7 ہفتے میں 200 جنازے: نیویارک کا نیا ہیرو ایک پاکستانی امام

کرونا کی وبا میں ایک پاکستانی امام نیویارک کے مسلمانوں کے لیے ہیرو کے روپ میں سامنے آئے ہیں، جو خود بھی اس وائرس کا شکار ہونے کے باوجود اب تک دو سو جنازے پڑھا چکے ہیں۔

امام احمد علی کی خدمات کو امریکی حکام نے بھی سراہا ہے (تصویر: احمدعلی)

مارچ کے چوتھے ہفتے میں نیویارک سٹی میں 18 ہزار کے قریب کرونا (کورونا) کیسز سامنے آتے ہیں اور تقریباً 200 کے قریب لوگ جان سے چلے جاتے ہیں۔ یہی وہ دن ہیں جب شہر میں تجہیز و تکفین کے فرائض ادا کرنے والے مسلم فیونرل ہومز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہوتی ہے۔

اس دوران ایک پاکستانی امام سامنے آئے جو سات ہفتوں میں 200 سے زیادہ جنازے پڑھا کر ہیرو کہلائے جا رہے ہیں۔ امام احمد خود بھی کرونا کا شکار ہوئے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس وبا کے باعث ہلاک ہونے والے ایسے افراد کی آخری رسومات بھی ادا کیں جن کے اپنے خاندان والے ان کے قریب آنے سے ڈرتے تھے۔  

نیویارک شہر میں مسلمانوں کے چھ فیونرل ہومز ہیں اور ہر فیونرل ہوم ہر مہینے 15 سے 20 افراد کی آخری رسومات ادا کرتا ہے، لیکن کرونا کے بعد اچانک مرنے والوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔ شہر کی تقریباً 84 لاکھ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد پونے آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں سے پاکستانی ایک لاکھ کے قریب ہیں۔

مسلم فیونرل ہومز کے لیے کئی طرح کے چیلنج ہیں۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس غیر معمولی صورت حال میں میتوں کو غسل کون دے، ان کا جنازہ کون پڑھائے اور پھر ان کی تدفین کون کرے؟ مساجد کے وہ امام جو عمومی صورت حال میں پیش پیش ہوتے تھے، اب کرونا کے ڈر سے گھروں میں بند ہو چکے ہیں۔ مرنے والوں کے عزیز رشتہ دار اور احباب تو درکنار خاندان والے بھی خوف و ہراس میں مبتلا ہیں۔ ایسے میں ’منی پاکستان‘ کہلائے جانے والے نیویارک کے علاقے کونی آئی لینڈ ایونیو میں قائم ’الریان مسلم فیونرل ہوم‘ میں ایک 37 سالہ پاکستانی نوجوان امام احمد علی کو فون کرتا ہے اور ان سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس غیر معمولی صورت حال میں ان کی مدد کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

احمد علی ٹیکسی چلاتے ہیں اور اس کے ساتھ بروکلین میں ایک ترک مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ان کا تعلق اسلام آباد سے ہے اور وہ 2005 میں امریکہ گئے تھے۔ نیویارک پولیس میں اعزازی طور پر آبزرور سارجنٹ کے علاوہ مسلم کمیونٹی کے لیے چیف چیپلن بھی ہیں۔ کرونا کی وبا میں وہ نیویارک میں ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ جب فیونرل ہومز کو ایک ایک دن میں اتنے افراد کی تدفین کرنی پڑی جتنے اس سے پہلے وہ مہینے بھر میں کرتے تھے تو یہ چیلنج پورا کرنے میں انہیں جس شخص کی غیر معمولی مدد حاصل رہی وہ امام احمد علی ہیں۔

امام احمد علی نے نیویارک سے انڈپینڈنٹ اُردو کو ٹیلی فون پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’جس روز مجھے کرونا کے پہلے مریض کا جنازہ پڑھانے اور تدفین کے لیے فیونرل ہوم سے کال آئی تومیرے گھر والوں نے مجھے اس کام سے روکا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح میں اپنی اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالوں گا۔‘

’مگر میں نے کہا کہ یہ اسلامی فریضہ ہے جس سے انکار کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ ایک ڈر اور خوف میرے اندر بھی موجود تھا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے حوصلہ دیا۔ شروع میں ایک دن میں تین چار جنازے پڑھائے جن میں سے ایک آدھ کی تدفین بھی کرنی پڑی مگر چند ہی دنوں میں یہ تعداد 20 سے زیادہ افراد تک پہنچ گئی۔ آٹھ روز بعد مجھے بخار ہو گیا جس میں درد اور کرونا والی دوسری علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔‘

’میں نے گھر میں خود کو علیحدہ کر لیا مگر لوگوں کی تدفین کا عمل ترک نہیں کیا۔ میں بیماری کی حالت میں بھی جاتا رہا۔ ایک ہفتے بعد میری بیماری ٹھیک ہو گئی تو میں پہلے سے بھی زیادہ مذہبی جذبے سے اپنے فرائض ادا کرنے لگا۔ یہ غیر معمولی صورت حال تھی۔ مرنے والوں کے گھر کے افراد بھی آخری فرائض میں شریک ہونے سے ڈرتے تھے۔ مرنے والوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا تھا۔ بعض جنازے تو ایسے بھی پڑھائے جن میں جنازہ پڑھنے والا میں اکیلا ہی تھا۔ گذشتہ سات ہفتوں میں دو سو کے قریب جنازے پڑھائے جن میں سے 170 کے قریب کی تدفین بھی مجھے ہی کرنی پڑی۔ 70 سے زائد میتوں کو غسل بھی دے چکا ہوں اور یہ کام دن رات جاری رکھا یعنی دفنایا تو دن کو ہی جاتا تھا لیکن میتوں کو فیونرل ہوم پہنچانا اور ان کے جنازے پڑھانے کا عمل دن رات جاری رہتا تھا۔ ا س دوران آرام کا وقت بھی کم ملتا۔ پانچ چھ ایسی میتوں کی بھی تجہیز و تکفین کی جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا، بس یہ معلوم تھا کہ یہ مسلمان تھے۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہیں فیونرل ہوم اس کا کوئی معاوضہ بھی ادا کرتا ہے تو انہوں نے بتایا: ’لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں فارغ تھا کہ اللہ نے مجھ سے یہ کام لے لیا جو بلا معاوضہ اور صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔ میں آج خود کو بہت مطمئن محسوس کرتا ہوں کہ مشکل کی اس گھڑی میں اللہ نے مجھ سے کمیونٹی کی خدمت کا کوئی کام لیا ہے۔‘

آفاق فاروقی نیویار ک میں ایک مقامی پاکستانی اخبار کے ایڈیٹر ہیں اور گذشتہ 30 سال سے صحافت سے منسلک ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’نیویارک میں تجہیز و تکفین ایک مہنگا عمل ہے جہاں مرنے والے کی آخری رسومات کی ادائیگی پر چھ ہزار ڈالر تک خرچ آتا ہے۔ جبکہ اگر مرنے والے کی تدفین شہر کی بجائے ساتھ ہی دوسرے شہر جرسی سٹی میں کی جائے تو یہ خرچ کم ہو کر 3600 ڈالر رہ جاتا ہے۔ کرونا سے پہلے بھی کم و بیش یہی خرچ تھا، اس میں اضافہ نہیں ہوا مگر فیونرل ہومز کے لیے چیلنج اس طرح بڑھ گیا کہ پہلے جتنے لوگوں کی تدفین وہ مہینے میں کرتے تھے اب روزانہ اس سے زیادہ کی تدفین کرنی پڑتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’میرے اکٹھے کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق کرونا سے گذشتہ سات ہفتوں میں نیویارک میں ساڑھے پانچ سو سے زائد پاکستانیوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ مسجدوں کے جو امام عمومی حالات میں جنازہ پڑھانے میں پیش پیش ہوتے تھے انہوں نے بھی حیلے بہانے شروع کر دیے۔ ان حالات میں نوجوان پاکستانی امام احمد علی کی خدمات کو مسلم کمیونٹی سے باہر شہر کی انتظامیہ بھی سراہنے لگی ہے اور میڈیا نے انہیں ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے۔‘

امام احمد علی کے تین بیٹے ہیں۔ بڑا بیٹا 15 سال کا ہے اور وہ بھی مسجد میں جمعے کا خطبہ انگریزی میں دیتا ہے۔ امام احمد علی کو صوفی ازم میں دلچسپی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ترک مسلمانوں کی اقرا مسجد نے احمد علی کو امامت کی ذمہ داریاں دی ہوئی ہیں۔

احمد علی تونسہ شریف سے بیعت پر ہیں اور امریکہ میں ان کے خلیفہ بھی ہیں۔ وہ پہلے بھی کمیونٹی میں ایک متحرک مذہبی شخصیت کے طور پر موجود رہتے تھے مگر اس بحرانی دور میں وہ ایک ایسے ہیرو کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کی سوشل میڈیا پر تعریف توصیف میں نیویارک کے کونسل ارکان بھی شامل ہیں۔

امام احمد علی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ وہ اس کے علاوہ اور کیا کچھ کرتے ہیں؟ تو انہوں نے خوش دلی سے جواب دیا کہ ’پیدائش سے لے کر تدفین تک وہ سار ے کام کرتا ہوں۔ بچے کے کان میں پہلی اذان دیتا ہوں، جب وہ جوان ہوتا ہے تو اس کا نکاح بھی پڑھاتا ہوں۔ میں شہر کا رجسٹرڈ میرج آفیسر ہوں، جب ان کی آپس میں نہ بنے تو انہیں علیحدگی میں بھی میری مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور ان حالات میں ان کے جنازے پڑھانے سے لے کر ان کی قبر پر مٹی ڈالنا بھی میرے فرائض میں شامل ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا