بلوچستان کے روایتی سروں کو زندہ رکھنے کی کوشش

بلوچستان کے شہر تربت میں قائم کیچ کلچر سینٹر اینڈ میوزیم میں موسیقی کی کلاسوں کے ذریعے روایتی موسیقی کے آلات کو بجانے کا فن نئی نسلوں کو منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کیچ میوزیم کی انتظامیہ کے مطابق سات سے آٹھ طلبہ موسیقی کے روایتی آلات کی تربیت حاصل کر رہے ہیں (تصویر: سکرین گریب/ گہرام اسلم بلوچ)

بلوچستان کے شہر تربت میں قائم کیچ کلچر سینٹر اینڈ میوزیم میں موسیقی کی کلاسوں کے ذریعے روایتی موسیقی کے آلات کو بجانے کا فن نئی نسلوں کو منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تجربہ کار اساتذہ کی نگرانی میں دمبورگ، سروز، ترز، عہدی شعرگشی، طبلہ اور بینجو کی کلاسوں کا آغاز رواں سال فروری میں ہوا۔

میوزیم کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایاز ہاشم بزنجو نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہماری کوشش ہے کہ ہم یہاں کی کلاسیکی موسیقی کو زندہ رکھیں۔ اس وقت مختلف آلات کے سات سے آٹھ طلبہ ہیں جو کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق طلبہ کو داخلے اور ماہانہ فیس کی مد میں ایک ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیچ کلچر سینٹر کے 25 سالہ استاد کریم داد کے مطابق ان کا خواب ہے کہ وہ اپنے ہنر کو آنے والی نسل میں منتقل کریں اور انہیں موسیقی کے بارے میں بتائیں۔

اس سینٹر میں موسیقی کے علاوہ فائن آرٹس، پینٹنگ، ڈرائنگ اور خطاطی کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

فائن آرٹس کے استاد زباد بلوچ نے بتایا کہ ’مکران کے لوگ آرٹس میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔‘ 

ان کا مزید کہنا تھا: ’بدقسمتی سے یہاں ایسا کوئی ادارہ نہیں کہ بچے پروفیشنل ڈگری حاصل کر سکیں، سوائے یونیورسٹی کے۔ یہاں تین مہینے کے کورسز میں پنسل ورک، لینڈ سکیپ اور پورٹریٹ بنانا سکھایا جاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی