بلوچستان یونیورسٹی میں بڑھتا ہوا مالی بحران 

وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب تک یونیورسٹی کے مالی بحران کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں، جب کہ یونیورسٹی بھی ایسے پراجیکٹس شروع کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہی جو فنڈز پیدا کر سکتے تھے۔ 

یونیورسٹی دو دہائیوں سے مالی مسائل کا شکار ہے (یونیورسٹی آف بلوچستان فیس بک پیج)

ایک طرف تو بلوچستان کے بہت سے علاقے بارش کے پانی میں گھرے ہوئے ہیں، دوسری جانب صوبے کی سب سے بڑی اور پرانی یونیورسٹی  یونیورسٹی آف بلوچستان اس وقت ایک معاشی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، اور یہ بحران نیا نہیں بلکہ گذشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب تک یونیورسٹی کے مالی بحران کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن پروفیسروں اور اساتذہ کو کلاسوں میں ہونا چاہیے تھا وہ اب اپنی تنخواہوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر آ کر احتجاح اور مظاہرے کر رہے ہیں۔ اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ہونے کے ناطےمیں بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر شفیق الرحمان، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان کی توجہ چند امور کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ 

یونیورسٹی کا مالی بحران 

بلوچستان یونیورسٹی میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کی کال دی ہے جو پچھلے ایک ہفتے سے جاری ہے۔ ہڑتال کے حقیقی مقاصد یونیورسٹی کے پروفیسرز، لیکچررز اور ملازمین کی مالی پریشانیوں کو دور کرنا ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ انہیں جولائی 2022 کی صرف نصف تنخواہ ملی اور ابھی تک اگست کی تنخواہ نہیں ملی۔ اے ایس اے کے صدر ہونے کے ناطے ہم یونیورسٹی کے مالی بحران کا مستقل اور طویل مدتی حل چاہتے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ سائنس، ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی میں آگے بڑھنے کے لیے اعلیٰ تعلیم میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کریں۔ 

جہاں تک میرا خیال ہے تو بڑی ذمہ داری وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، خزانہ، بشمول پرنسپل افسران پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوچستان کی صوبائی حکومت پر یونیورسٹی کے ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ تنخواہ دینا کوئی مطالبہ نہیں، ان کا بنیادی حق ہے۔ وی سی کو یونیورسٹی کے لیے اضافی فنڈز کا بندوبست کرنا چاہیے تھا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر سال قابل اور ہونہار نوجوان اساتذہ کو سکالرشپ پر بیرون ملک بھیجا جاتا تاکہ وہ دنیا کی بڑی اور مستند جامعات سے اعلیٰ ڈگریاں ہی نہیں بلکہ جدید نظریات اور تصورات بھی ساتھ لے کر آتے اور یہ روشنی اپنے طلبہ تک منتقل کرتے، الٹا وہ اپنے بنیادی حق یعنی تنخواہوں ہی سے محروم ہیں۔

بدقسمتی سے یونیورسٹی ایسے پراجیکٹس شروع کرنے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہی ہے جو فنڈز پیدا کر سکتے تھے۔ یونیورسٹی کے مالی بحران نے پروفیسروں، اساتذہ اور ملازمین کی زندگیوں کو دکھی اور تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ 

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کی جانب سے 2022-23 میں پیش کیا گیا بجٹ سات سو ارب روپے پر مشتمل تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 700 ارب روپے کے اندر صرف ڈھائی ارب روپے صوبے کی 11 یونیورسٹیوں کو گرانٹس اور امداد کی صورت میں جاری کیے گئے۔ یہ رقم ایک فیصد کا بھی ایک تہائی بنتی ہے۔ 11 یونیورسٹیوں کے لیے ڈھائی ارب روپے کی معمولی رقم، ہر طرح سے، یونیورسٹیوں کی مالی پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے ناکافی ہے۔  

دوسری طرف وفاق کی صورتِ حال بھی کچھ زیادہ خوش کن نہیں ہے۔ اس سال کا وفاقی بجٹ دس ہزار ارب روپے پر مشتمل تھا۔ وفاقی حکومت نے ملک کی پوری یونیورسٹیوں کے لیے بار بار چلنے والے بجٹ کے لیے صرف 65 ارب روپے جاری کیے جو کہ سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ترقی کے دور میں تکلیف دہ حد تک ناکافی ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ 2017 سے وفاقی حکومت ہر سال اعلیٰ تعلیم کے بار بار چلنے والے بجٹ کے لیے محض 65 ارب روپے جاری کرتی ہے جس سے پاکستان خطے میں اعلیٰ تعلیم کی دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔ 

اس پس منظر میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر گہری نیند میں ہیں اور فنڈز بنانے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بصیرت انگیز اقدامات کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے سے گریزاں ہیں۔ بلوچستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور پرو وائس چانسلرز کو یونیورسٹیوں کے مالی بحران سے صوبائی حکومت کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔ انہیں یونیورسٹیوں کے مالیاتی مسائل کو حل کرنے اور اجاگر کرنے میں ہمارے ساتھ ہونا تھا۔

میں وفاقی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ پاکستان کی جامعات کے لیے سالانہ ڈیڑھ سو ارب روپے کا بجٹ جاری کیا جائے۔ میں بلوچستان کی صوبائی حکومت سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ بلوچستان بھر کی یونیورسٹیوں کے لیے سات سو ارب روپے میں سے تقریباً دس ارب روپے جاری کیے جائیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دس ارب روپے جاری کرنے سے صوبے کی یونیورسٹیوں کی مالی مشکلات دور ہوں گی اور پروفیسرز، اساتذہ اور ملازمین کی مشکلات بھی حل ہو جائیں گی۔ وہ یقیناً کلاسوں اور تحقیقی کاموں میں اضافی دلچسپی لیں گے جو بالعموم پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کے لیے ہمیشہ مفید اور مددگار ثابت ہوں گے۔

بلاشبہ مہنگائی اور غیر یقینی صورت حال کے درمیان ایک غیر محفوظ اور غیر یقینی پروفیسر اور استاد کبھی بھی محفوظ طالب علم پیدا نہیں کر سکتا۔ بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور خطے میں علاقائی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی دشمنی کی وجہ سے خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔

پروفیسرز، اساتذہ اور ملازمین کو ان کی تنخواہوں سے محروم رکھنا، فنڈز کے حصول میں کوئی پیش رفت نہ کرنا اور صوبے میں غربت اور لاقانونیت میں اضافہ ملک کے بیرونی دشمنوں کے ذریعے پر کرنے کا خلا پیدا کر دے گا۔ مستقل حل کے ساتھ جتنی جلد تنخواہیں جاری کی جائیں، بلوچستان کے خوشحال اور روشن مستقبل کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔ 

نوٹ: اس تحریر کے مصنف پروفیسر کلیم اللہ بڑیچ یونیورسٹی آف بلوچستان کے شعبۂ تاریخ سے وابستہ ہیں اور وہ اکیڈیمک اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر بھی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس