دنیا میں کل کتنا سونا موجود ہے اور اس کی مالیت کیا ہے؟

دنیا میں اب تک کل جمع شدہ سونے کو ایک جگہ اکٹھا کر کے اس کا وزن کیا جائے تو کتنا نکلے گا؟

(پکسا بے)

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق پچھلے پانچ ہزار سال سے زمین کو کھود کر نکالے جانے والا اور دریاؤں کی ریت کو چھان کر اکٹھے کیے جانے والے اس سونے کا کل وزن دو لاکھ 44 ہزار ٹن کے قریب ہے۔

اس سونے کی کل قیمت کتنی بنتی ہے؟

آج پاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ دو ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 54.62 ڈالر فی گرام ہے۔ ہم نے دنیا کے کل سونے کا حساب کرنا تھا اس لیے عالمی قیمت رکھی۔ اس کے بعد جو حساب شروع ہوا تو وہ کھنچتا ہی چلا گیا۔ کیلکولیٹر سے مدد لی تو اس نے بھی ہاتھ جوڑ کیے کہ بھائی 13 ہندوسوں سے بڑی رقم میرے بس کی بات نہیں۔ آخر کمپیوٹر سے مدد لی تب کہیں جا کر بات بنی۔

تو سنیے کہ آج سونے کی قیمت تقریباً 54 ڈالر فی گرام ہے۔ اگر اسے دنیا کے کل سونے سے ضرب دی جائے تو جو جواب آتا ہے اس کا احاطہ کرنا انسانی عقل کی سکت سے باہر ہے۔ لیکن آپ کی خاطر جواب حاضر ہے، جگر تھام کر پڑھیے:

13310200000000 ڈالر

سادہ لفظوں میں یہ 133 کھرب ڈالر بنتے ہیں، جو پاکستان کے 302 بجٹوں کے برابر ہے!

اگر اس سونے کو پگھلا کر ایک مکعب یا کیوب بنا جائے تو اس کی لمبائی چوڑائی کیا ہو گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سوال کا جواب اس تحریر کے آخر میں پڑھیے، فی الحال ہم آپ کو بتائیں گے کہ سب سے زیادہ سونا کس ملک کے پاس ہے؟ اس سوال کا جواب ہے، امریکہ، جس کے پاس 8133 ٹن سونا موجود ہے، جب کہ دوسرے نمبر پر جرمنی ہے جس کے سونے کا کل وزن 3362 ٹن ہے۔

ورلڈ گولڈ کونسل کی اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 42واں ہے اور یہاں 64.4 ٹن سونا موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارت بڑی معیشت کے ساتھ پاکستان سے کہیں اوپر ہے، اور 676 ٹن سونے کے ساتھ نویں نمبر پر براجمان ہے۔

اوپر دیے گئے چارٹ کے مطابق سونے کا زیادہ تر استعمال زیورات یا سرمایہ کاری میں ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سونے کا کوئی عملی مصرف نہیں۔ آپ اس وقت اس تحریر کو جس موبائل یا کمپیوٹر پر پڑھ رہے ہیں، اس میں بھی سونے کا استعمال ہوا ہے کیوں کہ سونا تقریباً کسی بھی دھات سے بہتر کنڈکٹر ہے۔ البتہ یہ سونا اتنی کم مقدار میں ہوتا ہے کہ اس کی قیمت چند سو روپے سے زیادہ نہیں ہو گی۔ 

اس کے علاوہ ٹیلی ویژن، جی پی ایس سیٹ، اور خلائی جہازوں اور دوسرے الیکٹرانکس میں بھی سونا استعمال ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ کئی ادویات میں بھی سونا استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر گٹھیا (آرتھرائٹس) کے علاج کے لیے۔

یہ تو وہ سونا ہے جسے حاصل کیا جا چکا ہے۔ لیکن دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلسل سونے کی کھدائی جاری ہے۔ مائننگ ڈاٹ کام کے مطابق اس فہرست میں چین سب سے اوپر ہے جو ہر سال 404 ٹن کے قریب سونا زمین سے حاصل کر رہا ہے۔

لیکن زمین کے اندر موجود سونے کی مقدار لامحدود نہیں ہے، اور اگر اس کی کھدائی جاری رہی تو ایک دن آئے گا کہ تمام سونا ختم ہو جائے گا۔

تو سوال یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کل کتنا سونا باقی رہ گیا ہے؟

اس کا جواب آسان نہیں اور یہ نئی معلومات کی روشنی میں یہ ہندسہ بدلتا رہتا ہے۔ گولڈ ڈاٹ اورگ نامی ویب سائٹ کا تخمینہ ہے کہ اس وقت زمین کے دامن میں مزید 54 ہزار ٹن سونا باقی ہے، یعنی کل کھدائی شدہ سونے کے 22 فیصد کے لگ بھگ۔

دوسرے لفظوں میں دنیا میں جتنا سونا پایا جاتا ہے، انسان اب تک اس کا 78 فیصد کھود کر کے اسے تجوریوں میں بھر چکا ہے۔ 

اب آ جاتے ہیں اس سوال کی طرف کہ اگر دنیا کا تمام جمع کردہ سونا پگھلا کر ایک مکعب بنایا جائے تو اس کی لمبائی چوڑائی کیا ہو گی؟

اور جواب ہے کہ اس دو لاکھ 44 ہزار ٹن سونے سے بنایا گیا مکعب 92 ضرب 92 فٹ بنے گا۔ یہ اونچائی تقریباً ایک چھ منزلہ عمارت کے قریب ہے۔

شاید کچھ لوگوں کو یہ مکعب تھوڑا چھوٹا لگے، لیکن یہ یاد رکھیے کہ سونا بہت بھاری دھات ہے، یعنی لوہے سے تین گنا وزنی۔ اسی لیے کسی فلم میں چور کو سونے کی اینٹوں سے بھرا سوٹ کیس لیے بھاگتے دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ جھوٹ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین