اتنے زیادہ پنجابی فوجی پہلی عالمی جنگ میں کیوں تھے؟

تمام مشکلات کے باوجود پہلی عالمی جنگ کے دوران کوئی بغاوت ہوئی اور نہ بڑے پیمانے پر فرار کی کوشش، بلکہ ہندوستانی فوجیوں نے گیارہ وکٹوریا کراس حاصل کیے۔

’انڈیا، ایمپائر، اینڈ فرسٹ ورلڈ وار کلچر: رائٹنگز، ایمجز، اینڈ سانگز‘ اس کتاب کے مصنف شانتانوداس اس بات پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے دوران انہیں ایسے واقعات کا علم تو ہوا کہ ہندوستانیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کسی انگریز کی جان بچائی لیکن انہیں ایک بھی ایسی مثال نہیں ملی کہ جس میں کسی انگریز نے ایسا کیا ہو۔(سرورق کتاب)

اس کتاب کے سرورق پر تصویر میں ایک ہندوستانی سپاہی جنگی جہاز کے پروپلر کو عقیدت سے چھو رہا ہے۔ دشمن فوج نے دو برطانوی ہوابازوں کو مار گرانے کے بعد تباہ شدہ جہاز کے پروپلر کو یہاں صحرا میں گاڑ کر ان کی ایک یادگار سی بنا دی تھی۔ چہرے پر افسردگی اور کاندھے پر بندوق، سپاہی کے وجود میں دکھ اور تاسف کی ایک کیفیت یکجا دکھائی دیتی ہے۔

جس طرح دریا کے دو کنارے اپنے بیچ اسرار کی ایک دنیا سمیٹے ساتھ ہوتے ہوئے جدا رہتے ہیں اسی طرح انسانی زندگی بھی متضاد علامتوں کے بیچ ایک جہانِ حیرت آباد کیے ہوئے ہے۔

’انڈیا، ایمپائر، اینڈ فرسٹ ورلڈ وار کلچر: رائٹنگز، ایمجز، اینڈ سانگز‘ اس کتاب کے مصنف شانتانو داس آکسفورڈ یونیورسٹی میں اوائل بیسویں صدی میں تخلیق کیے گئے انگریزی ادب کے استاد ہیں۔ ان کی تدریس و تحقیق کا خاص موضوع پہلی عالمی جنگ کے بارے میں لکھا گیا ادب ہے۔

عموماً اس سے مراد سفید فام اقوام کا ادب لیا جاتا ہے۔ نتیجتاً، غیر سفید فام اقوام سے بھرتی ہوئے سپاہیوں اور ان سے جڑے لوگوں  کی کہانیوں کی باز گشت کہیں سنائی نہیں دیتی۔ شانتانو داس کہتے ہیں کہ ’پہلی عالمی جنگ میں شمولیت نے ہندوستان میں ایک منفرد ثقافت کو جنم دیا تھا۔ سپاہیوں کے خطوط، عورتوں کے گائے گیت، بھرتی کی حمایت میں سیاستدانوں کی تقاریر، جرمنی میں جنگی قیدیوں کی بنائی گئی ریکارڈنگز، ہندوستانی اور برطانوی ادیبوں کی جنگ اور بعد از جنگ کے حالات کی تصویر کشی اس ثقافت کے بنیادی عناصر ہیں۔‘ ان کی بارہ سالہ تحقیق انہی عناصر کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلی عالمی جنگ کے لیے برطانوی نوآبادیوں میں ہندوستان وہ علاقہ تھا جہاں سب سے زیادہ سپاہی ’رضاکارانہ‘ بھرتی ہوئے تھے۔ ہندوستان کی جغرافیائی وسعت کے باوجود بھرتی مخصوص علاقوں اور اقوام (پٹھان، گورکھا، ڈوگرا، جاٹ، اور سکھ) سے کی گئی۔ اس جنگ کی چھاپ پنجاب پر سب سے گہری تھی۔ دس لاکھ ہندوستانی سپاہیوں میں سے چار لاکھ اسی ہزار، تقریباً پچاس فیصد، پنجاب سے بھرتی ہوئے تھے۔

انیسویں صدی سے ہی، خصوصاً 1889 میں ایڈن کمیشن رپورٹ کے بعد، سلطنتِ برطانیہ نے پنجاب کی جنگجو نسلوں اور اپنے لیے افواج بنانے کی بہترین نرسری کا ایک تصور شروع کر دیا گیا تھا۔ شانتانو داس کے مطابق ہندوستانیوں کا اس تعداد میں پرائی جنگ میں شامل ہو جانا متعدد پیچیدہ وجوہات کی وجہ سے تھا۔ معاشی حالات، خاندانی و معاشرتی روایات بالخصوص عزت کا تصور، جنگجو ہونے کا گمان، سورما بننے کے جنون سمیت ان ممکنہ مراعات کا حصول جو موجودہ صورت حال میں میسر نہیں تھیں۔ ان کے مطابق پنجاب کا فوج سے تعلق جاننے کے لیے پہلی عالمی جنگ کے بارے پنجاب کے متنّوع ردِ عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔

پنجاب میں خواندگی کی شرح کم تھی اور جن علاقوں سے زیادہ بھرتی ہوئی تھی وہاں یہ شرح مزید کم تھی۔ واضح رہے کہ ناخواندگی سے مراد ادب سے ناواقفیت نہیں ہے۔ بھرتیوں کے بعد پیدا ہونے والے اِضطراب کا اظہار پنجاب کی جاندار ادبی اور لوک روایت کا حصہ ہے۔ ابتدا میں گاؤں دیہاتوں کی طرف سے عمومی حمایت کے بعد بتدریج اس جنگ کی مخالفت بڑھتی گئی۔ پنجابی عورتوں کے گیت جنگ سے بیزاری کا ثبوت ہیں۔ یہ گیت سرکاری طور پر گھڑے گئے جنگجو نسل کے طلسم کو بھسم کر دیتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کو تقویت دیتے ہوئے شانتانو داس کچھ خطوط۔ کا حوالہ دیتے ہیں۔

مثلاً، مئی 1915 میں وہ پہلا تنبیہی خط ملتا ہے کہ جس میں حوالدار عبدالرحمن نے فرانس سے اپنے بھائی کو لکھا کہ خدارا فوج میں بھرتی نہ ہونا۔ اسی دوران ادبی تخلیقات میں جنگ اور کٹے ہوئے، کچلے جسموں کی کہانیوں نے بھی جنگ مخالف جذبات کو مزید ابھارا۔ رفتہ رفتہ وہ تمام محرکات جو فوج میں شمولیت کی وجہ تھے، بے اثر ہوتے گئے۔

 1917 سے یہ شواہد ملنا شروع ہو جاتے ہیں کہ بھرتی کے لیے روایاتی طریقوں کے ساتھ ساتھ زور زبردستی کا استعمال بھی شروع ہو چکا تھا۔ اور 1918 کے بعد سے دباؤ ہی بھرتی کا اہم ترین ذریعہ تھا۔

سرکارِ برطانیہ نے تمام انتظامی، معاشرتی اور ابلاغی وسائل بشمول مذہبی علما، لوک فنکار اور برادری کو بروئے کار لاتے ہوئے بھرتی کے عمل کو جدید خطوط پر استوار کر دیا تھا۔ اس میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ذیلدار کو نوجوانوں کی ایک مخصوص تعداد بھرتی کرنا ہوتی تھی ورنہ اسے پانی کی بندش اور ہرجانے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

بڑے زمینداروں نے سزا سے بچنے کے لیے نوجوان خریدنے اور لوگوں نے اپنے بیٹے چھپانے شروع کر دئیے تھے۔ مقررہ تعداد پوری نہ ہونے کی صورت میں اکثر عورتوں سے بد سلوکی کی جاتی اور بعض علاقوں میں انہیں اٹھا لیا جاتا تھا۔ ان حالات میں لوگ کبھی بھرتی والے عملے پر حملہ کر دیتے یا کسی اہلکار کو قتل کر دیتے۔

اس کتاب کے مصنف شانتانو داس کہتے ہیں کہ بہت سے ممالک اپنے نوآبادیاتی ماضی کو محفوظ کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ اس مسئلے کو حل کرتے ہوئے شانتانو داس نے محض کتابی حوالوں یا ریکارڈ شدہ واقعات پر انحصار کرنے کی بجائے لوگوں سے براہِ راست معلومات حاصل کیں۔ بہت سے فوجیوں کے رشتہ داروں کو تلاش کیا اور ان ممالک کی آرکائیوز سے بھی مستفید ہوئے جن کی تاریخ ایسے ممالک کی تاریخ سے میل کھاتی تھی۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال کا سامنا انہیں پنجاب سے بڑی تعداد میں بھرتی کیے گئے ان مسلمان سپاہیوں کے حوالے سے کرنا پڑا جن کا تعلق موجودہ پاکستان کے علاقوں سے تھا۔ شانتانو داس نہیں جانتے کہ ان کی یادداشتیں، خطوط، اور دیگر مواد کسی مربوط نظام کے تحت کہیں آرکائیوز میں محفوظ ہے یا نہیں۔ لہٰذا، ان سپاہیوں کے تذکرے کے لیے انہوں نے دوسرے ممالک، بالخصوص، برطانیہ کی آرکائیوز پر انحصار کیا ہے۔

کتاب کا پہلا حصہ ہندوستان کے اندرونی حالات، سیاسی اضطراب نیز سلطنتِ برطانیہ اور ہندوستانیوں کے تعلق میں کشمکش کے بارے میں بتاتا ہے۔ اس وقت ہندوستان میں پہلی عالمی جنگ میں شمولیت کی سیاسی افادیت کے حوالے سے بحث زوروں پر تھی۔ ہندوستانی برطانوی راج کے ہوتے ہوئے ایک ایسے تشخص کی تلاش میں کوشاں تھے جو ان کے ہندوستانی اور مذہبی تشخص پر فخر کا باعث ہو اور سلطنتِ برطانیہ کو بھی بآور کروائے کہ وہ انگریز سے برابری کے مستحق ہیں۔

اسی حق کی جستجو اور عسکری خدمات کے صلے میں جزوی یا کلی خود مختاری کے لیے تمام ہندوستان میں جنگی بھرتی کی حمایت میں اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے بڑھ چڑھ کر تقاریر کیں۔ کبھی روپیہ پیسہ بھرتی ہونے کی وجہ بنا تو کبھی آزادی کی امید، کہیں جنگ مذہبی ذمہ داری بنی تو کہیں ’گورا لوگ‘ پر اپنی بہادری کی دھاک بٹھانے کی خواہش نے جنگ میں شمولیت کو قومی وقار کا مسئلہ بنا دیا۔ مختلف ریاستوں کے والیان،  قوم پرست سیاستدانوں اور اخبار و رسائل نے بھی اس بھرتی کی حمایت کی۔ فوج میں ہندوستانیوں کی بھاری تعداد کو نسلی مساوات کی طرف پہلا قدم سمجھا گیا۔ شانتانو داس کہتے ہیں کہ ویسٹ انڈیز سے آسٹریلیا تک برطانیہ کی تمام نوآبادیوں کی جنگ میں شمولیت کی ایک وجہ مشترک تھی اور وہ یہ کہ جنگی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی نسلی برابری ثابت کی جائے۔

کتاب کا دوسرا حصہ نسلی تفریق اور مغربی ثقافت میں اس کی تصویر کشی کے بارے میں ہے۔ شانتانو داس کے مطابق ہندوستانی سپاہی کا ذکر یورپی تہذیب کے ایوانوں میں ایک ہلچل پیدا کرتا ہے۔ دستیاب یورپی ذخیرہ الفاظ میں اس کا تذکرہ ممکن نہیں تھا۔ شانتانتو داس اس صورتِ حال کی وضاحت کرتے ہیں کہ جب ایک جنگی تصویر پوسٹ کولونیل کے قالب میں ڈھل جاتی ہے تو اس کے پسِ پردہ نسل پرستی، سامراجی استحصال اور جنگی حکمتِ عملی کار فرما ہوتی ہے۔ سلطنتِ برطانیہ نے بیشتر جنگی تصاویر پروپیگنڈا کے لئے استعمال کی تھیں۔ مثلاً، یائپرز (بلجئیم) کی دوسری جنگ کے دوران جب ہندوستانی فوجیوں کا زہریلی گیس سے واسطہ پڑا تو انہیں اپنی پگڑیوں کو پیشاب سے بھگو کر اپنی آنکھوں اور منہ پر رکھنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن جو تصویر ہندوستان اور باقی نوآبادیوں میں دکھائی گئی وہ جنگی مشق کی تھی جس میں سپاہی گیس ماسک پہنے ہوئے تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حقیقت کو جھٹلاتی ایسی تصاویر برطانیہ میں دکھانے کی اجازت نہیں تھی۔

مصنف شانتانو داس لکھتے ہیں کہ رڈیارڈ کپلنگ کے مطابق ہندوستانی سپاہی یہ سمجھتے تھے کہ انگریز قوم فطرتاً انسانی برابری پر یقین رکھتی ہے۔ لیکن وہ کپلنگ کے اس دعوے کا موازنہ انگریز افسروں کی ڈائریوں سے کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان ڈائریوں میں ہندوستانی سپاہیوں کی وفاداری کا ذکر ہے اور ان سے روا رکھے گئے سلوک کا بھی۔ لیکن اس برتاؤ کو ان کا مجموعی مزاج نہیں بلکہ چند بد دماغ افسروں کا رویہ سمجھا جاتا تھا۔ تضاد یہ تھا کہ جو افسر خود کو نسل پرست نہیں سمجھتے تھے وہ بھی ایک انگریز افسر کو ایک زخمی ہندوستانی سپاہی سے زیادہ سہولیات اور توجہ کا مستحق گردانتے تھے۔

کتاب کا تیسرا حصہ ہندوستانی فوجیوں کے بارے میں دستیاب حقائق اور ان کی اپنی تحریروں کے ذریعے ان کی قلبی کیفیات بیان کرتا ہے۔ جہاں ہندوستانی سپاہیوں کی دلیری قابلِ داد تھی، وہیں خاموش مزاحمت کے واقعات بھی ملتے ہیں۔ ایک طرف صوبیدار خداداد خان ہیں، وکٹوریہ کراس پانے والے پہلے ہندوستانی، جو تن تنہا شدید زخمی حالت میں بھی مشین گن سنبھالے لڑتے رہے۔ دوسری طرف وہ سپاہی ہیں جو پہلے ہفتے ہی خود کو زخمی کر کے، پاگل ہونے کا سوانگ بھر کے یا اپنے جسم پر بیماری کے نشان پیدا کر کے ہندوستان واپس جانے کی کوشش کرتے تھے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود جنگ کے دوران کوئی بغاوت ہوئی اور نہ بڑے پیمانے پر فرار کی کوشش، بلکہ ہندوستانی فوجیوں نے گیارہ وکٹوریا کراس حاصل کئے۔

شانتانو داس سپاہیوں کے خطوط میں جذبات اور کیفیات کے اظہار کے ادبی پہلوؤں، نفسیاتی بنت، اور طرزِ بیان کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان سپاہیوں نے محبت اور رشتوں، طلوع و غروبِ آفتاب کے رنگوں اور جنگ کی تباہ کاریوں کو کیسے محسوس کیا تھا۔ ان خطوط میں حیرت بھی ہے، تجسس بھی، جوش بھی ہے اور خوف بھی، یورپ کی مدح بھی ہے اور ہندوستان کے لیے تڑپ بھی۔ جب جنگ پر تنقید کی وجہ سے خطوط کے بہت سے حصے حذف کیے جانے لگے تو سپاہی اپنے ثقافتی استعاروں کا سہارا لے کر اپنا مدعا بیان کرنے لگے جیسے ایک سپاہی نے خود کو بُلبُل سے تشبیہ دے کر اپنا دکھ سپردِ قلم کیا۔

سپاہیوں کو لکھے خطوط کا ایک نمونہ ایک کم سن پنجابی بچی، کشن دیوی کا  اپنے باپ کے نام خط ہے۔ اس کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ ان سپاہیوں سے ان کے چاہنے والوں نے کتنی محبت کی تھی اور کیسے محاذ سے آیا ایک خط ہزار اندیشوں کے بعد ہی کوئی خوشی کی خبر دیتا تھا۔ معصوم دعاؤں اور التجاؤں میں لپٹی لاچاری بتاتی ہے کہ فن کی نفاست اور اظہار کے تکلف میں ڈھلا عالمی ادب کا بہترین مرثیہ ایک بے بس کی دہائی کے سامنے ہیچ ہے۔

کتاب کا آخری حصہ، ہندوستان کے ادیبوں اور شاعروں کے عالمی جنگ کے بارے میں تاثرات کا تجزیہ پیش کرتا ہے۔ شانتانو داس ملک راج آنند کے ناولوں کو فرانز فانوں اور اشیش نندی کے تنقیدی خیالات کا پیش رو سمجھتے ہیں۔ آنند کی تحریروں میں انگریزوں کے رویوں میں شدید عدم مساوات اور ہندوستانیوں کے بااختیار مقام پر پہنچنے کے بعد ظلم کی روش اپنانے کی منظر کشی اس بات کی دلیل ہے کہ آنند طاقت کے مذموم اثرات کا ادراک رکھتے تھے۔ خواہ وہ برطانوی سامراج کی بنیادوں میں ہوں، پنجاب کے جاگیرداروں کی فطرت میں، یا نان کمشنڈ ہندوستانی آفیسرز کے دماغ میں۔

شانتانوداس اس بات پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے دوران انہیں ایسے واقعات کا علم تو ہوا کہ ہندوستانیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر کسی انگریز کی جان بچائی لیکن انہیں ایک بھی ایسی مثال نہیں ملی کہ جس میں کسی انگریز نے ایسا کیا ہو۔

شانتانو داس کی کتاب بتاتی ہے کہ یہ سپاہی عام انسان تھے جو فوجی نظم و ضبط اور وردیوں کے تلے بقا و فنا، رشتوں ناطوں، رسموں رواجوں، محبتوں اور نفرتوں کی گنجلک ڈوریں سلجھانے میں الجھے ہوئے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسانی زندگی کے غالب عنصر یعنی اس کی بے ثباتی کو سمجھا جائے بہ نسبت جنگ کی عظمت کے گن گائے جائیں اور سپاہیوں کو مافوق الفطرت مخلوق بنا کر پیش کیا جائے۔

محقق کی جانفشانی، نقاد کی باریک بینی، مصور کی نظر اور شاعر کے احساس سے لکھی یہ کتاب ہر پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلہ دیشی تاریخ کے طالب علموں کے لیے باعثِ دلچسپی ہو گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ادب