بلوچ سیاست میں خلا، ’مینگل کٹ‘ اور نئے دور کے تقاضے

دبلے اور کمزور بدن، چمکیلی سیاہ آنکھوں کے ساتھ بڑی مہارت سے ترشی ہوئی داڑھی کے ساتھ عطا اللہ مینگل صاف گو اور شعلہ بیانی کے باعث روایتی بلوچ معاشرے میں نہایت معزز سمجھتے جاتے تھے۔

سردار عطا اللہ مینگل بلوچستان کی ایک قدآور سیاسی شخصیت مانے جاتے ہیں (تصویر: اختر مینگل فیس بک)

بلوچ سیاست کے اہم کردار سردار عطااللہ مینگل دو ستمبر 2021 کو کراچی کے ہسپتال میں طویل علالت کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ ان کی پہلی برسی پر ان کی زندگی پر ایک تفصیلی نظر۔


بلوچ قوم کی سیاست میں بنیادی تبدیلی لانے اور ایک سمت کے تعین میں کردار ادا کرنے والے رہنماؤں میں چار بڑے نام نظر آتے ہیں، جن میں سردار عطااللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، نواب اکبرخان بگٹی اور نواب خیر بخش مری شامل ہیں۔

ان رہنماؤں کی رحلت کے بعد کیا بلوچ قومی سیاست ایک دوراہے پر کھڑی ہے؟ سوال یہ ہے کہ سیاست کو اس وقت کس طرح کے رہنماؤں کی ضرورت ہے؟ کیونکہ ماضی کی طرح قبائلی اور سرداری کے بل بوتے پر اب سیاست نہیں ہوتی بلکہ الیکشن اور ووٹ کے ذریعے فیصلہ ہوتا ہے۔

بلوچ سیاست اور تاریخ اور ثقافت پر نظر رکھنے والے معروف دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری کہتے ہیں کہ ’اب یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ماضی کی طرح ہمارے پاس تیار رہنما موجود نہیں ہیں بلکہ اب بنانے پڑیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب ہمارے ماضی کے اکابرین نے سیاست کی، اس وقت جو قیادت کا معیار تھا وہ اس پر پورا اترے اور انہوں نے پوری زندگی نہ غم دیکھا نہ تکلیفیں دیکھیں، نہ قلی کیمپ دیکھا، تشدد سہے اور نہ بچوں کی گمشدگیاں دیکھیں۔ وہ تاریخ کی ٹھیک لائن پر کھڑے تھے۔‘

ڈاکٹر مری مزید کہتے ہیں: ’ان سیاسی رہنماؤں کی خاصیت یہ تھی کہ یہ سامراج دشمن تھے۔ صوبائی خودمختاری کے حامی ون یونٹ کے مخالف تھے اور ملک میں ایک روشن خیال جمہوریت قائم کرنا چاہتے تھے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’اس وقت معیار یہ تھا کہ سیاسی ورکر نہیں بلکہ سیاسی رہنما کی ضرورت تھی۔ سیاسی رہنما کہاں سے آتے تھے۔ میر غوث بزنجو جیسے رہنما جن کا کوئی بااثر فیملی بیک گراؤنڈ نہیں تھا، انہوں نے ساری زندگی سیاست کی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’باقی جو تین ہمارے لیڈر گزرے ہیں وہ قبائلی سردار تھے، جن کی اپنے قبیلے کی وجہ سے حمایت زیادہ تھی۔ ان کے دو ڈھائی لاکھ فالورز تھے، جو ان پر مذہبی طور پر اعتقاد رکھتے تھے۔ ان سے فیصلے اور جرگے کرواتے تھے۔‘

ڈاکٹر شاہ محمد کہتے ہیں کہ گذشتہ ادوار میں تو رہنماؤں نے وقت کے تقاضوں کو پورا کیا لیکن آج کا تقاضا کچھ اور ہے اور اس کے معیارات بھی بدل گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پہلے تو وہ ادارہ ہی ختم ہوگیا ہے، جسے ہم سرداری نظام کہتے تھے۔ ’رسم و رواج وہی ہیں جو بلوچ قوم کے ہیں لیکن اب ایسا کوئی سردار نہیں رہا جو بہت وژن والا اور عوامی حمایت رکھتا ہو۔‘

ڈاکٹر شاہ مری کے بقول اب تو صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ اگر کسی سردار کے پاس سرکاری یا لیویز کی حمایت نہ ہو تو وہ انتخاب بھی نہ جیت سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہاں کے عوام، طلبہ، کسان، مڈل کلاس یا وہ لوگ بلوچ جمہوری تحریک کا حصہ ہیں، ان کی رہنمائی کے لیے کوئی آسمان سے نہیں آئے گا، اسے یہی سے بنانا پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ایک یک قطبی دنیا ہے۔ ساری دنیا میں ایک امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں۔ دو چار جو سوشلسٹ ملک ہیں، ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ ایک زمانے میں غیر جانبدار تحریک ہوا کرتی تھی وہ بھی اب ختم ہوچکی ہے۔‘

ڈاکٹر مری کے مطابق: ’ایسی صورت حال میں دنیا کے ہر عوام کو اپنا فیصلہ خود کرنا پڑے گا۔ جو لیڈر شپ ہمیں ملتی تھی، اس کا ملنا اب بند ہوگیا ہے۔ یہ آخری لوگ تھے جو چلے گئے ہیں۔ اب ہمیں رہنما سردار ملنا مشکل ہوگیا ہے، جو پورے بلوچستان یعنی کوہ سلیمان سے گوادر، افغانستان سے بلوچستان اور سندھ سے بلوچستان تک سب کے لیے قابل قبول ہو۔‘

بلوچستان میں سابق ادوار میں سیاست کے میدان میں اہم رہنما سردار اور نواب تھے، جن میں اکثر تین سرداروں مینگل، مری اور بگٹی کو مسائل کی بنیاد کہا جاتا تھا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سیاست کے بدلتے معیارات اور تقاضوں کے بعد چیلنجز بھی تبدیل ہوگئے ہیں، جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

شاہ محمد کہتے ہیں کہ میر غوث بزنجو لوگوں کو سیاست کی طرف کھینچ کر لائے۔ جتنے بھی سیاسی رہنما گزرے ہیں، سب بزنجو کو اپنا سیاسی استاد مانتے تھے۔ اب پھر وہی نوبت آگئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اکابرین کی تقلید اور ان کی تعلیمات پر عمل اور ان کی دی ہوئی سمت پر چلنا ہوگا۔ ’آپ کو پسند ہوں یا ناپسند آپ کی عمومی سیاست کی سمت بن چکی ہے۔ اب بلوچ عمومی سیاست کو اسی راہ پر چلانے کی ضرورت ہے۔‘

دوسری جانب سردار عطااللہ مینگل کے قریبی سیاسی رفیق اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانی رکن ڈاکٹر حکیم لہڑی سمجھتے ہیں کہ ’بلوچ قوم میں سیاسی قیادت کا کوئی خلا نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ زندہ قوموں میں رہنما پیدا ہو جاتے ہیں۔ ’ہماری تاریخ ہے کہ ہم 500 قبل مسیح سے حالت جنگ میں ہیں۔ اب تک وہی صورت حال ہے۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ آج پھر تاریخ اپنے کو دہرا رہی ہے۔‘

ڈاکٹر حکیم کہتے ہیں کہ آج کی جو صورت حال ہے اس میں لوگ تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ وقت اور حالات لوگوں کو ایک بار پھر اکھٹا کریں گے۔ 

انہوں نے کہا: ’ہمارے زمانے میں سیاسی کارکن کی تربیت ہوتی تھی۔ اخلاقی، علمی اور سیاسی حوالے سے ہمیں باقاعدہ سیاست، تاریخ، کلچر پر لیکچر دیے جاتے تھے۔‘

ڈاکٹر حکیم کہتے ہیں کہ اب کا معاشرہ تو کریکٹر لیس ہے۔ ’ہمارے رہنما ٹکے ٹکے پر فروخت ہوتے ہیں۔ ہماری اسمبلی ڈھائی آنے کی ہے۔ اب تو آشیرباد کے بغیر کوئی اسمبلی میں نہیں جاسکتا۔‘

دوسری جانب معروف دانشور اور بلوچ تحریک میں شامل رہنے والے محمد علی ٹالپر سمجھتے ہیں کہ سردار مینگل سمیت چار عظیم رہنماؤں کی رحلت سے بلوچ قیادت کا یقیناً خلا پیدا ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے سیاسی افق پر کوئی بھی نہیں، جو ان کے نقش قدم پر چل سکے، تاہم ان کی پیروی کرنے کے لیے ان کی مثال موجود ہے۔

میر محمد علی ٹالپر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگرچہ قائدین جسمانی طور پر جدا ہوجاتے ہیں لیکن وہ اپنے پیچھے اپنی مثالیں چھوڑ جاتے ہیں۔ اگر ان کے نقش قدم پر چلا جائے تو نقصان کم سےکم ہوجائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کی سیاست کے یہ نمایاں رہنما ان سنگین حالات کی پیدوار تھے، جن کا سامنا بلوچ قوم نے 1947 میں کیا، جب پاکستان نے بلوچوں کے سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی حقوق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچ قوم کے لیے صورت حال ایک جیسی ہے۔ ’بلوچ قوم ایک بانجھ قوم نہیں ہے اور جیسا کہ اس نے ان نمایاں رہنماؤں کو پالا ہے، اس کے پاس اب بھی ایسے رہنما پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جو بلوچوں کے حقوق کا دفاع کریں گے اور ان رہنماؤں کی طرح جنگ لڑیں گے۔‘

 محمد علی ٹالپر کا مزید کہنا تھا کہ انہیں بلوچ قوم کی خوبیوں سے کبھی بھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔ ’ایسے رہنما جنم لیتے رہیں گے جو قوم کی تقدیر کے فیصلے کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سارے سردار تھے اور ہیں۔ یہ ان کی قوم پرست سیاست تھی جو اہمیت رکھتی تھی جس نے سمت کا تعین کیا اور ریاست کی بلوچ مخالف پالیسیوں کی خلاف آواز اٹھانے پر وہ نواب خیر بخش اور دیگر کے ساتھ مل کر بلوچوں کے حقوق کا مطالبہ کرنے پر قوم کے لیے ایک علامت بن  گئے۔

سردار عطا اللہ مینگل کے زندگی کے چند پہلو

’دبلے اور کمزور بدن، چمکیلی سیاہ آنکھوں کے ساتھ بڑی مہارت سے ترشی ہوئی داڑھی کے ساتھ عطا اللہ مینگل اپنے دونوں ساتھیوں کی نسبت زیادہ عام بلوچ تھے۔ وہ صاف گو اور شعلہ بیانی کے باعث روایتی بلوچ معاشرے میں معزز سمجھے جاتے تھے اور بات کرنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر براہ راست بات کرتے تھے۔‘

یہ الفاظ ہیں معروف صحافی اور مصنف سلیگ ایس ہریسن کے، جنہوں نے اپنی کتاب ’ان افغانستان شیڈو بلوچستان نیشنل ازم اور سویت ٹیمپٹیشن‘میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ سردار عطا اللہ مینگل نے 1950 کی دہائی میں ایک ترقی پسند سردار کی حیثیت سے اپنی ساکھ بنائی۔ وہ آہستہ آہستہ سیاسی زندگی میں بہہ گئے۔

’سردار عطااللہ بڑے حوصلے والے آدمی تھے۔ وہ دن میں ایک آدھ بار بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو) کو برابھلا کہتے اور غم وغصے کا اظہار کرتے تھے۔ یہ ان کی عادت بن گئی تھی۔‘

سردار عطا اللہ مینگل کی ایک اور چیز جو کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ یہ ہے کہ وہ روایتی بلوچی چپل کوئٹہ کی صرف ایک دکان سے بنواتے تھے۔ ’سعادت شوز‘ کے نام سے مشہور اس دکان کے مالک محمد اسماعیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سردار عطااللہ مینگل میرے علاوہ کسی اور دکان کے جوتے استعمال نہیں کرتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ان کے لیے میں خود چپل بناتا تھا، جو ایک مخصوص چمڑے سے بنائی جاتی ہے۔ یہ چمڑا اس وقت مشہور تھا اور اس کا ڈیزائن مگرمچھ کی جلد کی طرح کا تھا۔‘

محمد اسماعیل کہتے ہیں کہ ’چونکہ یہ چمڑا مہنگا ہوتا تھا، اس لیے سردار عطا اللہ مینگل خود اسے منگواتے، میرے حوالے کرتے اور کہتے تھے کہ اس سے میرے لیے جوتے بنا دو۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ چپل کے ساتھ سردار عطااللہ اپنی بندوقوں کے لیے کور بھی انہی سے بنواتے تھے۔ ان کی حکومت کے خاتمے اور جھالاوان میں آپریشن کے بعد ان کی ملاقات نہیں ہوئی۔

محمد اسماعیل کہتے ہیں کہ جو جوتا سردار عطااللہ مینگل استعمال کرتے تھے۔ وہ انہی کی وجہ سے ’مینگل کٹ‘ کے نام سے مشہور ہوگیا اور تمام مینگل قبائل بھی اسی کو پسند کرتے ہیں، جو آج بھی اسی طرح مشہور ہے۔

سردار عطااللہ مینگل 1930 میں لسبیلہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بیلہ اور مزید تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ 1954 میں مینگل قبیلے کے سردار منتخب ہوئے۔

ابراہیم جلیس نگوری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’یہ واحد سردار تھے، جن کا انتخاب ووٹ کے ذریعے ہوا۔‘

1956 میں وہ ضلع قلات سے سابق مغربی پاکستان اسمبلی میں آزاد رکن منتخب ہوئے۔ یہ انتخاب لڑنے پر انہیں میر غوث بخش بزنجو نے قائل کیا تھا۔ 1962 اور 1963 میں وہ گرفتار ہوئے۔ پہلے تین ماہ بعد رہا ہوئے اور دوسری مرتبہ جنوری 1967 کو انہیں رہائی ملی، جس کے بعد انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی جوائن کی۔

1970 کے انتخابات میں سردار عطااللہ مینگل، جھالاوان سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 26 اپریل 1972 کو صوبائی اسمبلی میں نیشنل عوامی پارٹی اور جے یو آئی کی مخلوط پارلیمانی پارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے اور یکم مئی کو وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا۔ وہ صوبے کے پہلے وزیراعلیٰ بنے۔

ان کو اپنے دورِ حکومت میں داخلی طور پر بھی مختلف مسائل کا سامنا رہا۔ اسی زمانے میں پولیس کی ہڑتال ہوئی۔

سردار عطااللہ مینگل کے قریبی سیاسی رفیق اور سیاست دان ڈاکٹر حکیم لہڑی نے بتایا کہ جب وفاق اور پنجاب حکومت کی طرف سے سردار عطااللہ مینگل کے وزارت اعلیٰ کے دور میں دباؤ ڈالا گیا کہ وہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو واپس بھیج دیں تو اس دوران پولیس نے ہڑتال کر دی۔

’سردار عطااللہ مینگل نہیں چاہتے تھے کہ پولیس یہاں سے جائے۔ انہوں نے ہمارے سامنے پولیس دربار منعقد کی اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں زیادہ مراعات دیں گے۔ انہیں بلوچ اور پشتون قوموں کے برابر تنخواہیں دی جائیں گی۔‘

ڈاکٹر حکیم نے بتایا کہ ’پولیس نے جب ہڑتال کی تو کوئٹہ شہر کا انتظام مجھ سمیت دیگر سیاسی ورکروں نے سنبھالا اور ٹریفک سمیت دیگر معاملات کو کنٹرول کرتے رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ جانتے ہوئے بھی سردار عطااللہ ایک سردارہیں، ہم نے بحیثیت ایک سیاسی کارکن کے سیاسی معاملات میں کبھی ان کو سردار نہیں سمجھا بلکہ ہم ایک پریشر گروپ تھے اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کوئی بھی فیصلہ ہمارے بغیر نہیں کرسکتے تھے۔‘

اس دور میں حکومت کے خاتمے کے بعد بلوچستان میں کئی سال تک خانہ جنگی کی کیفیت رہی اور اسے ختم کرنے کے لیے فوجی آپریشن کیاگیا۔ جس وقت بلوچستان میں شورش چل رہی تھی، سردار عطااللہ اور نیشنل عوامی پارٹی کی قیادت اس وقت حیدرآباد جیل میں بند تھی۔

1977 میں پاکستانی فوج کے برسرار اقتدار آنے کے بعد حیدرآباد ٹریبونل توڑ دیا گیا اور دیگر لوگوں کی طرح سردار عطااللہ کو بھی رہائی ملی۔ مگر جیل کے طویل تجربے اور بلوچستان کے حالات نے ان کی سیاسی سوچ کو یکسر بدل دیا، جس کے بعد وہ پاکستان کے دائرے میں کسی وفاقی نظام کے قابل عمل ہونے کے قائل نہیں رہے۔

ذاتی طور پر سردار مینگل انتہائی شریف النفس انسان تھے اور وہ بلوچ روایات کے عین مطابق ہر ایک سے کشادہ دلی کے ساتھ ملتے تھے، بہترین خاطر تواضح کرتے تھے۔ مقابل کے موقف کو سکون سے سننے کے بعد اپنا نقطہ نظر رک رک کر دھیمے لہجے میں بیان کرتے تھے۔

سید جعفر احمد لکھتے ہیں کہ ’ان کی گفتگو میں فلسفہ اور نظریاتی بحث نہ ہونے کے برابر ہوتا لیکن ان کی بات منطقی اور مدلل ہوتی تھی۔ اکثر ان کا لہجہ تلخ اور طنز آمیز بھی ہوجاتا تھا۔ وہ بلوچوں کےخلاف مبینہ زیادتیاں کرنے والوں کے لیے اپنی نفرت کو نہیں چھپاتے تھے۔ ایسا کرتے وقت ان کے چہرے کی سرخی میں اضافہ ہوجاتا اور آنکھیں بولنے لگتی تھیں۔‘

سردار عطااللہ کے حوالے سے ان کے قریبی رفیق ڈاکٹر حکیم لہڑی کہتے ہیں کہ ’ان کی شہرت کا یہ عالم تھا کہ اس دور میں ان کے حوالے سے یہ نعرہ مشہور تھا کہ اوپر اللہ، نیچے عطااللہ، جو لوگوں میں ان کی عزت کو بہتر طریقے سے بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین