جب رشی کپور نے اپنا پہلا ایوارڈ 30 ہزار روپے میں خریدا

فلم ’بوبی‘ کے 43 سال بعد رشی کپور نے اپنی آپ بیتی میں ایسا انکشاف کیا جس نے فلمی حلقوں کو چونکا کر رکھ دیا۔

رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ کی نئی جوڑی نے ہلچل مچا دی (آر کے فلمز)

(گذشتہ برس 30 اپریل کو چل بسنے والے اداکار رشی کپور کی پہلی برسی پر خصوصی تحریر)

ہدایت کار اور اداکار راج کپور نے بڑی امیدوں کے ساتھ ’میرا نام جوکر‘ تخلیق کی تھی۔ فلم کے لیے رقم پانی کی طرح بہائی گئی۔ بہترین کیمرامین کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اداکاروں کو بھی منہ مانگا معاوضہ دیا گیا اور اس بڑے بجٹ کی فلم کے لیے راج کپور نے اپنا تمام سرمایہ جھونک دیا۔

بڑے ارمانوں کے ساتھ چھ سال کے طویل عرصے کے بعد ’میرا نام جوکر‘ جب 1970 میں سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش ہوئی تو ارمانوں پر پانی پھر گیا۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ راج کپور قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے۔ بالی وڈ کے شومین کہلانے والے راج کپور اس قدر مالی بحران سے دوچار ہوئے کہ کہ گھر کی قیمتی چیزیں فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

ممکن ہے کہ کوئی اور ہدایت کار یا پروڈیوسر ہوتا تو کانوں کو ہاتھ لگا کر ہمیشہ کے لیے فلم سازی سے توبہ کرلیتا لیکن راج کپور نے اس ناکامی کو گلے کا ہار بنانے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اپنی روایتی سماجی اور موضوعاتی کہانیوں سے ہٹ کر انہوں نے یہ جائزہ لیا کہ اس وقت فلم بینوں کو کس طرح کی فلم کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خوب مشاہدے کے بعد یہ اندازہ لگایا کہ بطور ہیرو ان کا دور لد چکا ہے۔ نئے زمانے کی نئی ہوا کے تحت اب انہیں نوخیز چہروں کے ساتھ اپنا پرانا فارمولا استعمال کیا جائے تو پانسہ پلٹ سکتا ہے۔ راج کپور کا پرانا فارمولا یہ تھا، سیکس کا تڑکا اور موسیقی ایسی کہ دھنیں گلی گلی گونجنے لگیں۔ راج کپور کو اندازہ تھا کہ اگر یہ فارمولا کامیاب ہو گیا تو اس کے ذریعے اتنا پیسہ کمایا جا سکتا ہے، کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم میرا نام جوکر کے قرضے ہی ادا ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک کنواں بھرنے کے لیے راج کپور نے دوسرے کو کھودنے کی تیاری پکڑ لی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرمایہ کی کمی تھی، اس لیے بڑی مشکل سے ادھر سے پیسے پکڑ کر چھوٹے بجٹ پر فلم کا منصوبہ شروع ہوا۔ خرچہ مزید بچانے کے لیے اور اس لیے بھی کہ گھر کی بات گھر میں رہے، ہیرو کے طور پر انہوں نے نے اپنے منجھلے بیٹے رشی کپور کو منتخب کیا جو ’میرا نام جوکر‘ میں راج کپور کے بچپن کا کردار ادا کر کے فلم نگری میں قدم رکھ چکے تھے۔

اس وقت رشی کپور کی عمر بمشکل 21 سال تھی، لیکن ایک دقت تھی۔ ان کا وزن ضرورت سے تھوڑا زیادہ تھا اور چلبلے نوجوان کے روپ میں وہ جچ نہیں رہے تھے۔ اس لیے سب سے پہلا مرحلہ تو یہ آیا کہ رشی کپور نے ہیرو نظر آنے کے لیے اپنا وزن کم کرنے کے لیے سخت محنت کی اور اس میں کامیاب رہے۔

راج کپور نہیں چاہتے تھے کہ بالکل نئے نویلے ہیرو کے ساتھ کوئی پرانی ہیروئن آئے، اور ویسے بھی کوئی مشہور ہیروئن فیس بھی اسی حساب سے لیتی، اس لیے انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کے لیے کئی نوخیز لڑکیوں کے آڈیشن لیے، جن کے بعد قرعہ ڈمپل کپاڈیہ کے نام نکلا۔

امیر اور غریب کی محبت کے گرد گھومتی خواجہ احمد عباس کی پیاری بھری کہانی پر مبنی ’ بوبی‘ جب 1973 میں سنیما گھروں میں سجی تو اس نے اندازے سے کہیں بڑھ کر تہلکہ مچا دیا۔ ویسے تو راج کپور 1949 ہی سے موسیقاروں کی جوڑی شنکر جےکشن پر تکیہ کیے ہوئے تھے، لیکن لتا منگیشکر سے ان کی ان بن کی وجہ سے طوعاً و کرہاً لکشمی کانت پیارے لال پر اکتفا کرنا پڑی۔ ان کے ترتیب دیے ہوئے گیت ہر ایک کے لبوں پر گونجنے لگے۔ کون ہو گا جس نے ’ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں،‘ ’میں شاعر تو نہیں،‘ ’جھوٹ بولے کوا کاٹے‘ جیسے گیت سن کر سر نہ دھنا ہو۔

ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہونے والی اس فلم کی نمائش سے پہلے ہی ڈمپل کپاڈیہ راجیش کھنہ کی شریک سفر بن گئیں یوں رشی کپور کو تن تنہا اس فلم کی کامیابی کا سب زیادہ فائدہ پہنچا۔

رشی کپور ’بوبی‘ کے ذریعے بھارتی فلموں کے نئے سپر سٹار کا درجہ حاصل کرگئے۔ ہر جانب ان کا چرچا تھا جبکہ مالی بحران سے دوچار راج کپور ’بوبی‘ کے کھڑکی توڑ کاروبار کی بنا پر اس پوزیشن پر آ گئے کہ اگلے پچھلے سارے حساب چکا دیے۔

باکس آفس پر کمائی تو ایک طرف رہی، ناقدین نے بھی فلم کو بہت پسند کیا جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے برس ہونے والے فلم فیئر ایوارڈز میں ’بوبی‘ کے لیے 14 نامزدگیاں ہوئیں۔ جن میں سے پانچ میں یہ فلم سرخرو ہوئی۔

رشی کپور اور ڈمپل کپاڈیہ کو بہترین اداکار اور بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا تو دونوں کو لگا جیسے ان کے خوابوں کی تکمیل مل گئی۔ رشی کپور نے امیتابھ بچن کو ’زنجیر ،‘ دھرمیندر کو ’ یادوں کی برات ،‘ راجیش کھنہ کو ’داغ‘ اور سنجیو کمار کو ’کوشش‘ میں بہترین اداکاری دکھانے کے باوجود پیچھے چھوڑ کر اپنے لیے ایوارڈ کا حصول آسان بنایا۔ ہر جانب بس واہ واہ تھی تو رشی کپور کی اور پھر رشی کپور پر فلموں کی برسات ہونے لگی اور طویل عرصے تک وہ رومنٹک فلموں کے آئیڈل ہیرو تسلیم کیے گئے۔ ڈمپل سے لے کر کئی اور نئی اداکاراؤں نے رشی کپور کے ساتھ اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

کوئی 43 سال کا عرصہ بیتا تو رشی کپور نے ایک ایسا انکشاف کیا، جس نے ان کے کیرئیر کو داغ دار ضرور کیا لیکن ساتھ ساتھ اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ انہوں نے دیر سے صحیح کم از کم سچائی کا تو سہارہ لیا۔ ہوا کچھ یوں کہ جب 2017 میں ان کی آب بیتی پر مبنی کتاب ’کھلم کھلا ان سینسرڈ‘ ریلیز کی گئی تو رشی کپور نے اس میں یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے ’بوبی‘ کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ 30 ہزار روپے (آج کے نو لاکھ بھارتی روپے) میں خریدا تھا۔

رشی کپور کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان تھے، ناسمجھ بھی، جنہیں پل بھر میں شہرت ملی تو کچھ سمجھ نہیں آیا، کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ انہیں رقم کے عوض بہترین اداکار کا ایوارڈ دلا سکتا ہے تو بغیر سوچے سمجھے انہوں نے اس پیش کش کو قبول کر لیا۔ ان کے مطابق ایوارڈ کو ’ لگژری‘ سمجھ کر ہی انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔

رشی کپور نے اعتراف کیا کہ انہوں نے کسی حق دار کا حق مارا، جس پر انہیں شرمندگی ہے لیکن یہ ان کی زندگی کی وہ بھول یا چوری ہے، جس کو تسلیم کرکے انہوں نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا۔ مختلف ٹی وی انٹرویوز میں جب رشی کپور کو کریدا گیا کہ کہیں یہ ایوارڈ فلم فیئر تو نہیں تھا تو یہاں چنٹو بابا نے غیر معمولی مصلحت پسندی کا سہارہ لیتے ہوئے ایوارڈ کون سا تھا، بتانے سے گریز کیا لیکن فلم تجزیہ کاروں کے مطابق 1974 میں رشی کپور کو صرف ’بوبی‘ پر ہی بہترین اداکار کا اکلوتا فلم فیئر ایوارڈ ملا تھا، جبکہ رشی کپور یہ بھی کہتے رہے کہ وہ امیتابھ بچن سے خاصے شرمندہ ہیں۔

اس حوالے سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ امیتابھ بچن ’زنجیر‘ کے لیے ایوارڈ کے مضبوط امیدوار تھے۔ رشی کپور کا امیتابھ بچن کا نام لے کر بار بار اعتراف جرم بھی اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایوارڈ کوئی اور نہیں فلم فیئر ہی تھا۔ رشی کپور تو دلچسپ بات یہ بھی بتاتے رہے کہ ہو سکتا ہے جس شخص کو انہوں نے 30 ہزار روپے دیے ہوں، وہ اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ رشی کپور کو ہی ایوارڈ ملنے والا ہے، لہٰذا اس نے موقعے کا فائدہ اٹھا کر اتنی بڑی رقم ’پیشگی اطلاع ‘ رکھنے کی بنا پر اُن سے ٹھگ لی۔ رشی کپور کو یہ بھی خدشہ تھا کہ ممکن ہے یہ رقم منتظمین تک کبھی پہنچی بھی نہ ہو۔ یہ بھی حسین اتفاق ہے کہ رشی کپور کو اب تک بہترین اداکار پر جس فلم کے لیے پہلی اور آخری دفعہ فلم فئیر ایوارڈ ملا وہ ’بوبی‘ ہی تھی۔

بعد میں انہوں نے کئی فلموں میں اچھی اداکاری کے جوہر دکھائے لیکن بدقسمتی سے ایوارڈ سے محروم رہے۔ البتہ 2011 میں ’دو دونی چار‘ کے لیے کرٹیک ایوارڈ برائے بہترین اداکار اور 2017 میں ’کپور اینڈ سنز‘ پر وہ معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم