ڈی این اے تفصیلات اب تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی؟

خاندانی شجرے سے متعلق ایک اورویب سائٹ نے حال ہی میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایف بی آئی کے ساتھ خفیہ تعاون کی بجائے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے تجارتی بنیادوں پرکام کرے گی۔ اس فیصلے پربہت سے لوگوں کوتشویش ہے۔

فوٹو، آئی سٹاک

کئی افراد کے قتل اورمتعدد خواتین کے ریپ سمیت سنگین جرائم میں ملوث ’گولڈن سٹیٹ کلر‘ کہلانے والے بدنام زمانہ مجرم کی گرفتاری کے بعد سے جرائم کی تحقیقات میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔

تفتیش کاروں نے درجنوں پرتشدد اورسرد خانے میں پڑے جرائم کی گتھیاں سلجھانے کے لیے غیرروائتی طریقہ اختیارکیا ہے۔

انہوں نے’ جینیاتی تفصیل‘ پر مبنی ویب سائیٹس پراپ لوڈ کئے گئے ڈی این اے سے مدد لی ہے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق مجرموں تک پہنچنے کے لیے ڈی این اے سے مدد لے کر امریکہ بھر میں سرد خانے میں پڑے مقدمات کی تحقیقات دوبارہ شروع کی جاسکتی ہیں۔

امریکہ میں حل نہ ہوسکنے والے پرتشدد جرائم کی تعداد ایک لاکھ ہے جبکہ 40 ہزارلاشوں کی شناخت کبھی نہیں کی جا سکی۔

بہت سے لوگ ڈی این اے کی مدد سے جرائم کی تحقیقات کو انقلابی قرار دیتے ہیں۔

چھان بین کے اس طریقہ کار کا سہرا زیادہ تر ایسی خواتین اور خاندانی شجروں میں دلچسپی رکھنے والے ایسے افراد کے سرہے جو کئی برس تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قائل کرتے رہے ہیں کہ ان کا طریقہ کارصرف لے پالک بچوں کے حقیقی والدین کا کھوج لگانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے جرائم کی تحقیقات میں بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

اپریل 2018 میں کیلی فورنیا میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حکام نے میڈیا کوبتایا کہ درجنوں سنگین جرائم میں ملوث مجرم کا کھوج لگانے میں ڈی این اے سے مدد لی گئی ہے۔

باربرا رے وینٹرنامی ماہرجینیات نے جائے وقوعہ سے ملنے والے جینیاتی مواد کی تفصیل امریکی ریاست فلوریڈا میں جینیاتی تحقیق کی ویب سائیٹ پراپ لوڈ کی تھی۔

 ستر سالہ باربرا اور ان کی ٹیم کو جلد ہی ایک مشتبہ شخص مل گیا۔

اس مشتبہ شخص کا کھوج خاندانی شجرے اورجینیاتی مواد کی اس تفصیل کی مدد سے لگایا گیا جو اس کے قریبی رشتہ داروں نے فراہم کی تھی۔

اس طرح سابق پولیس افسر جوزف ڈی اینجلو پرقتل اوراغوا کی 26 وارداتوں سمیت ریپ کے درجنوں جرائم کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ جرائم 1970 سے 1980 تک کیلی فورنیا بھر میں کئے گئے تھے۔

تفتیش کارپالز ہولز نے غلط شواہد کے ساتھ ان جرائم کی چھان بین میں برس ہا برس ضائع کیے۔ انہوں نے باربرا کی مدد پربے حد خوشی کا اظہارکیا۔

ماہرجینیات سیسی مور نے باربرا کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے متعارف کرائے گئے طریقے کی بدولت ایک مشکل کیس حل کرنے میں مدد ملی۔

سیسی مور ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے جرائم کا کھوج لگانے میں جینیاتی مواد سے متعلق ویب سائیٹ سے مدد لینے کے طریقہ کار کو مفید قرار دیا تھا۔

انہوں نے تفتیشی حکام کی طرف سے جرائم کی چھان بین میں جینیاتی مواد کی ویب سائیٹ سے مدد لینے کے اعلان کے بعد پیرابون نامی فرانزک فرم کے ساتھ  مل کر کام شروع کردیا تھا۔

فرانزک فرم 49 افراد کے جینیاتی مواد کی شناخت کی جس کی بنیاد پرسرد خانے میں پڑے درجنوں مقدمات دوبارہ کھولے گئے۔ ان مقدمات میں 1987 میں کینیڈا کے نوجوان جوڑے کا قتل، جنوبی کیرولینا میں عصمت دری کے چھ واقعات اور46 برس قبل سٹین فورڈ یونیورسٹی ایک طالب علم کا قتل شامل ہے۔

ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی مدد سے 17 افراد کوگرفتارکیا گیا۔ ان لوگوں میں وہ بھی شامل تھے جن پرکبھی شبہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک پارٹی ڈسک جوکی (ڈی جے) اورپنسلوانیا میں بچوں کو تفریح فراہم کرنے والا شخص قابل ذکرہیں۔

نئے طریق کار کی بدولت گم شدہ اوراستحصال کے شکار بچوں سے متعلق قومی مرکز نے 700 کیسوں کا دوبارہ جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔ ان کیسوں میں ان بچوں کی باقیات بھی شامل ہے جن کی پچھلے 15 برس میں شناخت نہیں کی جاسکی۔

ماہرین جینیات اورتفتیس کاروں کے مطابق پے در پے جنسی حملوں، قتل کے واقعات اورنامعلوم لاشوں کا کھوج لگانے کے لیے مزید 300 کیسوں پرکام ہورہا ہے۔

بعض افراد نے ڈین این اے کے ذریعے جرائم کی تحقیقات کی اخلاقی حیثیت پرسوال اٹھایا ہے۔

انہوں نے اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ  جینیاتی کمپنیوں کے صارفین کو احساس نہیں ہے کہ وہ جرائم کی تحقیقات میں مدد کے لیے جینیاتی مواد کی ویب سائیٹ پررجسٹریشن کرا رہے ہیں حالانکہ GEDmatch.com نے واضح اعلان کررکھا ہے کہ صارفین کی فراہم کردہ تفصیل پرتشدد جرائم کی تحقیقات میں استعمال کی جا سکتی ہے۔

خاندانی شجرے سے متعلق ایک اورویب سائٹ نے حال ہی میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایف بی آئی کے ساتھ خفیہ تعاون کی بجائے قاتلوں کو پکڑنے کے لیے تجارتی بنیادوں پرکام کرے گی۔ اس فیصلے پربہت سے لوگوں کوتشویش ہے۔

بعض لوگ چاہتے ہیں کہ خاندانی جینیاتی تفصیل کی ویب سائیٹس پربھی وہی قواعد وضوابط نافذ کئے جائیں جو امریکی ریاستوں میں سرکاری ڈی این اے ڈیٹا بیس کے لیے ہیں۔

قانون تو ایک طرف، انفرادی سطح پربھی جینیاتی مواد کے تحفظ کے لیے بہت کم رجوع کیا جاتا ہے۔ اگرآپ امریکی شہری ہیں تو ممکن ہے کہ کبھی ڈی این اے ٹیسٹ کرائے بغیربھی کسی معاملے میں آپ کا نام آ جائے۔

جینیاتی مواد کی مدد سے جدید طریقے سے کھوج لگانے والا ایک سراغ رساں دورکے دو رشتہ داروں کے تھوک یا خون کے ذریعے بھی کسی کی شناخت کرسکتا ہے۔

ڈی این اے کے ذریعے خاتون کے کزن کی گرفتاری

ابتدا میں فیس بک پر ملنے والا ایک پیغام بظاہر بے مقصد لگتا تھا۔

ایک اجنبی شخص نے واشنگٹن کے علاقے وینکوور کی رہائشی خاتون برینڈی جیسنگز کا ایک قتل کا معمہ حل کرنے میں مدد پرشکریہ ادا کیا تھا۔

یہ قتل 1979 میں امریکی ریاست آئیووا کے ایک قصبے میں کیا گیا تھا۔ کئی برس بعد اس قتل کا الزام ایک چھوٹے بزنس مین، 64 سالہ جیری لین برنز پرلگایا گیا ہے۔

جیری برینڈی جیسنگزکا دور کا رشتہ ہے لیکن دونوں کی کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔

برینڈی کہتی ہیں کہ اس صورت حال کے بعد مجھے سبق ملا کہ انٹرنیٹ پرکسی تحریرسے اتفاق کرنے سے پہلے اسے پڑھ لینا چاہییے۔

حقیقت میں برینڈی جیسنگز نے خاندانی تفصیل کی ایک ویب سائیٹ پرموجود اپنے خاندان سےمتعلق معلومات کی فائل GEDmatch.com پربھی اپ لوڈ کردی تھی۔

خاتون کی فراہم کردہ معلومات تفتیش کاروں کے لیے مفید ثابت ہوئیں اوروہ کئی برس پہلے ہونے والے ایک قتل کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو گئے۔

برینڈی جیسنگزکہتی ہیں کاش ایک اندھے قتل کے سراغ پر وہ انعام کی حق دارہوتیں۔

مذکورہ کمرشل ویب سائٹ تک رسائی عام آدمی کے لیے بھی ممکن ہے لیکن پہلے رجسٹریشن کے ایک مختصر عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی