ادت نارائن جن کی زندگی کا رخ ’قیامت سے قیامت تک‘ نے بدل دیا

گلوکار ادت نارائن اپنے کیریئر میں کسی بریک تھرو کی توقع کر رہے تھے، وہ انہیں کیسے حاصل ہوا؟ ادت کی 66 ویں سالگرہ پر خصوصی تحریر۔

اس فلم میں ہدایت کار نے نئے فنکار آزمانے کی ٹھان لی تھی (ناصر حسین فلمز)

اس دن ادت نارائن ضرورت سے زیادہ پریشان تھے۔ گلوکاری کے بڑے مواقع مل کر نہیں دے رہے تھے اور اسی لیے ذہنی کیفیت اضطراب کا شکار تھی۔

اسی پریشانی اور فکر کے عالم میں جب ہدایت کار اور پروڈیوسر ناصر حسین کے صاحبزادے منصور خان کے گھر کے سامنے سے گزرے تو نجانے کیا ہوا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی گھر کی گھنٹی بجا دی۔ بمبئی کی مصروف شاہراہ سے گزرتے ہوئے ادت نارائن کا یہ عمل غیر ارادی تھا۔ چوکیدار آیا تو اسے اپنا تعارف کروایا، جس نے انتظار کا کہا اور پھر چند لمحوں بعد ادت نارائن منصور خان کے سامنے بیٹھے تھے۔

 منصور خان ادت نارائن سے بخوبی واقف تھے۔ 1986 کے اختتامی مہینے چل رہے تھے اور اس زمانے میں جہاں سینیما گھروں کے لیے فلمیں بنانے کا رواج تھا، وہیں چھوٹے بجٹ کی ویڈیو فلموں کے لیے ہدایت کار اپنی صلاحیتوں کا امتحان لیتے۔ ایسی فلمیں صرف وی ایچ ایس پر ہی جاری ہوتیں۔ ادت نارائن نے منصور خان کی ویڈیو فلم ’امبرتو‘ میں دو گانے گائے ۔ موسیقار آنند ملند نے انہیں یہ موقع دیا تھا جو ان دنوں خود بڑے بڑے موسیقاروں کی موجودگی میں اپنا نام اور مقام بنانے کی جدوجہد میں تھے۔ موسیقار چترگپت کے یہ دونوں صاحبزادے ادت نارائن کی گلوکاری سے متاثر تھے جبھی ویڈیو فلم کے لیے نغمہ سرائی کروائی۔

منصور خان نے ادت نارائن کے آنے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے یہی مدعا بیان کیا کہ ان کے پاس کوئی اور فلمی منصوبہ ہے تو انہیں ضرور موقع دیں۔ منصور خان ان کی پریشانی سمجھ گئے اور مسکراتے ہوئے بولے، ’آپ فکر نہ کریں، میں بہت جلد ایک بڑی فلم بنانے جا رہا ہوں۔‘

ادت نارائن کی آنکھوں میں امید کے دیے روشن ہونے لگے کیونکہ بھارتی ریاست بہار کے چھوٹے سے قصبے بیسی سے بمبئی کا سفر کرنے والے ادت نارائن اب تک گلوکاری کے میدان میں بھٹک ہی رہے تھے۔ لگ بھگ نو دس سال انہیں بمبئی میں ہو گئے تھے۔ وہ کیسے فراموش کر سکتے تھے ان دنوں کو جب وہ فلموں میں گلوکاری کے حصول کے لیے مختلف سٹوڈیوز کے چکر لگاتے۔ والدین سے ہی انہیں گلوکاری کا شوق ہوا تھا لیکن خواہش یہی تھی کہ ایسا نام کمائیں گے کہ گاؤں والے فخر کریں لیکن ان کے لیے ہر گزرتا دن تکلیف اور جدوجہد سے بھرا ہوتا۔

ادت نارائن کے تواتر کے ساتھ چکر لگانے سے تنگ آکر ہی موسیقار راجیش روشن نے 1980 میں انہیں ’انیس بیس‘ میں پہلی بار موقع دیا۔ ادت نارائن نے گیت ’مل گیا مل گیا‘ میں دو تین سطریں ہی گائی تھیں لیکن ان کے لیے یہ بڑا اعزاز تھا کہ اس گیت میں ان کے من پسند گلوکار محمد رفیع بھی تھے، جنہوں نے ادت نارائن کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں نصیحت کی: ’محنت کرتے رہو، ہمت نہ ہارنا۔‘

