انسان خطرے کا اندازہ لگانے میں اتنا برا کیوں؟

اگر آپ ہر ہفتے ایک لاٹری ٹکٹ خریدتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ جیک پاٹ جیتنے کی بجائے اپنے گھر میں کسی اجنبی کے ہاتھوں مارے جائیں گے لیکن اس کے باوجود آپ ٹکٹ خریدنے سے باز نہیں آتے۔ روزمرہ زندگی میں خطرے کو دیکھنے کے پیچھے کون سی نفسیاتی وجوہات ہیں؟

’قیامت کی گھڑی‘ کے پیچھے کام کرنے والے سائنس دان کہتے ہیں کہ اس وقت ہم آدھی رات سے صرف ایک سو سیکنڈ دور ہیں (اے ایف پی)

دفتر برائے قومی شماریات کے مطابق برطانیہ میں گذشتہ سال ہر دس لاکھ لوگوں میں سے 12 افراد قتل ہوئے جو وبا کے متاثرین سے ہٹ کر مکمل الگ گروہ ہے۔

اگرچہ کاروباری خدمات فراہم کرنے والے اشتہارات میں کہا جاتا ہے کہ ماضی کی کارکردگی مستقبل کی کارکردگی کے لیے لازمی پیمانہ نہیں، اس کا مطلب ہے ایک سادہ سے اندازے کے مطابق آپ کو کسی مخصوص دن پر قتل ہونے کے ففٹی ففٹی چانس کے لیے 40 ہزار سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔

اگر آپ تنہا رہتے ہیں تو انتظار کے ان لمحات کو دگنا کر سکتے ہیں کیونکہ تقریباً نصف قتل ساتھ رہنے والے لوگوں کے ہاتھوں سر انجام پاتے ہیں۔

خواتین میں سے متاثرین کی واضح طور پر بڑی تعداد اپنے مرد ساتھیوں کے ہاتھوں موت کا شکار ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جرائم کے نتیجے میں موت یا بلکہ مہلک چوٹ تک کے خدشات کا اندازہ تقریباً ہر فرد حقیقت سے زیادہ لگائے پھرتا ہے۔

دفتر برائے قومی شماریات کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ آبادی کا دس فیصد سے زائد حصہ آئندہ سال خود کو کسی جرم کا شکار ہوتا دیکھتا ہے جبکہ اوسطاً کل آبادی کے ایک فیصد کا بھی تیسرا حصہ عملی طور پر طرح متاثر ہوتا ہے۔ کم سے کم اندراج شکایات کے پیش نظر حقیقت کی نسبت خطرے کا متوقع خدشہ 30 گنا زیادہ ہے۔

اس کے برعکس جوہری جنگ کے نتیجے میں موت کا خدشہ ہر لمحے موجود ہے اور جوہری سائنسدانوں کے بلیٹن کے مطابق ماضی قریب میں یہ بڑھ کر اس سطح پر آ گیا ہے جہاں قیامت کی گھڑی آدھی رات سے 100 سیکنڈز کے فاصلے پر ہے۔

قیامت کی گھڑی محض ایک گھڑی نہیں بلکہ صفر سے 43 ہزار دو سو تک کا ایک عددی پیمانہ ہے جہاں صفر کا مطلب ہے کہ سب ٹھیک ہے اور 43 ہزار دو سو کا مطلب ہے دنیا کا خاتمہ۔

ہم اس وقت 43 ہزار ایک سو پر ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ یہ ویسا مواد نہیں جو جرائم کے اعداد و شمار تیار کرنے کے لیے بال کی کھال اتارنے والے بیوروکریٹ قانونی طور پر تصدیق شدہ اموات کے سرٹیفکیٹوں کے ڈھیر سے اکٹھا کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ان لوگوں کے بامعنی تجزیے کا نتیجہ ہے جو اپنے موضوع پر مہارت رکھتے ہیں۔

جنوری 2020 میں سائنس دانوں نے خطرے کا تعین شدید کر دیا کیونکہ برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے منصوبوں میں توسیع کی۔ لیکن بجائے یہ کہ لوگ ہیبت زدہ ہوں اس اعلان کو (اور جوہری پھیلاؤ اور دنیا میں سر اٹھاتی نئی کشمکش کے زیریں حقائق کو) عام طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔

یہ خبر میگن مارکل کی شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری اور خطرے کے محاذ پر کیلیفورنیا کی ایک پہاڑی سیرگاہ پر دو سکیئرز کی برفانی تودے سے موت کے نیچے دب گئی۔

اس جائزے سے بے اعتنائی کی ایک وجہ شاید گھڑی کے اپنے اشارے میں پوشیدہ تھی۔ سائنس دانوں نے اپنے پاس موجود بیان کا اختتام اس طرح کیا کہ ’آدھی رات بجنے میں 100 سیکنڈز باقی ہیں۔

بیدار ہو جاؤ!‘ رات کے وقت بیدار ہونا انتہائی نامناسب ہے۔ اگر لوگ پہلے ہی سو نہیں چکے تھے تو آدھی رات کو سو گئے۔ انتباہ کو نظر انداز کرتے اور قیامت کے دن کی گھنٹی پر ’سنُوز‘ بٹن دباتے ہوئے ہر کسی نے ہوبہو ایسا ہی کیا۔

ایسا لگتا ہے کرونا کی عالمی وبا نے عوامی تاثر سے وابستہ فوری نوعیت کے دو مسائل نمایاں کیے ہیں جو حیرت انگیز طور پر دنیا کی سائنسی تفہیم میں تیز رفتار اضافے کے ساتھ بڑھے ہیں۔

پہلا یہ کہ اپنا مخصوص شعبہ جس میں مہارت حاصل ہو اس سے ہٹ کر کسی خطرے کا اندازہ کرنے میں لوگوں کی دشواری، دوسرا یہ کہ خطرے کو جانچنے کے لیے نظریہ احتمال  probability theory کی نوعیت اور سائنسی طریقہ کار سمجھنے میں لوگوں کی ناکامی، بالخصوص عوامی صحت کے شعبے میں۔ 

یہ بات کچھ ایسی باعثِ حیرت نہیں کہ ایک ایسی صورت حال بہت تیزی سے ہمارے ذاتی اختیار سے نکل گئی جس میں چیز بری طرح الجھی ہوئی ہے۔ ایک وقت تھا جب لکھنے کے لیے میں ایک قلم اور صفحہ استعمال کرتا تھا۔

میں کم و بیش واضح کر سکتا تھا کہ یہ چیزیں کیسے کام کرتی ہیں اور بلکہ یہاں تک کہ میں کبوتر کے پر سے قلم اور کوئلے کی راکھ میں پانی ملا کر کام چلانے کے لیے ایک متبادل بھی خود تیار کر سکتا تھا۔

اب میں موبائل فون کے ذریعے لکھتا ہوں اور مجھے کچھ پتہ نہیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں۔ اگر کسی اہم مرحلے پر میرا فون خراب ہو جائے یا عارضی طور پر بیٹری ختم ہو جائے تو میں ٹین کے دو ڈبوں اور ایک ڈور کے ٹکڑے کے استعمال سے کام چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

بہت ساری چیزوں کی طرح ایسا لگتا ہے میرا فون کسی قسم کے جادو سے چلتا ہے یا ممکن ہے واقعی ایسا ہو۔

پرامید رہتے ہوئے زندگی کو بدلنے والے مختلف واقعات کے اثرات کا اندازہ نہ لگا سکنے کی وجہ ان کا کثرت سے وقوع پذیر ہونا ہے۔ برطانیہ کی قومی لاٹری میں جیک پاٹ جیتنے کے امکانات ساڑھے چار کروڑ کے مقابلے پر ایک ہیں اور اس کھیل میں شمولیت کے لیے ڈھائی پاؤنڈ خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

اگر باقی چیزیں ویسی ہی رہیں اور آپ پینتالیس ملین ٹکٹس خرید لیں تو آپ کو سبھی 4.4 کروڑ جیک پاٹ جیتنے کا یقین ہو گا۔ لیکن اس کے لیے آپ کو سوا 11 کروڑ پاؤنڈ خرچ کرنے پڑیں گے جس کا نتیجہ 10 کروڑ پاؤنڈ سے معمولی کم نقصان کی صورت میں نکلے گا۔

کامیابی کے منطقی امکان کے پیشِ نظر جیک پاٹ کا ایک ٹکٹ خریدنے کی رقم کسی نہایت لالچی تاجر سے پانچ پاؤنڈ کے نوٹ خریدنے کے مماثل ہے جو ایک نوٹ 40 پاؤنڈ کا بیچ رہا ہے۔

اگر آپ تمام رنر اپ پرائز بھی لے لیں تو لاٹری منتظم کیملاٹ تسلیم کریں گے کہ ٹکٹوں کے لیے آپ کے خرچ کردہ ہر پاؤنڈ کے بدلے آپ محض 40 پینس جیتنے کی امید رکھتے ہیں۔ کیملاٹ کہتے ہیں کسی ٹی وی شو میں شامل ہونے کے لطف کے سامنے 50 پینس کے نقصان کی کوئی حیثیت نہیں جو ویسے بھی کسی خیراتی کام میں استعمال ہو گی۔

لیکن اسی بات کو ایک مختلف انداز میں دیکھنے سے واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ ہر ہفتے ایک لاٹری ٹکٹ خریدتے ہیں تو جیک پاٹ کے ففٹی ففٹی جیت کے امکان تک پہنچنے کے لیے آپ کو 2.3 کروڑ سال جینا پڑے گا اور تب تک آپ اپنے گھر میں کسی اجنبی کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتر چکے ہوں گے (اوپر ملاحظہ کیجے)۔ تو اس کے متعلق سوچا ہی کیوں جائے؟

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق ممکنہ توقعات سے بھی کم وقوع پذیر ہونے والے لاٹری نکلنے جیسے مثبت واقعات کی طرف ہمارے جھکاؤ کے پیچھے گہری شعوری وجہ موجود ہے۔

اس لیے مارکیٹ میں کسی شخص کو اخبار فروش سے ایک ہاتھ میں لاٹری ٹکٹ اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ کی ڈبی خریدتے دیکھنا انہونی بات نہیں۔

سگریٹ نوشی سے موت یا پھیپھڑوں کی بھیانک بیماری کا شکار ہونے والے افراد کی شرح تقریباً 10 میں سے ایک ہے۔ چند انتہائی محتاط جائزوں کے مطابق سگریٹ نوشوں کے پھیپھڑوں کو سانس لینے میں دشواری کے مسئلے کا تناسب ففٹی ففٹی ہے۔

امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ماہر معاشیات ڈینیئل کانیمن نے زیادہ تر تحقیق کی بنیاد شعوری جھکاؤ یا تعصبات پر رکھی جو ہمارے مستقبل کے بیشتر معاشی فیصلوں کے طریقہ کار میں فائدے یا خطرے کی ذاتی تفہیم کا تعین کرتے ہیں۔

ان کے اخذ کردہ نتیجے کے مطابق لوگوں کا اپنے فائدے اور نقصان کے متعلق ذاتی اندازہ بالعموم حقیقت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔

یہ ان ماہرین معاشیات کے لیے چونکا دینے والی خبر تھی جن کے خیال میں بغیر مداخلت اگر لوگوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اپنے حالات بہتر کرنے کا بالکل صحیح راستہ ڈھونڈ نکالیں گے۔

2002 میں کانیمن کو اپنے نظریے ’فاسٹ سلو تھنکنگ‘ پر نوبیل پرائز ملا جو اب یہ سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کہ عوام خطرے کا ادراک کیسے کرتی ہے۔

کانینمن اور ان کے پیروکار اپنا معاشی علم ارتقائی حیاتیات، نیورولوجی اور طرزِ عمل نفسیات سے برآمد کرتے ہیں۔ انسانوں نے بیرونی ماحول کے ہاتھوں مہلک خطرات کے کئی سلسلوں کا سامنا کیا ہے۔

ارتقائی مراحل میں موت سے بچاؤ کسی بھی قسم کے فائدے، لطف یا ترقی کے مقابلے کہیں زیادہ اہم رہا اور یہ بات سبھی باشعور  جانوروں پر صادق آتی ہے۔

اس لیے کسی بھی خطرے کی ہلکی سی بیرونی چاپ سنتے ہی ہمارا پہلا ردعمل چونکنا یا خوفزدہ ہونا ہے۔ ہمارے سوچنے کے عمل میں یہ چیز سب سے پہلے آتی ہے جسے کانیمن ’نظامِ اول کی سوچ‘ کہتے ہیں۔ یہ بیکار نہیں ہے۔ یہ انتہائی مفید ہے۔

جب بیرونی حرکت کی آواز ناموس یا پرخطر ہو، جیسے آدھی رات کو حملے کی کہاوتی مثال، تو نظام اول خود بخود ہماری ساری توجہ ممکنہ حملے کے خطرے پر مرکوز کر دے گا اور مقابلہ کرنے یا بچ نکلنے کے لیے جسم کو فوراً ایڈرینالین ہارمون سے بھر دے گا۔

اس کے فوراً بعد ہمارے ذہن میں ’سلو‘ یا ’سسٹم ٹو‘ کام کرنا شروع کرے گا۔ سسٹم ٹو کی حالت میں ایڈرینالین کی سطح نہایت تیزی سے کم ہو جائے گی اور انسان صورت حال کا جائزہ بلکہ نظریہ احتمال کے قوانین بھی لاگو کرنے کے قابل ہو جائے گا۔

نظام دوم سوچنے کا زیادہ با اختیار اور ٹھوس قسم کا عمل ہے جس کی باگ ڈور عقل کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور جس کے لیے زیادہ دماغی توانائی درکار ہوتی ہے۔

آپ بے ضرر وجوہات سے سوچنا شروع کریں گے کہ آپ رات کو ناقابل وضاحت شور کیوں سنتے ہیں، پھر آپ بیتے دنوں میں پیش آنے والے ایسے تجربات اور ان کا سبب یاد کریں گے کہ ویسے حالات میں کسی کا نقصان پہنچانے آنا بالکل ہی ناممکن ہے۔

 دماغ کی جسمانی ساخت اور ارتقائی مراحل میں اس کی نشوونما کے درمیان تعلق کو کانیمن کے طرز عمل نظریات بہت عمدگی سے واضح کرتے ہیں۔ نظام اول کی سوچ کا تعلق برین سٹیم کے نزدیک بادام جیسی دو جگہوں سے ہے جہنیں امیگڈلا کہا جاتا ہے، جو اس وقت تیار ہوئیں جب ہمارے آباؤ اجداد رینگا کرتے تھے۔

یہ کسی بیرونی چیز کی ذاتی دائرے میں دخل اندازی سے آگاہ کرتا ہے اور لڑنے یا بھاگ جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب دماغ کا یہ حصہ حاوی ہو تو ہماری حالت اپنے رینگنے والے آباؤ اجداد جیسی ہو جاتی ہے جس میں ہم تھوڑے فاصلے پر اپنے سے بڑی رینگے والی کسی نامانوس چیز کی موجودگی کا خوف محسوس کرتے ہیں لیکن چند قدم دور پڑے تابکاری کے کوڑے کے ڈھیر جیسی کسی مہلک چیز سے مکمل بے خبر یا لاپروا ہوں گے۔

ہمارے قدیم آبا و اجداد نے میدانوں میں بڑے جانوروں کا شکار بننے کا لگاتار خطرہ محسوس کیا۔ لمبی گھاس میں ہلکی سی سرسراہٹ کا سبب 100 میں سے 99 مرتبہ ہوا کا جھونکا ہی ہو گا۔ لیکن سو میں سے ایک مرتبہ یہ شکاری ہو سکتا ہے۔

شاخوں سے پیدا ہونے والی ہر مبہم سرسراہٹ سے خوفزدہ ہونا ممکن ہے جینے کا مشکل اسلوب ہو لیکن ارتقائی طرز عمل میں چیتے یا کسی اور بےرحم شکاری جانور کے خفیہ حملے سے چوکس رہنے کے لیے یہ معمولی قیمت ادا کرنا پڑی ہو گی۔

سابقہ ارتقائی مراحل کی یہ باقی ماندہ حالت آج ہمارے لیے ایک مسئلہ ہو سکتی ہے۔ یہ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کے حد سے زیادہ خطرے سے دوچار کر دیتی ہے جو بنیادی طور پر آج کل ہوتی ہی نہیں جیسا کہ کسی بالکل اجنبی کے ہاتھوں قتل ہو جانا یا جانوروں کے ریوڑ میں کچلے جانا۔

یہی حالت ایسے خطرات کو معمولی بنا کر پیش کرتی ہے جو ہمارے آبا و اجداد کے دور میں تھے ہی نہیں لیکن آج بہت زیادہ ہیں جیسا کہ کار چلاتے ہوئے موبائل فون پر فٹبال میچ دیکھنا، سگریٹ نوشی سے پھیپھڑے تباہ کرتے ہوئے موت سے دوچار ہو جانا یا جوہری ہتھیاروں کا نشانہ بننا۔

  انسانی دماغ کی جو شکل رینگنے والے جانوروں میں تھی، اسی پر ممالیائی دماغ کی تہہ چڑھی جس کا مقصد بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش تھا۔ دماغ کا یہ حصہ رینگتے ہوئے عہد کی جبلت میں اپنی بقا کے لیے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی دیکھ بھال کا اضافہ کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کے تحفظ کے متعلق غیر حقیقی ڈر اور بے چینی میں مبتلا ہو جاتے ہیں جبکہ کسی جنگ یا قحط میں دوسرے لوگوں کے افراد خانہ یا بچوں کی موت کی بات ہو تو انہیں بہت معمولی پرواہ ہوتی ہے۔

بالآخر انسانوں نے اپنے دماغ کے اوپر ایک باریک اور نازک تہہ تیار کر لی جسے سریبرل کورٹیکس کہتے ہیں۔ یہ زبان، مخصوص انسانی شعور، تخیل اور مستقبل بینی کی صلاحیتیں پیدا کرتی ہے اور اس میں نظام دوم کے تحت فرضی صورت حال کی تشکیل اور خطرات کو بھانپنا بھی شامل ہے۔

دماغ کا حصہ سیریبیلم بہت آسانی سے رینگنے والے دماغ سے خارج ہونے والے کیمیکلز سے مغلوب ہو کر کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔

اس لیے مثال کے طور پر اگر آپ کبھی رات کو اپنے پیچھے غیر معمولی سایہ دیکھیں یا قدموں کی چاپ سنیں تو آپ سمندروں کی بلند ہوتی ہوئی سطح یا زمین پر شہابِ ثاقب کے ٹکراؤ کے اثرات کے متعلق سوچنا چھوڑ کر فکر مند ہو جاتے ہیں کہ ایک کلہاڑی بردار پاگل قاتل آپ کا پیچھا کر رہا ہے جو آپ کو قتل کر کے آپ کو اور آپ کے بچوں کو کھانا چاہتا ہے۔

ایسی حالت کے نام سے معروف ہے اور یہ اصطلاح ڈینیئل گولڈمین نے 1996 میں آنے والی کتاب Emotional Intelligence: Why It Can Matter More Than IQ میں متعارف کروائی۔

یہ غیر ارادی لیکن فائدہ مند ارتقائی رجحان کہ قاتل یا ہر اندھیرے کونے میں خوف ناک سانپوں کے بسیرے کا خوف اضطرابی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور بصورت دیگر پیچیدہ نفسیاتی کیفیات جس طرح کھلے مقامات پر جانے کا بلاوجہ خوف اگوروفوبیا، بالخصوص اگر ایمگڈلا زیادہ فعال ہے یا ہارمونز کو کنٹرول کرنے والا اس کا نظام خراب یا کسی طرح کمزور ہو چکا ہے تو یہ کم از کم جزوی طور پر اس کی ممکنہ توضیح پیش کر سکتا ہے۔

برطانیہ میں ہر پانچ میں سے ایک فرد اضطرابی بیماری کا شکار ہے جس میں اگوروفوبیا بھی شامل ہے۔ اس کا عام علاج نفسیاتی علاج یا cognitive behavioural therapy ہے جہاں مریض کو نظام دوم کے استعمال سے ’سلو‘ تھنکنگ کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے خوف کو سیاق میں جا کر دیکھ سکیں۔

جسمانی دماغی عوارض کے ساتھ ساتھ خطرے کا پریشان کن حد تک احساس صحت کے لیے انتہائی مفید بھی ہو سکتا ہے۔ ماہر نفسیات جسٹن بیرٹ اس تیزی سے پھیلتے مسئلے کوHyperactive Agency Detection کا نام دیا ہے، یعنی وہ موروثی رجحان جس کے تحت قدرتی مظاہر کو سوچے سمجھے مقصد سے منسوب کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس کے پیچھے کوئی مقصد یا ذہانت کارفرما نہیں ہوتی۔

اس وقت بہت سے نظریات گردش کر رہے ہیں جن کی کوئی سر پیر نہیں، مثلاً یہ کہ کرونا وائرس خدائی طاقت کا پیدا کردہ ہے جو انسانوں کو سزا دینا چاہتا ہے، چین کے کمیونسٹ جو کسی وجہ سے دنیا کی معیشت تباہ کرنا چاہتے ہیں، منشیات فروش کمپنیاں جو کسی طرح ویکسینوں سے مال بنانا چاہتی ہیں۔

اگرچہ حالات یہ ہیں کہ یہ مرض زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں پھیلا ہے جہاں ویکسین کی ضرورت ہے مگر خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔

اگرچہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کیمیائی آلودگی یا گاڑیوں کے حادثات جیسے عہد جدید کے خطرات یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بس یہ ہے کہ ہم نظام اول کی وہ جبلی شدت نہیں رکھتے جو ہم زہریلی مکھیوں کے جھنڈ یا گلی میں پیچھا کرنے والے گوریلوں کے غول جیسے غیر متوقع واقعات میں اپناتے ہیں۔

عوامی میڈیا ڈرامائی لیکن بہت ہی انہونے موت یا حادثے کے واقعات پر زور دیتے ہوئے ایک اور طرح سے حقائق کو مسخ کرتا ہے۔ مثلاً ’کھاد کے کارخانے میں سٹوریج ٹینک کو احمقانہ طور پر آگ کے قریب رکھنے سے دھماکہ‘ اور ’کسی آدمی نے کتے کو کاٹ لیا‘ جیسی مثالیں۔

ایسی چیزیں ہمیشہ خبر بنتی ہیں۔ ہارورڈ میڈیکل جرنل نے ایسے کئی واقعات کی نشاندہی کی ہے جب خطرے کی غلط پیشن گوئیاں عوامی پریشانی کا سبب بنیں۔

مثال کے طور پر تابکاری کے بڑھتے ہوئے خطرے میں پوٹاسیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں گلے کے کینسر سے بچاتی ہیں، اس خبر نے 2010 میں فوکوشیما ڈائچی کے جوہری حادثے کے بعد امریکہ کی عوام میں بے چینی پیدا کر دی کہ وہ دواخانوں سے جا کر یہ دوا خریدیں، حالانکہ ملک میں تابکار آلودگی میں کسی قسم کا اضافہ ہوا تھا نہ ہی کسی طرح کا خطرہ تھا۔

ماضی میں سوشل میڈیا کے ابتدائی دور میں لوگ کی ایک بڑی تعداد واقعات کے سرکاری ذرائع پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتی نظر آتی تھی، ممکنہ طور پر وہ جنہوں نے پوٹاسیم آئیوڈائیڈ خریدی تھیں اور اب خود کو زیادہ ہی بے وقوف سمجھ رہے تھے۔

لیکن بہت جلد شکوک و شبہات کے بادل چھٹتے گئے کیونکہ عوام نے معلومات کے سرکاری ذرائع پر یقین کرنا شروع کر دیا، خطرے کی سوجھ بوجھ پر اثر انداز ہونے والے ایسے مخصوص 14 فلٹرز جو بکثرت استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک کا ماڈل ہارورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ سے وابستہ ڈیوڈ روپیک کا تیار کردہ ہے۔

روپیک کے مطابق لوگ جن مخصوص قسم کے خطرات سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں ان کے متعلق اداروں کی معلومات یا تنبیہہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ساکھ بہت اہم ہے۔ اگر سرکاری ذرائع نے ماضی میں کسی خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے مثال کے طور پڑوسی ممالک کی طرف سے حملے کا بار بار انتباہ جو وحشی بھیڑیوں جیسے ہیں لیکن جب بھیڑیوں کے حملے کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گا تو سبھی تنبیہات نظر انداز کر دی جائیں گی۔

اس مسئلے نے ماحولیات کو بہتر اور دنیا کو سرسبز بنانے کے لیے مہم چلانے والے کئی لوگوں یا جوہری توانائی کے مخالفین کو بہت نقصان پہنچایا ہے جو بار بار کئی نسلوں کو تباہ کن خطرات سے خبردار کرتے چلے آ رہے ہیں۔

لوگ رویے کے مطابق ڈھل جاتے ہیں کہ اگرچہ وہ 80 منزلہ فلک بوس عمارت کی بلندی سے ابھی گر چکے ہیں لیکن زمین تک تو نہیں پہنچے سو کیوں نا ابھی لیٹا جائے اور مستقبل کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

سرکاری ذرائع کے متعلق بڑے پیمانے پر شکوک و شبہات کی تاریخ شاید سرد جنگ کے زمانے تک پھیلی ہوئی ہے جب برطانوی حکومت نے ’پروٹیکٹ اینڈ سروائیو‘ کے نام سے سرکاری ہدایت نامہ جاری کیا، جس میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ٹارگٹ زون میں شرافت سے رہتے ہوئے اور اپنے سروں پر کاغذی بیگ رکھتے ہوئے آپ جوہری حملے کے اثرات کم کر سکتے ہیں۔

ماڈل کے مطابق خطرے کے غیر حقیقی اندازے کی وجہ تخیل یا تخلیق کی صلاحیت ہے بالخصوص جب خطرات نامعلوم یا ناقابل فہم ہوں۔

تاہم ایسے خطرات جو خاص طور پر ڈراؤنے لیکن انتہائی شدید ہوں جیسا کہ زندہ دفنایا جانا یا اس میں گوشت خور کیڑے مکوڑوں کے ہاتھوں کھایا جانا، یہ سب غیر حقیقی دھمکیاں ہیں بہ نسبت امیگڈلا کے فعال ہونے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے پرلطف خطرات یا پرجوش سرگرمیوں کے، مثال کے طور پر نمکین سنیکس کھانا، کثرت مے نوشی، منشیات کا استعمال، غیر محتاط جنسی عمل یا رات کے وقت ریسنگ کار کی بتیاں بجھا کر سن گلاسز لگا کر چلانا یا ان چیزوں کا کسی بھی طرح کا کمبینیشن۔

دوسرے لفظوں میں ہفتے کی ایک معمول کی شام آنجہانی ہنٹر ایس ٹامسن کے انداز میں موج مستی کرتے ہوئے گزارنا۔

تفریحی عنصر کے ہاتھوں خطرے کے تاثر کو مسخ کرنے کی ایک اور واضح مثال مقبول نیٹ فلیکس سیریز ’ٹائیگر کنگ‘ کے نتیجے میں امریکہ کے سفید فام غریب مزدوروں کی سرگرمیاں ہیں، مثلاً تالاب سے کیٹ فش پکڑنے، مگرمچھ کے شکار اور فاقہ زدہ سرکش جانور کے پنجرے میں داخل ہونے کے لیے بارود کا استعمال۔

خطرے کے غلط تعین سے متعلق انتہائی اہم واقعہ جو  ٹائیگر کنگ کے جو ایگزوٹک کے پارک میں چوکیدار کیلسی سیفری کا طرز عمل تھا جس کی نیٹ فلیکس پر تشہیر کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیتوں سے محبت کے شوق میں انہوں نے حملے کے خطرے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور اس کے نتیجے میں اپنے ایک بازو سے محروم ہو گئے۔

سماجی رویے اور مذہبی تصورات بھی خطرات کے تاثر پر اثر انداز ہوتے ہیں جو بالعموم خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں یا خطرے کے احساس کو الٹ پلٹ کر دیتے ہیں۔

برطانیہ میں اس قسم کے مذہبی تصورات میں کمی کے باوجود کم از کم ماہرین سماجیات کے مطابق بڑے پیمانے پر اس کی جگہ ’کرم‘ جیسے توہم پرستی کے نظریات نے لے لی ہے۔

یہ خیال اب بہت عام ہے کہ اگر آپ زندگی کے کسی ایک معاملے میں بدقسمتی کا شکار ہونے ہیں تو یہ نیشنل لاٹری جیتنے کے امکانات گھٹا دیتا ہے کیونکہ کائنات پر ادھار ہے کہ وہ آپ کو اس کے بدلے میں اب جیتنے کا موقع دے۔

افسوس کہ بہت سے واقعات میں اس سے بالکل متضاد صورت حال پیش آتی ہے۔ اگر آپ کبھی کار کے حادثے کا شکار ہو چکے ہیں تو بہت زیادہ امکان ہے کہ دوبارہ آپ کار کے حادثے کا شکار ہوں گے۔ یہ وہ بات ہے جسے کوئی بھی انشورنس کمپنی اچھی طرح جانتی ہے۔

یہی بات عالمی وباؤں پر صادق آتی ہے۔ ممکن ہے آپ کو لگتا ہو کہ موجودہ وبا کی صورت میں ہم نے اپنے حصے کا اچھا خاصا دکھ بھگت لیا اس لیے قسمت، نیچر ماں یا دیوتا ہمیں دوبارہ اس ساری صورت حال سے دوچار نہیں کریں گے اس لیے ہم پرسکون ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کا اس طرح سوچنا بالکل قابل فہم ہے۔ مگر یہ انتہائی خطرناک ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس