 2 باکس آفس پر 13 سو کروڑ سے زائد کا بزنس کر چکی ہے اور تاحال رواں برس کی کامیاب ترین انڈین فلم ہے۔ ساؤتھ میں اس کی مقبولیت جو ہے سو ہے لیکن ہندی سرکٹ میں اس کی طوفانی کامیابی عین ممکن ہے لال سنگھ چڈھا کو اپنے ریلے میں بہا لے جاتی۔ Ormax Power Rating کے مطابق یہ انڈیا کی پہلی فلم ہے جسے تمام پانچ زبانوں (کنڑ، تیلگو، ملیالم، تمل اور ہندی) میں 90 سے اوپر کی ریٹنگ ملی۔ ایسے میں ’لال سنگھ چڈھا‘ کا اس سے تصادم مسٹر پرفیکٹ کے لیے بھیانک خواب ثابت ہو سکتا تھا۔ 

ایک طرف ساؤتھ میں بننے والے فلموں کی باکس آفس پر دھوم ہے تو دوسری طرف بھاری بجٹ سے تیار ہونے والی ہندی فلمیں بری طرح منہ کے بل گر رہی ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثالیں ’شمشیرا‘ اور ’سمراٹ پرتھوی راج‘ ہیں جو انتہائی مہنگے بجٹ میں تیار ہوئی تھیں۔

گذشتہ ماہ 22 جولائی کو ریلیز ہونی والی یش راج بینر کی فلم ’شمشیرا‘ کی تشہیر کے دوران مسلسل یہ ڈھول پیٹا گیا کہ یہ ’مہنگی ترین ہندی فلموں میں سے ایک‘ ہے جس میں بھرپور ایکشن دیکھنے کو ملے گا۔ 150 کروڑ کے بجٹ سے تیار ہونے والی محض 61 کروڑ کما سکی۔ رنبیر کپور کی بہترین ادکاری کے باوجود فلم میں ایسا سنسنی خیز ایکشن نہ تھا جو ناظرین کو سینیما کا رخ کرنے پر مجبور کرتا۔ 

’سمراٹ پرتھوی راج‘ بھی یش راج فلمز کی پروڈکشن تھی جس پر 150 کروڑ برباد کیا گیا۔ اکشے کمار اور سنجے دت جیسے بڑے سٹارز کی موجودگی کیا کرتی جب سکرین پلے انتہائی ناقص اور کہانی بےجان تھی۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق ’اگر بالی وڈ کی قسمت کا فیصلہ سمراٹ پرتھوی راج پر ہے تو مستقبل تاریک ہی سمجھیے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بالی وڈ اپنے مستقبل پر چھائے سیاہ بادلوں کی وجہ سے زیر بحث ہے۔ مشہور فلم ساز اور ہدایت کار کرن جوہر ایسے کسی بھی مفروضے کو ’واہیات اور بے سر و پا‘ ٹھہراتے ہیں۔ ان کے بقول ’اچھی فلمیں ہمیشہ چلیں گی۔ ’گنگوبائی کاٹھیاواڑی‘ اور ’بھول بھلیاں 2‘ نے اچھی خاصی کمائی کی ہے۔ جگ جگ جیو بھی ٹھیک رہی ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی وہ ’لال سنگھ چڈھا،‘ ’رکھشا بندھن‘ اور سلمان خان کی فلموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا ابھی سینیما کی زینت بننا باقی ہیں، لیکن ان کے نزدیک اچھی فلموں کے لیے ’تخلیقی مواد‘ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ 

بالی وڈ ٹیکنالوجی کے استعمال، سپیشل ایفیکٹس اور سپر ہیروز کی تخلیق میں ابھی تک خود کو ساؤتھ کے برابر نہیں لا سکا۔ اگر ’شمشیرا‘ اور ’سمراٹ پرتھوی راج‘ باکس آفس پر ہٹ ہو جاتیں تو یقیناً بالی وڈ میں بڑے بجٹ کی ایکشن فلموں کا طوفان امڈ آتا۔ اس فارمولے کو اندھا دھن پیٹنے والوں میں شاید کرن جوہر سب سے آگے ہوتے جو اب بہترین ’تخلیقی مواد‘ کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ بہترین تخلیقی مواد کسی بھی فن کی جان ہے مگر بالی وڈ کے سیٹھ یہ بات سمجھ ہی نہ لیں۔

ہندی سینیما کو ماضی میں کبھی بھی ایسے سخت چیلنجز درپیش نہ تھے جیسے اب ہیں۔ شائقین کے لیے دنیا جہان کی فلمیں ایک کلک پر میسر ہیں۔ نوجوان نسل فوراً موزانہ کرتی ہے۔ اگر آپ کے پاس سپیشل ایفیکٹس ہیں نہ بہترین کہانی تو کوئی کس وجہ سے آپ کی فلم دیکھنے آئے گا؟ لیکن تخلیقی مواد کے مشکل راستے کے بجائے بالی وڈ عامر سلمان اور شاہ رخ کی آنے والی فلموں کا منتظر ہے۔ 

لال سنگھ چڈھا 11 اگست کو ریلیز ہونے جا رہی ہے جو نہ صرف بالی وڈ بلکہ عامر کے سٹارڈم کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ مسٹر پرفیکٹ کی آخری فلم ’ٹھگز آف ہندوستان‘ باکس آفس پر شاندار آغاز کے باوجود بری طرح لڑکھڑا گئی تھی۔ چار سال کے بعد ’لال سنگھ چڈھا‘ اگر چمتکار نہ دکھا سکی تو ان کے کیرئیر کو شدید دھچکا لگے گا۔ 

شاہ رخ کی آخری بڑی فلم ’زیرو‘ (2018) تھی جس نے اپنے نام کی لاج رکھی اور باکس آفس پر زیرو ثابت ہوئی۔ 200 کروڑ کے بجٹ میں تیار ہونے والی یہ فلم کنگ خان کا مہنگا ترین پراجیکٹ تھا۔ ان کی اگلے برس ریلیز ہونے والی فلمیں ’پٹھان،‘ ’جوان‘ اور ’ڈنکی‘ توقعات کا بےپناہ بوجھ لیے ہوئے ہیں۔ 

’ایک تھا ٹائیگر‘ اور ’ٹائیگر زندہ ہے‘ کے بعد سلمان خان ٹائیگر تھری اور کبھی عید کبھی دیوالی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس سے پہلے ان کی آخری بڑی فلم گذشتہ برس ’رادھے‘ تھی۔ اس فلم کی کے پروڈیوسر بھی وہ خود تھے اور شاید دیکھی بھی صرف انہوں نے تھی۔ 110 کروڑ کے بجٹ سے بننے والے یہ فلم محض 18 کروڑ کما سکی تھی۔

بالی وڈ ساؤتھ کی فلموں کے سامنے بظاہر گھنٹے ٹیک چکا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ تین خانز کا ابھی اپنا اپنا داؤ کھیلنا باقی ہے۔ پچھلی تین دہائیوں میں عامر، سلمان اور شاہ رخ بالی وڈ کے بہترین کھلاڑی ثابت ہوئے جن کی توپیں ابھی تک خاموش ہیں۔

ہندی سینیما کے شائقین ساری توقعات انہی سے باندھے بیٹھے ہیں لیکن اگر یہی توپیں بیک فائر کر گئیں؟ 

زیادہ پڑھی جانے والی فلم