اس گیت کی ایک اور ساتھی گلوکارہ اوشا منگیشکر تو اس وقت خاصی خوش ہوئیں، جب ادت نارائن نے بتایا کہ انہوں نے باقاعدہ کلاسیکل گلوکاری کی تربیت بھی حاصل کی ہے۔

ادت نارائن کو ملنے والے اس پہلے موقع کے بعد انہوں نے اپنی جدوجہد اور تیز کر دی۔ اس عرصے میں راجیش روشن نے بھی ان کی دوسرے موسیقاروں جیسے آر ڈی برمن، بپی لہری، کلیان جی آنند جی اور رام لکشمن سے سفارش کی اور کسی نہ کسی فلم میں انہیں ایک یا دو گانے مل ہی جاتے لیکن ان کے نام کے ساتھ کوئی ایسا گیت نہیں تھا، جو ان کی شناخت بنتا یا وہ فخریہ انداز میں دوسروں کو اس کا حوالہ دیتے۔

منصور خان نے جب اپنی ویڈیو فلم ’امبرتو‘ میں ادت نارائن کی گلوکاری سنی تو والد ناصر حسین کو بھی ان کی گلوکاری بھائی، جنہوں نے مشورہ دیا کہ ادت نارائن کی آواز کو سنبھال کر رکھو۔ یہ وہ وقت تھا جب منصور خان پہلی بار کیمرے کے پیچھے کھڑے ہو کر کزن عامر خان کو ’قیامت سے قیامت تک‘ میں پیش کرنے کا ارادہ کر رہے تھے۔ انہوں نے والد سے کہہ دیا تھا کہ چونکہ ان کی فلم نوجوانوں کی ہو گی تو اس کے ہر شعبے میں نوجوان ہی ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عامر خان اور جوہی چاؤلہ کے علاوہ گلوکاروں میں الکا یاگنک اور ادت نارائن جیسے ابھرتے ہوئے نوجوان اور یہاں تک موسیقار بھی آنند ملند کو ہی منتخب کرنے کا سوچا ہوا تھا جو اپنے کیریئر کی پہلی بہاریں دیکھ رہے تھے۔

منصور خان نے ادت نارائن کو خوش خبری سنائی کہ وہ بہت جلد پہلی فلم بنانے جا رہے ہیں۔ اسی لیے ادت اگر واپس گاؤں جانے کا خیال کر رہے ہیں تو اسے ذہن سے نکال دیں۔ ادت نارائن کا خیال تھا کہ ایک یا دو گیت ہی ان کے نصیب میں آئیں گے لیکن منصور خان نے ان پر واضح کر دیا کہ عامر خان پر جتنے بھی گانے ہوں گے ان کے لیے پس پردہ گلوکاری ادت نارائن ہی کریں گے۔

ادت نارائن کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ ادت نارائن جب منصور خان کے گھر سے واپس نکلے تو ان میں بلا کا اعتماد تھا اور شکریہ ادا کر رہے تھے کہ انہوں نے اچھا کیا منصور خان تک خود پہنچ کر۔ کم از کم اب ان کو ایک آسرآ تو مل گیا۔ وعدے کے مطابق منصور خان نے ادت نارائن کو ’قیامت سے قیامت تک‘ میں پس پردہ گلوکاری کے لیے منتخب کیا۔ یہ پہلی فلم تھی جس کے سارے گیت ادت نارائن گانے جا رہے تھے۔

 ’قیامت سے قیامت تک‘ کے نغمہ نگار مجروح سلطان پوری تھے جنہوں نے ایک نوجوان ٹیم کو دیکھتے ہوئے ہر گیت میں اپنی ساری زندگی کا نچوڑ بھر دیا۔ ادت نارائن کو جب ریکارڈنگ کے لیے بلایا گیا تو موسیقار آنند ملند نے پہلا گانا جو ریکارڈ کیا وہ غضب کا ہے، ’دن سوچو ذرا رہا۔‘ اس کے بعد ’اکیلے ہیں تو کیا غم ہے‘ اور پھر ’اے میرے ہم سفر اک ذرا انتظار‘ اور پھر سب سے آخر میں ’پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا۔‘

ادت نارائن اس عرصے میں اتنی سمجھ بوجھ تو رکھ چکے تھے کہ کون سا گیت کیا رسپانس دے گا۔ اسی لیے انہیں یقین تھا کہ گانوں کی شاعری اور موسیقی دلوں کو چھو لینے والی ہے اسی لیے یہ سارے گیت ہی ہٹ ہوں گے۔

فلم مکمل ہو کر29 اپریل 1988 کو جب سینیما گھروں میں لگی تو ابتدا میں کوئی خاطر خواہ کاروبار نہ کر سکی۔ ایسے میں ادت نارائن جب شام میں بمبئی کے ساحل پر جاتے تو وہاں عامر خان کے والد طاہر حسین سے ملاقات ہوتی جو ادت نارائن سے یہی کہتے کہ فلم بس ہٹ ہو جائے تاکہ ان کا بیٹا عامر خان فلمی دنیا میں قدم جما سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس پر ادت نارائن کا جواب یہ ہوتا کہ ’طاہر صاحب آپ تو بیٹے کو پھر کسی اور فلم میں متعارف کروا دیں گے، فلم نہ چلی تو میرا کیا ہو گا؟‘

ادت نارائن کو یہ خوف بھی ستا رہا تھا کہ ناصر اور طاہر حسین کی گذشتہ فلمیں ’زمانے کو دکھانا ہے‘ اور ’منزل منزل‘ بری طرح پٹ چکی تھیں اور دھڑکا یہی لگا تھا کہ کہیں ایک بار پھر ناکامی کی ہیٹ ٹرک نہ ہو جائے۔

بہرحال دو ہفتوں کے بعد اچانک ہی ’قیامت سے قیامت تک‘ نے ایک دم ہاؤس فل کے بورڈز سینیما گھروں میں سجانے شروع کر دیے۔ گیت ہر ایک کی زبان پر تھے جبکہ عامر خان اور جوہی چاؤلہ کی اداکاری اور روایتی کہانیوں سے ہٹ کر سکرین پلے نے اور زیادہ دھوم مچا دی۔ گانے جب ہٹ ہوئے تو سمجھیں اب ہر طرف جہاں ادت نارائن کا چرچا تھا وہیں الکا یاگنک اور آنند ملند کا بھی۔

درحقیقت عامر خان اور جوہی چاؤلہ کی طرح ’قیامت سے قیامت تک‘ نے ان سب کو بھی ایک دم سپر سٹار بنا دیا تھا۔ ادت نارائن کا بڑا گلوکار بننے کا خواب سچ ہو گیا تھا، جس کے بعد تو جیسے ان کے سامنے فلموں کی لمبی قطار لگ گئیں۔ اگلے سال ادت نارائن کو ’قیامت سے قیامت تک‘ کے لیے بہترین گلوکاری پر پہلا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔

ادت نارائن کے مطابق جب وہ ایوارڈ تقریب میں شریک تھے تو انہیں ایک فیصد بھی امید نہیں تھی کہ انہیں ایوارڈ ملے گا کیونکہ ان کے مقابل محمد عزیز ’دل تیرا کس نے توڑا‘ کے لیے اور امیت کمار ’ایک دو تین‘ جیسے گانوں کے لیے تھے اور پھر ادت نارائن کا وہ دور شروع ہوا جس نے تین دہائیوں تک بالی وڈ میں انہیں ممتاز بنائے رکھا۔

گلوکار ادت نارائن کو مجموعی طور پر پانچ فلم فیئر ایوارڈز جبکہ چار بار بھارت کا قومی ایوارڈ بھی ملا۔ ادت نارائن کی دوسری بیوی دیپا بھی گلوکاری سے وابستہ رہیں جبکہ بیٹے ادتیہ نارائن نے بھی اس شعبے میں قسمت آزمائی۔ ادت نارائن کی گلوکاری کی خاص بات یہ رہی کہ ان کی آواز ہر اداکار پر فٹ بیٹھتی۔

ادت نارائن نے گلوکاری ہی نہیں بھوج پوری فلموں میں اداکاری کے جوہر بھی دکھائے جبکہ بھارت کی ہر علاقائی زبان میں نغمہ سرائی کرنے کا بھی اعزاز پایا۔ ادت کا کہنا ہے کہ زندگی میں وہ اس وقت بہت زیادہ مایوس ہوئے تھے، جب نمائش کے چند دنوں بعد ’قیامت سے قیامت تک‘ نہیں چلی تھی ۔

گلوکار ادت نارائن کے چند مشہور ترین گیت یہ ہیں:

  • مہندی لگا کے رکھنا سہرا سجا کے رکھنا
  • مجھے نیند نہ آئے مجھے چین نہ آئے
  • میں یہاں ہوں یہاں ہوں یہاں
  • راجا کو رانی سے پیار ہو گیا
  • تیرے نام ہم نے کیا ہے جیون اپنا
  • تو چیز بڑی مست مست
  • دل نے یہ کہا ہے دل سے
  • پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی