دل تو بچہ ہے جی: کیا آپ نے گلزار اور وشال کے یہ گیت سنے ہیں؟

اگرچہ بیک وقت ایک سے زائد کشتیوں میں سوار ہونے کی وجہ سے وشال بھردواج بطور موسیقار صف اول میں تو نہ آ سکے لیکن گلزار کے ساتھ انہوں نے کچھ ایسے گیت ضرور دیے جو کئی دہائیوں تک سماعتوں میں رس گھولتے رہیں گے۔

2010 میں ریلیز ہونے والی فلم ’عشقیہ‘ کے گانے ’دل تو بچہ ہے جی‘ کا ایک منظر (سکرین گریب)

آپریشن بلیو سٹار کے پس منظر میں بننے والی گلزار کی فلم ’ماچس‘ (1996) کو 25 برس گزر چکے ہیں لیکن اپنے موضوع کی حساسیت، غیر روایتی پیشکش اور تبو کی عمدہ اداکاری کی وجہ سے یہ فلم آج بھی بنیاد پرستی پر بالی وڈ کی چوٹی کی فلموں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ ایسے دقیانوسی موضوع کو تازگی اور احساس کی زیریں لہر بخشنے میں ایک اور چیز کا کردار بہت نمایاں تھا اور وہ ہے فلم کا میوزک۔

’ہنسی تیری سن سن کر فصل پکا کرتی تھی،‘ جیسی تازہ امیجری تو پہلے سے گلزار کا ٹریڈ مارک چلا آ رہا تھا لیکن ڈفلی، رباب، مٹکا اور سارنگی جیسے مقامی سازوں سے پھوٹتی انتہائی مدھر موسیقی کے خالق وشال بھردواج اس وقت ایک بالکل نیا نام تھے۔ 2002 میں ’مکڑی‘ سے بطور ہدایت کار نئی اننگز شروع کرنے والے اور بعد میں ’مقبول،‘ ’اومکارا‘ اور ’حیدر‘ سے اس فن میں اپنا لوہا منوانے والے وشال کی ابتدائی پہچان ’ماچس‘ کی موسیقی سے بنی۔ وشال کے بقول آج بھی ان کی پہلی محبت موسیقی ہے۔ اگرچہ بیک وقت ایک سے زائد کشتیوں میں سوار ہونے کی وجہ سے وشال بطور موسیقار صف اول میں تو نہ آ سکے لیکن گلزار کے ساتھ انہوں نے کچھ ایسے گیت ضرور دیے جو کئی دہائیوں تک سماعتوں میں رس گھولتے رہیں گے۔ آئیے اس جوڑی کے دس بہترین گیتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

10 ۔ یارم

’ایک تھی ڈائن‘ (2013) کا یہ گیت محبت میں دل ہارنے کے بعد کسی نوجوان میں انگڑائی لیتی معصوم خواہشوں کا بیان ہے۔ لڑکی گٹار پکڑے محبوب کو یقین دلاتی ہے کہ اگر تم مجھے اپنا بنا لو تو میں تمہارا پورا خیال رکھوں گی۔ یہ جدید دور کی محبت ہے اس لیے وہ سورج سے پہلے جگانے، اخبار کی سرخیاں پڑھ کر سنانے، گرم چائے پیش کرنے اور فائلیں، گاڑی کی چابیاں اور لیب ٹاپ پیچھے پیچھے اٹھا کر پھرنے کی بات کرتی ہے۔

جواب میں لڑکا زلف میں پھنسی بالیاں چھڑانے کی بات کرتا ہے لیکن بھئی گلزار کا یہی کمال ہے کہ روزمرہ چیزوں کی فہرست نہیں گنوائی بلکہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو احساس میں سمو کر سامعین کی دھڑکن کا حصہ بنا دیا ہے۔

ایک پارٹی سونگ ہونے کے باوجود موسیقی مدھم لیکن جذبے سے بھرپور ہے۔

9۔ بسمل

’حیدر‘ (2014) عمدہ فلم تھی اور اسے پذیرائی بھی خوب ملی لیکن یہ دونوں باتیں اس کی موسیقی کے بارے میں کہنا مشکل ہے۔ البتہ اپنی پیچیدہ سچویشن اور منفرد انداز کی وجہ سے بسمل کا ذکر ہونا ضروری ہے۔ ماں اور چچا سامنے بیٹھے ہیں اور حیدر کو ان کے سامنے پرفارم کرنا ہے۔ اس کے لیے بلبل _ بسمل اور گل کا استعارہ پورے گیت میں چلتے ہوئے کہانی بیان کرتا ہے۔ اتنی پیچیدہ صورت حال فلم میں شامل کرنا اور اس عمدگی سے نبھانا، یہ حوصلہ  گلزار اور وشال ہی کر سکتے تھے۔ وشال کو اس فلم کی موسیقی پر نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملا۔

8۔  پہلی بار محبت کی ہے

’آجا آجا دل نچوڑیں، رات کی مٹکی توڑیں، کوئی گڈ لَک نکالیں، آج گلک کو پھوڑیں۔‘ جی ہاں ’کمینے‘ (2009) کا یہ گیت سپر ہٹ تھا لیکن اسی فلم میں شامل ایک مدہم، معصوم، ہلکے رنگوں والا گیت ہمیں کچھ زیادہ پسند آیا۔ جی ہاں، ’پہلی بار محبت کی ہے۔‘ وشال اور گلزار کے الفاظ اور دھن کے ساتھ موہت چوہان کی میٹھی آواز پوری فضا جادوئی کر دیتی ہے۔ ایک انتہائی مدھر گیت۔

7۔ کش لگا

جلتی ہیں تنہائیاں

تاپی ہیں رات رات جاگ جاگ کے

اڑتی ہیں چنگاریاں

گچھے ہیں لال لال گیلی آگ کے

اوووووو

کھلتی ہیں جیسے جلتے

جگنو ہوں بیریوں میں

آنکھیں لگی ہوں جیسے

اپلوں کی ڈھیریوں میں

اسی گیت کے الفاظ ادھار لیے جائیں تو بات بس اتنی سی تھی کہ ’یہ جہان فانی ہے، بلبلہ ہے پانی ہے، بلبلوں پہ رکنا کیا، پانیوں پہ بہتا جا بہتا جا،‘ لیکن گلزار کی اچھوتی تشبیہات اور وشال کی سرمست دھن نے اسے شاہکار بنا دیا۔ بہت مختلف گیت ہونے کے باوجود اس کی فضا کسی کے لیے بھی اجنبی نہ ہو گی۔

 کش لگاتے ہوئے حسرتوں کی راکھ اڑانے کا فلسفہ پیش کرتا ہوا یہ گیت نوسموکنگ (2007) میں شامل تھا۔

6۔ چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

جہاں تیرے پیروں کے کنول گرا کرتے تھے

ہنسے تو دو گالوں میں بھنور پڑا کرتے تھے

تیری کمر کے بل پہ ندی مڑا کرتی تھی

ہنسی تیری سن سن کے فصل پکا کرتی تھی

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

سن لیجئے تو گیت، صفحے پر اتارئیے تو انتہائی خوبصورت نظم۔ گلزار کے گیت ہوں، افسانے یا نظمیں، ان میں ہمیشہ سلگتا ہوا ماضی ملے گا۔ ایسا وقت جو کبھی آنکھوں کے سامنے دمکتا تھا لیکن اب اس کا وجود محض دل و دماغ میں پرچھائی کی صورت رہ گیا۔

وشال اور گلزار کی پہلی اور ابھی تک کی بہترین فلم ’ماچس‘ میں یہ گیت شامل تھا۔

5۔ نیناں ٹھگ لیں گے

نیناں رات کو چلتے چلتے سورگا میں لے جاویں

میگھ ملہار کے سپنے بیچیں، ہریالی دکھلاویں

نینوں کی زبان پہ بھروسہ نہیں آتا

لکھت پڑھت نہ رسید نہ کھاتا

ساری بات ہوائی رے ساری بات ہوائی

نینوں کی مت مانیو رہے

نینوں کی مت سنیو

نینوں کی مت سنیو رہے

نیناں ٹھگ لیں گے

لکھت پڑھت نہ رسید نہ کھاتا۔ یہ زبان بیوپار کی تھی لیکن گلزار نے گیت میں سمو کر اسے جدت بخش دی۔ ٹھگ لینا، آہا! اس طرح کے بہت سے گیت مل جائیں گے لیکن ایسی زبان دوسرا کون لکھ سکتا ہے۔ ’اومکارا‘ (2006) کے تقریباً سبھی گیت نہایت عمدہ تھے۔

4۔ پانی پانی رے

یہ گیت تو بس دل چیر کے رکھ دیتا ہے۔ پانی آزادی کی علامت ہے جسے دیکھ کر ایک لڑکی نہایت دلگداز آواز میں اپنا دکھڑا بیان کرنے لگتی ہے۔ اپنا گاؤں اور گھر یاد کرتے ہوئے ایک ایک لفظ اس کی بے بسی کا نوحہ محسوس ہوتا ہے۔ دھیمے سروں میں روایتی ساز، گلزار کے الفاظ اور سونے پہ سہاگا لتا جی آواز۔

کالج کے دنوں میں وشال کی ایک خواہش کبھی لتا جی کی آواز میں گیت ریکارڈ کرنا تھا۔ ’ماچس‘ فلم میں یہ لتا کے ساتھ ان کا پہلا موقع تھا۔ انہوں نے لتا کی آواز استعمال کرنے کا حق ادا کر دیا۔ نہایت لاجواب گیت۔

3۔ بیڑی جلائی لے جگر سے پیا

نہ غلاف نہ لحاف، ٹھنڈی ہوا بھی خلاف سسُری

اتنی سردی ہے کسی کا لحاف لئی لے

جا پڑوسی کے چولہے سے آگ لئی لے

بیڑی جلائی لے جگر سے پیا

جگر ما بڑی آگ ہے

 اس گیت کو سن کر لگتا ہے شاید برسوں سے گایا جانے والا کوئی لوک گیت ہو۔ شاعر کی تھڑوں کے کلچر سے ایسی گہری واقفیت اور زبان کا ایسا ذومعنی استعمال اس گیت کو لافانی بناتا ہے۔ وشال کی موسیقی اور بپاشا باسو کی پرفارمنس کا بھی جواب نہیں۔ اومکارا کا ایک اور گیت بھی لاجواب ہے، او ساتھی رے دن ڈوبے نا۔

2۔ دل تو بچہ ہے جی

کس کو پتہ تھا پہلو میں رکھا

دل ایسا پاجی بھی ہو گا

ہم تو ہمیشہ سمجھتے تھے کوئی

ہم جیسا حاجی ہی ہوگا

ہائے زور کرے، کتنا شور کرے

 بے وجہ باتوں پہ ایویں غور کرے

دل سا کوئی کمینہ نہیں

کوئی تو روکے کوئی تو ٹوکے

اس عمر میں اب کھاؤ گے دھوکے

ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی

دل تو بچہ ہے جی

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بول چال کے انداز میں پیچیدہ جذبے کو بیان کرنا بظاہر جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ گلزار کے گیتوں میں تازہ امیجری کے ساتھ یہ پہلو ہمیشہ نمایاں نظر آتا ہے اور اس اعتبار سے یہ گیت ایک شاہکار ہے۔

اس گیت کے لیے گلزار اور راحت فتح علی خان دونوں کو فلم فیئر ایوارڈ ملے جبکہ وشال اس برس نیشنل فلم ایوارڈ جینے میں کامیاب ہوئے۔

1۔ چپہ چپہ چرخہ چلے

گوری چٹخوری جو کٹوری سے کھلاتی تھی

جمعے کے جمعے جو سرمے لگاتی تھی

کچی منڈیر کے تلے

پہاڑوں کے دامن میں اپنے گاؤں سے دور بیٹھے نوجوان یہ گیت ’ماچس‘ (1996) کے ایک سین میں گاتے ہیں تو آنکھوں میں گاؤں کی پوری ثقافت چمک اٹھتی ہے۔ مسلم گھرانوں میں ایک روایت جمعے کے دن تیار ہونا اور آنکھوں میں سرمہ لگانا تھا جو اپنے اندر پورا تہذیبی مظہر تھا۔ دیہات کی فضا اس گیت کے ایک ایک حرف سے ٹپکتی ہے۔ یہ محض گیت نہیں بلکہ پوری ثقافت کا ناسٹیلجیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی