اے آر رحمان، جنہوں نے فلمی قوالی میں دوبارہ جان ڈال دی

بالی وڈ میں قوالی کے نئے کلچر کا فروغ ہے، لیکن اگر اس کی پشت پر رحمان کا کی بورڈ نہ ہوتا تو شاید ہم اتنی خوبصورت دنیا سے محروم رہتے۔

اے آر رحمان نے خالص رومانوی گیتوں میں قوالی کا آہنگ استعمال کیا ہے (مکتا آرٹس)

ہندوستانی فلمی سنگیت میں قوالی کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود ہندوستانی فلم۔ لیکن قوالی کی یہ توانا روایت 60 کی دہائی میں عروج پہ پہنچنے کے بعد اگلے دو اڑھائی عشرے میں زوال کا شکار ہو گئی۔

اس دوران یہ فلم کا حصہ اگر بنی تو سارا زور کرتب بازی اور روایت کی جگالی پہ رہا۔ اس کے بعد 90 کی دہائی میں نصرت فتح علی خان کی بالی وڈ میں پذیرائی سے قوالی کو نئی زندگی ملی۔

ایک طرف انو ملک اور وجو شاہ جیسے جغادریوں نے خان صاحب کی دھنیں چراتے ہوئے پست جمالیاتی ذوق کی ترویج کی، لیکن دوسری طرف اے آر رحمان نے انسپیریشن لے کر برتر سطح کا تخلیقی تجربہ کیا۔ ایک انٹرویو میں رحمان بتاتے ہیں کہ جن دنوں میں روجا کی موسیقی ترتیب دے رہا تھا تب نصرت فتح علی خان کو سنا اور سوچا، ’میں اس طرح کا میوزک کیوں نہیں ترتیب دے سکتا یا ان کی طرح کیوں نہیں گا سکتا؟‘

فلمی میوزک کی وسیع دنیا میں شاید ہی کوئی کوچہ اے آر رحمان کی خواب ناک دھنوں سے محروم رہا ہو۔ وہ جہاں سے گزرے ایسا اجلا نقش چھوڑا کہ آئندہ کئی عشروں کا گرد و غبار بھی اسے دھندلا نہ سکے گا۔ رحمان نے قوالی کو تکنیکی اور موضوعاتی ہر دو اعتبار سے تبدیل کیا۔

’ہمیں تو لوٹ لیا مل کے حسن والوں نے‘ سے لے کر ’نہ تو کارواں کی تلاش ہے‘ اور ’تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں گے‘ سمیت بیشتر فلمی قوالیاں تصوفانہ کے بجائے عاشقانہ رنگ میں رنگی ہوتی تھیں۔ جس طرح بھجن فلم میوزک کا حصہ چلا آ رہا تھا، ویسے ہی مسلم سماجی پس منظر کے ساتھ دربار اور قوالی کو باقاعدہ منسوب کرکے دیکھنا اے آر رحمان سے پہلے بالی وڈ میں باقاعدہ رجحان کی صورت کبھی نہ تھا۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ رحمان نے قوالی کا دائرہ محدود کر دیا ۔ بمبئے ڈریمز میں شامل ویڈنگ قوالی اور کہنا ہی کیا (بمبئی 1995) سمیت کئی مثالیں موجود ہیں جہاں خالص رومانوی گیت میں رحمان نے قوالی کا آہنگ استعمال کیا ہو۔

شنکر احسان لوئے کا ’کجرا رے‘ ہو، متھون کا ’آنکھیں تیری کتنی حسین‘ ہو یا جوبن نوٹیال کا ’دل غلطی کر بیٹھا‘ ہو، ہر جگہ اے آر رحمان کے اثرات واضح محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بالی وڈ میں قوالی کے نئے کلچر کا فروغ ہے جسے ٹیکنو قوالی یا کلب قوالی سے ملا کر دیکھیں تو اچھا خاصا وسیع سلسلہ بنتا ہے۔ اگر اس کی پشت پر رحمان کا کی بورڈ نہ ہوتا تو شاید ہم اتنی خوبصورت دنیا سے محروم رہتے۔

فلمی میوزک میں انقلاب برپا کرنے والے اے آر رحمان قولی کی نئی جمالیاتی تشکیل میں بھی اس مقام پر ہیں جہاں دیگر معاصر موسیقار ان کے سامنے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ رحمان نے قوالی جیسی مقامی صنف میں جدید مغربی آلات موسیقی کا استعمال اس نزاکت سے کیا کہ جمالیاتی احساس ذرا بھی مجروح نہیں ہوتا۔ کلام عارفانہ ہو، عاشقانہ ہو یا دونوں کی آمیزش بہرحال ایسے گیتوں کی خاص بات رحمان کا میوزک ہوتا ہے۔ آئیے رحمان کی پانچ ایسی فلمی قوالیاں سنتے ہیں جو ہر اعتبار سے ان کی نمائندگی کرتی ہوں۔

عشق بنا کیا جینا یارا (تال، 1999)

1999 میں آنے والی یہ فلم اے آر رحمان کے بہترین گیتوں سے سجی ہوئی ہے، جنہوں نے اس فلم کی کمرشل کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔  

سجاتا موہن، سونو نگھم اور انورادھا سری رام کی آوازوں کے پس منظر میں ہارمونیم نے عجب جادو جگایا ہے، جب کہ بانسری اور طبلے جیسے روایتی ساز بھی رسیلی کمپوزیشن میں رچ کر نیا لطف دیتے ہیں۔

’عشق بنا‘ کے بول فلمی گیتوں کے پرانے کھلاڑی آنند بخشی نے لکھے ہیں۔ فلمی دنیا میں 41 سال گزارنے کے بعد بھی کم از کم اس قوالی میں ان کے قلم کی کاٹ برقرار ہے۔

پیا حاجی علی (فزا، 2000)

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مصروفیت کے سبب رحمان نے ’فزا‘ کا میوزک دینے سے معذرت کرلی تھی لیکن پیا حاجی علی کی موسیقی کے لیے انہوں نے خواہش کا اظہار کیا۔

یہ قوالی پندرہویں صدی کے ایک صوفی بزرگ سید حاجی علی شاہ کی خدمت میں نذرانہ عقیدت اور اپنی ضروریات کا اظہار ہے۔ سید حاجی علی شاہ نے بمبئی کے ورلی سمندر کے کنارے درگاہ تعمیر کروائی تھی، جو مرجع خلائق ہے۔ زائرین میں ہر مذہب کے لوگ شامل ہوتے ہیں اس لیے یہ مقامی سطح پر سماجی یک جہتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

بعد میں رحمان نے اپنے ایک انٹرویو میں اسے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب میں لوگوں سے سنتا ہوں کہ ’اس قوالی نے انہیں بکھرنے سے بچایا‘ تو مجھے اپنا آپ اچھا لگنے لگتا ہے۔

نور علی نور (میناکشی: اے ٹیل آف تھری سٹیز، 2004)

یہ اے آر رحمان کی ابتدائی اور شاید عمدہ ترین قوالی ہے جس میں تین خطوں کی ثفاقت جھلملاتی ہے: اٹالین موسیقی کے من موہ لینے والے تار پیسز، حیدرآباد کی قوالی کا روایتی دیہی انداز اور عربوں کی تال کا شکوہ۔

اس فلم کے ہدایت کار مشہور مصور ایف ایم حسین تھے۔ مشہور ہے کہ جب ان کی موجودگی میں رحمان نے گیت کار کو دھن سنائی تو اس نے ’عشق عشق‘ کی گردان شروع کر دی۔ ایف ایم حسین نے کہا، ’اتنے تازہ اور خوبصورت میوزک کے اندر یہ روایتی قسم کا بھوسہ بھرکے برباد مت کرو۔‘ بعد میں حسین نے خود بول لکھے اور دکھایا کہ وہ برش ہی نہیں قلم کے بھی جادوگر ہیں۔

مرتضیٰ خان اور قادر خان کی خوبصورت آواز سے مزین یہ قوالی صوفیانہ سے زیادہ نسائی رنگ لیے ہوئے ہے۔

خواجہ میرے خواجہ (جودھا اکبر، 2008)

 خواجہ معین الدین چشتی سے عقیدت کے سبب اے آر رحمان مسلسل کئی برس سے اجمیر شریف حاضری دے رہے تھے۔ خواجہ صاحب وہ پہلے بزرگ تھے جنہوں نے ہندوستان میں سماع کا چلن عام کیا۔ اب اس سے بڑھ کر خراج عقیدت کیسے پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان کے لیے دھن ترتیب دی جائے۔ رحمان نے ایسا ہی کیا اور جس وقت جودھا اکبر میں قوالی کی ضرورت پڑی تب استعمال کرلی۔

 گٹار، ہارمونیم، طبلہ اور تالی کے تال میل سے رچی اس کمپوزیشن میں رحمان کی لجاجت بھری آواز سماں باندھ دیتی ہے۔

کن فیکون (راک سٹار،2011)

راک سٹار اے آر رحمان کی بہترین ہندی فلموں میں سے ایک ہے، جس کا تنوع، گہرائی اور اثر انگیزی اسے اکیسویں صدی کی اہم ترین میوزیکل بالی وڈ فلم بناتی ہے۔

 گھر سے نکال دیے جانے کے بعد جورڈن (فلم کا مرکزی کردار) خواجہ نظام الدین اولیا کی درگاہ کا رخ کرتا ہے۔ دوران قیام قوالی کی باریکیاں سیکھنے کے بعد وہ اپنے روحانی جذبات کا اظہار ’کن فیکون‘ سے کرتا ہے۔ ارشاد کامل کے خوبصورت بول، رنبیر کی عمدہ اداکاری اور سب سے بڑھ کر اے آر رحمان کا سیدھا سادہ دل موہ لینے والا سنگیت اسے فلمی قوالی کا شاہکار بناتا ہے۔ گٹار اور شہنائی کی جگل بندی رحمان کی فیوزن صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس قوالی میں رحمان، جاوید علی، موہت چوہان اور نظامی برداران کی آوازیں شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی