جب ایک ہی فلم کی دو ہیروئنوں پر جیا بچن کی آواز استعمال ہوئی

پروڈیوسر اور ہدایت کار رمیش بہل کو رشی کپور کی دو ہیروئنوں کے لیے تیسری آواز درکار تھی۔

ہیرو ایک ہیروئنیں دو، یہ وعدہ رہا (روز موویز)

پروڈیوسر اور ہدایت کار رمیش بہل کو ہالی وڈ فلم ’دی پرامس‘ کی روایتی کہانیوں سے ہٹ کر رومانی داستان جیسے بھا گئی تھی۔

انہوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ اس کا دیسی ورژن بنا کر ایک ایسی رومانی فلم پرستاروں کو دیں گے، جو اس سے پہلے کسی نے نہیں بنائی ہوگی۔

ان کے علم میں یہ بات بھی آئی کہ دراصل ہالی وڈ کی یہ فلم شہرہ آفاق امریکی خاتون ناول نگار ڈینیئل سٹیل کے اسی نام کے ناول سے ماخوذ ہے۔

قصہ ہے 1981 کا، جب رمیش بہل نے ہالی وڈ فلم سے متاثر ہو کر ’یہ وعدہ رہا‘ بنانے کے لیے کمر کس لی۔ یہ وہ دور تھا جب ہالی وڈ کی فلموں پر بھارتی ہدایت کار ہاتھ صاف کرنے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے تھے۔

دھڑلے کے ساتھ ایسی فلمیں بنائی جاتیں، جن کے سکرین پلے تک ہالی وڈ فلم کی کاربن کاپی ہوتے۔ اسی لیے رمیش بہل کو ایسی کوئی خفت یا شرمندگی نہیں تھی کہ اُن کی اس فلم پر کوئی اعتراض بھی کرے گا۔

عام طور پر فلموں میں دو ہیروئنیں ہوتی ہیں، جن میں سے کوئی ایک کلائمکس میں ہیرو کے حصے میں آتی ہے لیکن اس فلم کی کہانی کے مطابق دو ہیروئنیں تو تھیں، لیکن درحقیقت وہ ایک ہی تھیں۔

ساجیو کپور اور جینت دھرم آدھیکاری نے کہانی ترتیب دی۔ جس کے مطابق ’یہ وعدہ رہا‘ میں دکھایا گیا تھا کہ انٹروول تک ہیرو ایک لڑکی سے محبت کرتا ہے، جو ٹریفک حادثے میں اپنا چہرہ کھو دیتی ہے۔

ہیرو کی سنگ دل والدہ جو پہلے ہی اس رشتے کے خلاف تھی، وہ ہیرو سے جھوٹ بولتی ہے کہ اُس کی محبوبہ دنیا سے کوچ کر گئی لیکن اصل میں وہ زندہ ہوتی ہے، جو بعد میں پلاسٹک سرجری کروا کے ڈرامائی موڑ کے اعتبار سے ہیرو سے آملتی ہے۔

اب چہرہ تو بدل چکا ہوتا ہے لیکن آواز وہی ہوتی ہے۔ یہیں سے کہانی ایک نیا پلٹا کھاتی ہے۔ جس کا انجام بھی دلچسپ ہوتا ہے۔

’یہ وعدہ رہا‘ بھارتی فلموں کی پہلی ایسی فلم بننے جارہی تھی، جس کا موضوع پلاسٹک سرجری تھا۔

رمیش بہل نے کہانی کے بعد مکالمات لکھنے کی ذمہ داری مدن جوشی کو دی۔ رشی کپور کو ہیرو کے طور پر تو منتخب کیا گیا، جو اس وقت تک رومانی فلموں کے پسندیدہ ہیرو تصور کیے جاتے تھے۔

فلم کے پہلے حصے میں ان کی محبوبہ کے طور پر پونم ڈھلون جلوہ گر ہوئیں اور پھر دوسرے حصے کے لیے ٹینا منیم کا انتخاب کیا گیا۔

فلم کے لیے سرمایہ کاری رمیش بہل کی تھی جبکہ ڈائریکشن کپل کپور کررہے تھے۔ موسیقی کے لیے رمیش بہل نے اپنے من پسند موسیقار راہل دیو برمن کی خدمات حاصل کیں جنہوں نے مدھر اور رسیلے گانے کمپوز کرنا شروع کر دیے۔

فلم کی عکس بندی کا آغاز نہیں ہوا تھا کہ ایک نئی پریشانی نے سبھی کی نیندیں اڑا دیں۔ کردار تو ایک ہیں لیکن چہرے دو، تو پھر کس کی آواز استعمال کی جائے۔

یہ مسئلہ سراٹھانے لگا۔ غورو فکر کی محفلیں سجنے لگیں۔ رمیش بہل عجیب سے تذبذب کا شکار تھے۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ دو ہیروئنوں میں سے کس کی آوازکو استعمال کیا جائے۔

کسی نے مشورہ دیا کہ ٹینا منیم پر بھی پونم ڈھلون کی آواز مناسب رہے گی لیکن اس پر رمیش بہل راضی نہ ہوئے۔ ان کا خیال تھا کہ ٹینا منیم کی شخصیت پر پونم ڈھلون کی آواز جوڑ نہیں کھائے گی۔

اب یہ بھی کہا گیا کہ پھر کیوں ناں پونم ڈھلون پر ہی ٹینا منیم کی ڈبنگ کرائی جائے لیکن رمیش بہل اس پر بھی تیار نہیں تھے۔

ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کسی ایک نکتے پر آکر اٹک جائیں تو آگے ہی نہیں بڑھتے جب تک اس کا حل تلاش نہ کر لیا جائے اور اس وقت واقعی عجیب سی دشواری آ پڑی تھی جس کے ذمے دار بھی خود رمیش بہل ہی تھے۔

کیونکہ ہالی وڈ کی فلم میں یہ دونوں کردار ایک ہی اداکارہ نے ادا کیے تھے، جن کے چہرے کے نقش و نگار کو میک اپ سے کھیل کر بدلا گیا اور پھر انٹروول کے بعد فلم میں ان کا اصلی روپ ہی فوکس کیا گیا لیکن رمیش بہل نے ’یہ وعدہ رہا‘ کو کچھ تبدیلی اور جدت کے ساتھ پیش کرنے کا آغاز کیا تھا۔

ٹینا منیم یا پھر پونم ڈھلون؟ اس کشمکش میں فلم کی عکس بندی بھی تعطل کا شکار ہو رہی تھی ۔ اسی دوران رمیش بہل کی ملاقات امیتابھ اور جیا بچن سے ہوئی۔ جن کے سامنے رمیش بہل نے اپنی مشکل کو بیان کیا۔

صلح مشورے کے دوران یہ بات بھی آئی کہ کیوں ناں ٹینا منیم اور پونم ڈھلون کے لیے کوئی تیسری آواز استعمال کی جائے۔ رمیش بہل تو اس پر جیسے اچھل پڑے اور یہ سوچنے لگے کہ اس قدر آسان حل پہلے کیوں ان کے ذہن میں نہیں آیا۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ تیسری آواز کس کی ہو؟ جو دونوں اداکاراؤں کی شخصیت کے ساتھ انصاف بھی کرے۔ جیا بچن سے گفتگو کے دوران ہی رمیش بہل کو نجانے کیا سوجھی کہ انہوں نے جیا بچن کو یہ پیش کش کردی کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ ٹینا منیم اور پونم ڈھلون کے لیے اپنی آواز فلم کو دیں؟

جیا بچن کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ رمیش بہل کی تو سمجھیں ساری پریشانی پل بھر میں دور ہوگئیں، جنہوں نے ایک نئے ولولے، جذبے اور جوش کے ساتھ فلم کی عکس بندی شروع کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلم کی ڈبنگ کا مرحلہ آیا تو جیا بچن وعدے کے مطابق دستیاب تھیں۔ جنہوں نے اپنی آواز کے اتار چڑھاؤ اور تاثرات سے کسی بھی مرحلے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ سکرین پر جو آواز سنائی دے رہی ہے وہ پونم یا ٹینا منیم کی نہیں۔

یوں دو اداکاراؤں پر ایک ہی آواز ایسی فٹ بیٹھی کہ کوئی بھی اس ہیرا پھیری کو پکڑ نہیں سکا۔

پروڈیوسر رمیش بہل کی ’یہ وعدہ رہا‘ جب اپریل 1982میں سنیما گھروں میں سجی تو اس کی اچھوتی اور منفرد رومانی کہانی نے ہر ایک کو متاثر کیا۔

اُس پر راہل دیو برمن کے دلوں کے تار چھیڑتے گانے ’جیسے ایسا کبھی ہوا نہیں،‘ ’مل گئی آج دو لہریں‘ اور ’تو تو ہے وہی دل نے جسا اپنا کہا‘ تو آج تک دل و دماغ کو ترو تازہ جھونکے کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میوزیکل فلم نے باکس آفس پر بھی زبردست کمائی کی۔

 دو اداکاراؤں پر ایک ہی آواز کا تجربہ بعد میں 1999میں امیتابھ بچن کی فلم ’سوریا ونشم‘ میں بھی کیا گیا۔

جنوبی بھارت کی اداکارائیں جے سدھا اور سندھریا چونکہ ہندی بولنے میں دشواری محسوس کرتی تھیں تو ان کے لیے فلم میں کسی اور کی نہیں امیتابھ بچن کی سابق گرل فرینڈ ریکھا کی آواز کا استعمال کیا گیا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی فلم